سندھ میں روزگار کی تلاش کرنے والے نوجوانوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اکثر نوکری کی کمی سے پہلے معلومات تک رسائی کا ہوتا ہے۔ کس ادارے میں آسامی نکلی ہے، کون سی ملازمت اپنی تعلیم اور تجربے کے مطابق ہے، درخواست کہاں جمع کرانی ہے اور بھرتی کا طریقہ کار کیا ہے، یہ سوالات روزگار کے متلاشی افراد کے لیے ایک مستقل چیلنج رہے ہیں۔
اسی مسئلے کے حل کے لیے سندھ حکومت نے مارچ 2025 میں ’آئی ورک فار سندھ‘ کے نام سے ایک ڈیجیٹل جاب پورٹل شروع کیا۔ اس پلیٹ فارم کا مقصد روزگار تلاش کرنے والے افراد اور ملازمت فراہم کرنے والے اداروں کو ایک آن لائن نظام کے ذریعے ایک دوسرے سے جوڑنا اور روزگار کے مواقع تک رسائی کو آسان بنانا ہے۔
’آئی ورک فار سندھ‘کو محض سرکاری ملازمتوں کی فہرست فراہم کرنے والا پورٹل نہیں بنایا گیا، بلکہ اس میں سرکاری اداروں کے ساتھ نجی شعبے میں موجود ملازمتوں کے مواقع بھی شامل کیے جاتے ہیں۔ اس طرح گریجویٹس، مختلف شعبوں میں مہارت رکھنے والے افراد اور ہنرمند کارکن اپنی قابلیت کے مطابق روزگار تلاش کرسکتے ہیں۔
پورٹل پر امیدوار رجسٹریشن کے بعد اپنا پروفائل تشکیل دے سکتے ہیں، جس میں تعلیمی قابلیت، پیشہ ورانہ تجربہ، مہارتیں اور دیگر ضروری کوائف شامل کیے جاسکتے ہیں۔ مکمل پروفائل کی بنیاد پر امیدوار اپنی قابلیت سے مطابقت رکھنے والی ملازمتوں کو تلاش کرکے ان کے لیے درخواست بھی دے سکتے ہیں۔
اس پلیٹ فارم میں روزگار کی تلاش کے علاوہ ملازمت حاصل کرنے کے عمل میں امیدواروں کی معاونت کے لیے دیگر سہولیات بھی شامل کی گئی ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے سی وی بنانے کی سہولت ان افراد کے لیے مفید ہوسکتی ہے جنہیں پیشہ ورانہ تعارفی دستاویز تیار کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔
’لرن اینڈ ارن‘ کے تصور کے ذریعے مہارتیں حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرنے کا منصوبہ بھی اس پلیٹ فارم کا حصہ ہے، جبکہ ’ایکسپرٹ کنیکٹ‘ کے ذریعے ماہرین سے پیشہ ورانہ رہنمائی حاصل کرنے کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ اس طرح پورٹل کا دائرہ صرف نوکری تلاش کرنے تک محدود نہیں رہتا بلکہ مہارتوں کی ترقی اور پیشہ ورانہ رہنمائی کو بھی اس نظام سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔
تاہم ’آئی ورک فار سندھ‘ پر کسی سرکاری ملازمت کا موجود ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ اس آسامی کی مکمل بھرتی بھی اسی پورٹل کے ذریعے ہوگی۔ بعض سرکاری آسامیوں کے لیے متعلقہ محکمہ، ٹیسٹنگ ادارہ یا حکومت کا مقرر کردہ بھرتی کا طریقہ کار برقرار رہتا ہے۔ اس لیے امیدواروں کے لیے ضروری ہے کہ کسی بھی آسامی پر درخواست دینے سے پہلے اس کی اہلیت، مطلوبہ دستاویزات، درخواست جمع کرانے کے طریقے اور آخری تاریخ کو ضرور چیک کریں۔
سندھ حکومت کے مطابق جولائی 2026 تک ’آئی ورک فار سندھ‘ کو 48 لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھا جا چکا تھا، جبکہ ایک لاکھ 13 ہزار سے زیادہ افراد اس پلیٹ فارم پر رجسٹرڈ ہوچکے تھے۔ اسی عرصے تک 670 کمپنیاں پورٹل کا حصہ بن چکی تھیں اور 11 ہزار 100 سے زیادہ فعال ملازمتوں کے مواقع موجود تھے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پورٹل کے آغاز کے بعد اس پر 20 ہزار 800 سے زیادہ ملازمتیں درج کی جاچکی تھیں، جبکہ مختلف ملازمتوں کے لیے چار لاکھ 19 ہزار سے زیادہ درخواستیں جمع ہوچکی تھیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مختصر عرصے میں اس پلیٹ فارم نے روزگار کے متلاشی افراد اور ملازمت فراہم کرنے والے اداروں کے درمیان ایک قابل ذکر ڈیجیٹل رابطہ قائم کیا ہے۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کے مطابق ’آئی ورک فار سندھ‘ ابتدا میں ایک نئے تجربے کے طور پر شروع کیا گیا تھا، جو اب سندھ میں روزگار کے ایک بڑے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی شکل اختیار کررہا ہے۔
تاہم کسی بھی جاب پورٹل کی اصل کامیابی صرف رجسٹرڈ افراد، کمپنیوں، ملازمتوں یا درخواستوں کی تعداد سے نہیں بلکہ اس بات سے جانچی جائے گی کہ اس کے ذریعے کتنے افراد کو حقیقی طور پر روزگار ملا اور روزگار کی تلاش کا عمل ان کے لیے کس حد تک آسان، قابل رسائی اور شفاف بنا۔
سندھ کے روزگار کے متلاشی افراد کے لیے ’آئی ورک فار سندھ‘ ایک ایسا پلیٹ فارم بن سکتا ہے جہاں مختلف شعبوں میں دستیاب مواقع ایک ہی جگہ تلاش کیے جاسکتے ہیں۔ امیدواروں کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ اپنا پروفائل مکمل رکھیں، تعلیم اور مہارتوں کی درست معلومات درج کریں اور ہر آسامی کی اہلیت اور درخواست کی آخری تاریخ دیکھنے کے بعد ہی درخواست جمع کرائیں۔
’آئی ورک فار سندھ‘ کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ سندھ میں روزگار کے مواقع کی تلاش اب صرف اخبارات یا مختلف اداروں کی الگ الگ ویب سائٹس تک محدود نہیں رہتی، بلکہ ایک مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے سرکاری اور نجی شعبے کے متعدد مواقع تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ساگا ڈیجیٹل کا مقصد بھی یہی ہے کہ سندھ کے نوجوانوں تک صرف خبریں نہیں بلکہ تعلیم، روزگار، تربیت اور ترقی کے ایسے مواقع کی معلومات بھی پہنچائی جائیں جو ان کے مستقبل کے لیے عملی طور پر مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔
