نو آبادیاتی عجائب گھر، نوکر شاہی اور ہماری تاریخی فراموشی: وکٹوریہ میوزیم سے سپریم کورٹ تک کا سفر

کورٹ

تاریخ کسی بھی قوم کا اجتماعی حافظہ اور اس کی تہذیبی شناخت کی ضامن ہوتی ہے۔ عجائب گھر محض پرانی اشیا، سکوں یا حنوط شدہ مجسموں کے ذخیرہ اندوز مراکز نہیں بلکہ وہ زندہ سائنسی نگارخانے ہیں جو قوموں کے ارتقا، معاشی خدوخال اور طبقاتی تاریخ کی گواہی دیتے ہیں۔

سندھ میں برطانوی ہند 1843 تا 1947 کا دور حکومت جہاں ایک طرف استعماری استحصال اور نوآبادیاتی جبر کا باب تھا، وہاں یہ وہ دور بھی تھا جب جدید سائنسی اور آثار قدیمہ کے طریقوں کے تحت سندھ کی ہزاروں سال قدیم تاریخ کو ترتیب دینے اور محفوظ کرنے کا کام شروع کیا گیا۔

برطانوی راج نے اپنے انتظامی اور سائنسی مقاصد کے لیے سندھ بھر میں، خاص طور پر کراچی اور حیدرآباد میں، ایسے ادارے، نگارخانے اور عجائب گھر قائم کیے جن کا مقصد اس خطے کے طبعی جغرافیے، ساحلی حیات اور آثار قدیمہ کے شواہد کو قلم بند کرنا تھا۔

وکٹوریہ میوزیم، کراچی کا پہلا علمی عجائب گھر

کراچی کی بلدیاتی اور عمرانی تاریخ وکٹوریہ میوزیم کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ یہ کراچی کا پہلا باقاعدہ عجائب گھر تھا، جس کی شروعات 1851 کے قریب کی گئیں۔ ابتدائی طور پر اس کا مقصد سندھ کے طبعی ماحول، بحیرہ عرب کی ساحلی حیات اور مقامی برادریوں کے ثقافتی نمونوں کو ایک جگہ یکجا کرنا تھا۔ شروع میں یہ ذخیرہ فریئر ہال کے ایک چھوٹے سے حصے میں محدود تھا، جہاں برطانوی افسران، جیسے کرنل فرینکلن، اور مقامی محققین نے نایاب اشیا جمع کرنے کی بنیاد رکھی۔

انیسویں صدی کے آخر میں ملکہ وکٹوریہ کی گولڈن جوبلی 1887 کی مناسبت سے سندھ کی برطانوی انتظامیہ اور مقامی تاجروں کی مالی معاونت سے اس میوزیم کے لیے ایک عظیم الشان عمارت کا منصوبہ بنایا گیا۔

اس خوبصورت برطانوی دور کی عمارت کا سنگ بنیاد 1887 میں ملکہ وکٹوریہ کے دور حکومت میں ڈیوک آف کناٹ نے رکھا تھا۔ جبکہ 21 مئی 1892 کو اسے باقاعدہ طور پر عوام کے لیے کھولا گیا اور اس کا نام وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم رکھا گیا۔ اس کا باقاعدہ افتتاح وائسرائے ہند لارڈ ایلگن نے کیا۔

کلاسیکی فن تعمیر اور نوادرات کی نوعیت

وکٹوریہ میوزیم کی عمارت کلاسیکی اطالوی نشاۃ ثانیہ کے طرز پر ڈیزائن کی گئی تھی، جس میں کراچی کے مقامی گزری کے پیلے پتھر کا بہترین استعمال کیا گیا۔ اس عمارت کی خوبصورت محرابیں، کھڑکیوں کے کٹاؤ اور وسیع مرکزی ہال اس دور کی تعمیراتی مہارت کا شاہکار تھے۔

یہ میوزیم تین بنیادی سائنسی و تاریخی شعبوں میں تقسیم تھا۔

وادی سندھ اور قدیم آثار

آثار قدیمہ کے سروے کی جانب سے موئن جو دڑو، ہڑپہ اور دیگر مقامات سے ملنے والی مہریں، مٹی کے ظروف، سکے اور مورتیاں یہاں رکھی گئیں۔

قدرتی تاریخ اور حنوط شدہ جانور اور پرندے

سندھ کی ساحلی حیات، بحیرہ عرب کے نایاب سمندری نمونے، صحرائے تھر کے رینگنے والے جانور اور حنوط شدہ پرندے اس کے بڑے مراکز توجہ تھے۔

نسلیات اور ساحلی ثقافت

سندھ اور بلوچستان کی ساحلی و صحرائی برادریوں اور مقامی کاریگروں کی روایتی کشتی سازی کے ماڈل، ان کے لباس، خطاطی کے نایاب نسخے اور جنگی اسلحہ یہاں محفوظ کیا گیا۔

قیام پاکستان، انتظامی منتقلی اور اداروں کا الٹ پھیر

1947 میں پاکستان کے قیام کے بعد وکٹوریہ میوزیم کی اہمیت اور بڑھ گئی۔ یکم جولائی 1948 کو قائد اعظم محمد علی جناح نے اسی عمارت میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کیا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد نوخیز ریاست کو درپیش دفاتر کی شدید قلت اور انتظامی ترجیحات کے نتیجے میں اس عمارت نے عجیب و غریب عبوری مراحل دیکھے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا عارضی قیام

قیام پاکستان کے فوری بعد، جب ریاست کے پاس مرکزی بینکاری کے نظام کے لیے عمارتوں کی شدید قلت تھی، تو وکٹوریہ میوزیم کے کچھ حصوں کو عارضی طور پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے انتظامی امور اور دفاتر کے لیے استعمال کیا گیا۔ مالیاتی امور اور ملکی معیشت کی ابتدائی بنیادیں استوار کرنے کا یہ سفر اس عمارت کا ایک بھولا بسرا باب ہے۔

کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کا صدر دفتر

1960 کی دہائی میں جب برنس روڈ پر برنس گارڈن میں نیشنل میوزیم آف پاکستان کی موجودہ عمارت مکمل ہوئی اور تمام تاریخی نوادرات وہاں منتقل کر دیے گئے، تو اس عمارت کو بلدیاتی انتظامیہ کے سپرد کر دیا گیا۔ ایک طویل عرصے تک یہ عمارت کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کا صدر دفتر رہی، جہاں سے شہر کے پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کا نظم و نسق چلایا جاتا رہا۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کی تحویل

مئی 1995 میں حکومت سندھ نے اس عمارت کی ملکیت مکمل طور پر سپریم کورٹ کے حوالے کر دی اور مرمت کے بعد 20 فروری 1997 کو سپریم کورٹ آف پاکستان کراچی رجسٹری کا باقاعدہ افتتاح ہوا۔

ساختی غفلت اور سیاسی بصیرت کا فقدان

ایک علمی اور تاریخی میوزیم کا پہلے مالیاتی و بلدیاتی دفاتر، اسٹیٹ بینک اور واٹر بورڈ، اور بالآخر ایک اعلی عدالتی عمارت میں تبدیل ہو جانا اس حقیقت کا عکاس ہے کہ ہماری ما بعد نوآبادیاتی ریاست میں تاریخی اداروں اور نسلوں کے ورثوں کو کس طرح خالصتا انتظامی اور نوکر شاہی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔

اگرچہ عدالتی تحویل میں آنے کے باعث اس تاریخی عمارت کا بیرونی ڈھانچہ بظاہر بربادی سے بچ گیا اور محفوظ رہا، لیکن اس کے اندر سے وہ میوزیم، سائنسی تحقیق اور تاریخی تاریخ دانوں کا ماحول ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا جس نے کبھی کراچی کو بمبئی پریزیڈنسی میں ایک ممتاز علمی و ثقافتی مقام دلایا تھا۔

عجائب گھر صرف ماضی کی چیزیں سجانے کا نام نہیں ہیں بلکہ یہ نچلی سطح کی طبقاتی تاریخ، کاریگر برادریوں کی دستکاری اور ساحلی معاشی ارتقا کی سائنسی دستاویزات ہوتے ہیں۔

وکٹوریہ میوزیم کی بندش اور اس کے بار بار کے استعمال نے یہ ثابت کیا کہ ہماری ریاست نے تاریخی اور سائنسی اداروں پر انتظامی اور قانونی اداروں کو فوقیت دی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جہاں کراچی کی جدید شہری ترقی اور قانونی اداروں کا قیام ضروری ہے، وہاں وکٹوریہ میوزیم جیسی یادگاروں کی اصل علمی حیثیت کو بھی تاریخ میں اجاگر کیا جائے۔