سندھ میں چھوٹے کاشتکاروں کو زرعی اخراجات پورے کرنے اور مالی سہولیات تک رسائی دینے کے لیے حکومت سندھ نے بینظیر ہاری کارڈ کا نظام متعارف کرایا ہے، جس کے تحت کسانوں کو زرعی مداخل پر سبسڈی، زرعی قرضوں اور دیگر مالی معاونت تک رسائی فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
محکمہ زراعت سندھ کے مطابق بینظیر ہاری کارڈ کے نظام میں کسانوں کی رجسٹریشن کو بینکاری سہولیات اور بائیومیٹرک تصدیق سے منسلک کیا گیا ہے۔ رجسٹرڈ کسانوں کے لیے بینک اکاؤنٹ اور اے ٹی ایم کارڈ کی سہولت بھی اس نظام کا حصہ ہے، جس کا مقصد حکومتی معاونت کو براہ راست مستحق کاشتکاروں تک پہنچانے کے لیے ایک مربوط طریقہ کار وضع کرنا ہے۔
حکومت سندھ نے پروگرام کے تحت صوبے کے 14 لاکھ کسانوں کی رجسٹریشن کا ہدف مقرر کیا ہے۔ پروگرام کی بنیادی توجہ چھوٹے کسانوں کو ان سہولیات تک رسائی دینا ہے جو زرعی پیداوار کے لیے درکار مالی وسائل اور زرعی مداخل کے حصول میں ان کی مدد کر سکیں۔
بینظیر ہاری کارڈ کے ذریعے کسانوں کو بیج، کھاد اور دیگر زرعی مداخل پر سبسڈی فراہم کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ کاشتکاروں کو نرم شرائط پر زرعی قرضوں تک رسائی دینے کی بھی بات کی گئی ہے، تاکہ محدود مالی وسائل رکھنے والے کسان فصل کی کاشت کے دوران درکار اخراجات پورے کر سکیں۔
پروگرام میں قدرتی آفات سے متاثر ہونے والے کسانوں کے لیے مالی امداد، شمسی ٹیوب ویل اور فصل انشورنس تک ترجیحی رسائی بھی شامل ہے۔ ان سہولیات کا مقصد کسانوں کو صرف فصل کی کاشت کے مرحلے پر مالی مدد فراہم کرنا نہیں بلکہ زرعی سرگرمیوں سے متعلق مختلف ضروریات کے لیے حکومتی معاونت کا ایک جامع نظام فراہم کرنا ہے۔
بینظیر ہاری کارڈ کے نظام میں بائیومیٹرک تصدیق کو شامل کیے جانے کا مقصد کسانوں کی شناخت اور مالی معاونت کی فراہمی کے عمل کو باقاعدہ بنانا ہے۔ بینکاری نظام سے منسلک اس طریقہ کار کے ذریعے کسانوں کو سرکاری سہولیات تک رسائی دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
