مصنوعی ذہانت انسانیت کے لیے ’وجودی‘ خطرہ بن سکتی ہے، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ کا انتباہ

مصنوعی ذہانت

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طاقت مستقبل میں انسانیت کے لیے ایسا خطرہ بن سکتی ہے جس سے پوری انسانی نسل کو خطرہ لاحق ہو۔

انہوں نے دنیا کے ممالک اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال اور ترقی کے لیے فوری طور پر سخت حفاظتی اصول وضع کیے جائیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

وولکر ترک نے یہ بات جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کا یہ خطاب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ کی حیثیت سے ان کی دوسری چار سالہ مدت شروع ہونے سے قبل ہوا۔ وہ جولائی میں دوسری مدت کے لیے منتخب ہوئے تھے۔

ترک نے کہا کہ انہیں مصنوعی ذہانت کے ماہرین اور ٹیکنالوجی کی صنعت سے وابستہ افراد کے ان خدشات سے اتفاق ہے کہ جدید اور انتہائی طاقتور اے آئی انسانیت کے لیے ’وجودی خطرہ‘ بن سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کو مصنوعی ذہانت کی حفاظت اور سلامتی کے لیے ایسے مضبوط اور ناقابل تردید حفاظتی انتظامات کرنے کی ضرورت ہے جو اس ٹیکنالوجی کو خطرناک حد تک بے قابو ہونے سے روک سکیں۔

اے آئی کے خطرات کیا ہیں؟

خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق، ترک نے مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے تمام ممکنہ خطرات کی تفصیل بیان نہیں کی، تاہم ان کے دفتر کی ایک ترجمان نے کہا کہ طاقتور اے آئی نظاموں میں خرابی یا ان کا غلط استعمال اہم بنیادی ڈھانچے، مواصلاتی نظام اور جمہوری اداروں کو متاثر کر سکتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مستقبل میں مصنوعی ذہانت ایسے نظاموں کو کنٹرول کرنے لگے جو بجلی، پانی، مواصلات، بینکاری یا دیگر اہم خدمات فراہم کرتے ہیں تو کسی سنگین خرابی یا غلط استعمال کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

اسی طرح جمہوری نظام بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے جعلی معلومات، جعلی تصاویر اور ویڈیوز، سیاسی پروپیگنڈا اور بڑے پیمانے پر گمراہ کن مواد تیار کیا جا سکتا ہے، جس سے عوام کے لیے سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

ترک نے خبردار کیا کہ اس وقت مصنوعی ذہانت کی طاقت پر بہت کم تعداد میں لوگوں کا غیر معمولی اثر و رسوخ ہے۔ انہوں نے کسی فرد یا کمپنی کا نام لیے بغیر کہا کہ چند افراد کے پاس اے آئی پر تقریباً لامحدود طاقت موجود ہے۔

دنیا کی بڑی اے آئی کمپنیوں میں اوپن اے آئی، گوگل، میٹا اور اینتھروپک شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے کہا کہ کم از کم ان ممالک کو، جہاں مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور جو ممالک اس ٹیکنالوجی کی سپلائی چین کا حصہ ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایسی واضح حدود مقرر کرنی چاہئیں جنہیں اے آئی کے استعمال میں عبور نہ کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں آزادانہ طور پر تصدیق کرنے کا نظام بھی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان سکیورٹی کے حوالے سے تعاون کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

ترک نے یہ بھی کہا کہ مصنوعی ذہانت کے انسانی حقوق پر اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس ٹیکنالوجی کے روزگار، جمہوریت اور ماحول پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

جولائی کا واقعہ بھی تشویش کا باعث

ترک کے دفتر نے جولائی میں پیش آنے والے ایک واقعے کا بھی حوالہ دیا، جس میں اوپن اے آئی کے اے آئی ایجنٹس سے متعلق سرگرمیوں نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں تشویش پیدا کی تھی۔ ان کے دفتر کے مطابق، اس واقعے نے یہ سوال اٹھایا کہ جدید ترین اے آئی نظاموں کی صلاحیتیں حفاظتی انتظامات کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔

ترک نے خاص طور پر خبردار کیا کہ اگر کوئی اے آئی نظام اپنے لیے مقرر کردہ ٹیسٹنگ ماحول سے باہر نکل جائے یا اسے بند کیے جانے سے روکنے کے لیے اپنے ڈویلپرز کو بلیک میل کرنے کی کوشش کرے تو ایسا اے آئی نظام حد سے زیادہ طاقتور سمجھا جائے گا۔

ان کے مطابق، ایسے واقعات کو محض تکنیکی مسئلہ سمجھنے کے بجائے عالمی سطح پر اے آئی کی نگرانی اور ضابطہ بندی کی ضرورت کو سمجھنا چاہیے۔

کمپنیوں سے فوری اقدامات کا مطالبہ

وولکر ترک نے کہا کہ وہ آنے والے دنوں میں مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی بڑی کمپنیوں کو خط لکھیں گے اور ان پر زور دیں گے کہ وہ اپنے اختیار میں موجود اقدامات کے ذریعے اے آئی سے پیدا ہونے والے خطرات کو کم کریں۔

انہوں نے کہا کہ اے آئی کی ترقی کو مکمل طور پر روکنا مقصد نہیں، بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ یہ ٹیکنالوجی انسانوں کے مفادات اور بنیادی حقوق کے خلاف استعمال نہ ہو۔

اقوام متحدہ پہلے ہی مصنوعی ذہانت کے عالمی انتظام اور نگرانی کے لیے مشترکہ اصول بنانے کی ضرورت پر زور دے چکا ہے۔ تاہم دنیا کے بڑے ممالک کے درمیان اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے مسابقت اور مختلف مفادات کے باعث ایک مشترکہ عالمی نظام تشکیل دینا آسان نہیں۔

ترک کی تشویش صرف مستقبل کے ممکنہ خطرات تک محدود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے موجودہ استعمال کے بھی انسانی حقوق پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور دنیا کو ان اثرات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اے آئی کی ترقی کی رفتار بہت تیز ہے، اس لیے عالمی برادری کو اس ٹیکنالوجی کے خطرناک حد تک طاقتور ہونے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔

رائٹرز کے مطابق، وولکر ترک کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر واضح حدود، آزادانہ نگرانی، بہتر حفاظتی انتظامات اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان زیادہ تعاون ضروری ہے۔ ان کے مطابق، اصل سوال اب یہ نہیں کہ اے آئی کے لیے قوانین کی ضرورت ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ دنیا ان قوانین کو عملی شکل کب دے گی۔

اسی بارے میں: