سندھ کے عوام کا سیاسی شعور دیگر صوبوں سے زیادہ ہے، اپنے فیصلے خود کرنے کا پورا حق حاصل ہے: اعزاز سید

اعزاز سید

سینیئر صحافی اور معروف سیاسی تجزیہ کار اعزاز سید نے کہا ہے کہ سندھ کے عام شہریوں کا سیاسی شعور اور سیاسی سمجھ بوجھ دیگر صوبوں کے عوام کی بنسبت بہت زیادہ ہے۔ جیو نیوز کے پروگرام رپورٹ کارڈ میں انہوں نے واضح کیا کہ سندھ کی تقسیم یا اس کے انتظامی ڈھانچے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا فیصلہ کرنا صرف اور صرف وہاں کے عوام کا حق ہے، پنجاب یا کسی اور صوبے کے لوگ وہاں کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔

پروگرام میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اعزاز سید نے بتایا کہ انہیں سندھ کے تقریباً 95 فیصد اضلاع میں رہنے اور وہاں کے سیاسی و سماجی ماحول کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا ہے۔ اس تجربے کی روشنی میں وہ یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ سندھ کا عام شہری سیاست کو بہت بہتر انداز میں سمجھتا ہے۔

اعزاز سید کا کہنا تھا کہ سندھ کے عوام کے پاس سیاسی جماعتوں کے انتخاب کے اختیارات کافی محدود ہیں۔ وہاں پاکستان پیپلز پارٹی ہی مرکزی سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے اور دیگر جماعتوں کی گنجائش کم ہے، مگر اس کے باوجود عام سندھی اپنے حقوق اور صوبائی مفادات کے تحفظ کے معاملے میں مکمل طور پر باخبر ہے۔

عوامی دباؤ اور پیپلز پارٹی کا موقف

سینیئر صحافی نے کہا کہ جب کینالز کا مسئلہ سامنے آیا تو عام سندھیوں نے اپنی نمائندہ جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو مجبور کیا کہ وہ وہی موقف اختیار کرے جو عام عوام کا ہے۔ سندھی عوام اپنی زبان، ثقافت اور دھرتی سے گہرا پیار کرتے ہیں۔ قیام پاکستان سے پہلے کی تاریخ بھی اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی سندھ کی حیثیت کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی، وہاں کے عوام نے سخت ردعمل دیا۔

انہوں نے سندھ اسمبلی کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی قیادت جو باتیں کر رہی ہے، وہ دراصل عام سندھی کے جذبات کی ترجمانی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی باتیں بہت جاندار اور اثر انگیز ہیں، کیونکہ پیپلز پارٹی اس وقت اپنے ذاتی سیاسی بقا اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے کی جنگ بھی لڑ رہی ہے۔

اعزاز سید نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کا یہ بیانیہ کہ "ہم سندھ کو نہیں توڑنے دیں گے اور اس کے لیے اپنی وزارتی اور سیٹیں بھی قربان کرنے کو تیار ہیں”، دراصل خود کو عام سندھی کے موقف کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ کرنے کی کوشش ہے۔

پنجاب اور دیگر علاقوں سے آنے والی آراء کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں پنجاب میں لوگ بیٹھ کر یہ مشورے دیتے ہیں کہ سندھ کو اپنے انتظامی امور یوں چلانے چاہئیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایسے فیصلے لاہور یا اسلام آباد میں بیٹھ کر نہیں کیے جا سکتے۔ سندھ کے لوگوں کو خود یہ فیصلہ کرنے کا حق ہے کہ وہ اپنے صوبے کو کیسے چلانا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں: