کراچی جیسے تیزی سے پھیلتے ہوئے میگا سٹی میں ٹریفک کا مسئلہ صرف سڑکوں کی تعداد کا نہیں، بلکہ اس بات کا بھی ہے کہ ایک ہی چوراہے پر کتنی گاڑیاں، کتنے راستے اور کتنی سمتیں ایک دوسرے کی روانی کو متاثر کر رہی ہیں۔
دنیا کے بڑے شہروں میں مصروف چوراہوں پر انڈر پاس یا فلائی اوور بنانے کا بنیادی مقصد یہی ہوتا ہے کہ ایک سمت میں جانے والی ٹریفک کو دوسری سمت کی ٹریفک سے الگ کیا جا سکے۔ اس طرح گاڑیوں کو بار بار سگنل پر رکنے کی ضرورت کم ہوتی ہے، چوراہے پر دباؤ گھٹتا ہے اور ٹریفک کی روانی بہتر ہونے کی امید پیدا ہوتی ہے۔
کراچی میں اسی سوچ کے تحت گلستانِ جوہر کے منور چورنگی پر ایک نیا انڈر پاس تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے تقریباً دو ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا ہے۔
تقریباً 500 میٹر طویل اس انڈر پاس کی چوڑائی 24 فٹ ہے اور اس میں دوطرفہ ٹریفک کے لیے راستہ فراہم کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق منصوبہ 16 ماہ میں مکمل ہوا، جبکہ اس کی اصل تکمیل کی مدت 24 ماہ مقرر کی گئی تھی۔ یوں تعمیراتی کام مقررہ مدت سے آٹھ ماہ پہلے مکمل کیا گیا۔
انڈر پاس کے افتتاح کے موقع پر حکام نے توقع ظاہر کی کہ منصوبے سے ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی اور شہریوں کے سفری وقت میں کمی آئے گی۔ تاہم چونکہ اسے حال ہی میں ٹریفک کے لیے کھولا گیا ہے، اس لیے اس کے حقیقی اثرات کا فیصلہ طویل مدتی ٹریفک اعداد و شمار کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی ہے۔
کسی ایک چوراہے پر رکاوٹ کم کرنا پورے شہری ٹریفک نظام کا حل نہیں ہوتا۔ اگر انڈر پاس کے بعد آنے والے چوراہوں، سڑکوں یا رابطہ سڑکوں کی گنجائش کم ہو تو ٹریفک کا دباؤ اگلے مقام پر منتقل ہوسکتا ہے۔
اسی لیے منور چورنگی انڈر پاس کی کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جائے گی کہ انڈر پاس کے اندر گاڑیاں کتنی تیزی سے گزر رہی ہیں، بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ اس منصوبے نے پورے گلستانِ جوہر کے ٹریفک نیٹ ورک پر کیا اثر ڈالا ہے۔
یہ منصوبہ ایسے وقت میں مکمل ہوا ہے جب گلستانِ جوہر میں ٹریفک اور سڑکوں کی صورتحال طویل عرصے سے شہریوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ رہی ہے۔ انڈر پاس کی تعمیر کے دوران بھی راستوں کی بندش، ٹریفک جام، گرد و غبار اور سفر میں اضافی وقت جیسے مسائل کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔
اب ضرورت صرف انڈر پاس تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ اس سے منسلک سڑکوں، نکاسی آب، اسٹریٹ لائٹس، ٹریفک سگنلز اور پیدل چلنے والوں کی سہولتوں کو بھی بہتر بنانا ہوگا۔
کیونکہ جدید شہر صرف تیز گاڑیوں سے نہیں بنتا۔
جدید شہر وہ ہوتا ہے جہاں سفر محفوظ ہو، وقت کم لگے، سڑکیں قابلِ استعمال ہوں، پیدل چلنے والوں کے لیے مناسب راستے موجود ہوں اور شہریوں کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچنے کے لیے غیر ضروری رکاوٹوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
منور چورنگی انڈر پاس گلستانِ جوہر کے لیے ایک نئی سہولت ضرور ہے، مگر اس کی اصل کامیابی کا فیصلہ آنے والے دنوں میں ہوگا۔
جب یہ معلوم ہوگا کہ تقریباً دو ارب روپے کی یہ سرمایہ کاری کراچی کے شہریوں کا کتنا وقت بچاتی ہے، منور چورنگی کے گرد ٹریفک کا دباؤ کتنا کم کرتی ہے اور شہر کی مجموعی ٹریفک کو کتنی حقیقی روانی فراہم کرتی ہے۔
