انگریزوں کی آمد سے قبل کے کراچی واسی خاندان کے ایک فرد کی پرانے شہر کی گلیوں سے لکھی داستان
سندھ کا تاریخی شہر شکارپور کسی دور میں اپنی بے مثال معاشی خوشحالی، عطر میں بسے باغوں اور سرپوشیدہ بازاروں کی بدولت ‘سندھ کا پیرس’ کہلاتا تھا۔
انیسویں اور بیسویں صدی کی دہلیز پر جب وہاں کے دور اندیش، ہنرمند اور معاشی بصیرت سے مالامال سندھی ہندو تاجروں نے نوآبادیاتی دور میں ابھرتے ہوئے بندرگاہی شہر کراچی کا رخ کیا تو انہوں نے نیپئر روڈ سے لے کر اسٹریچن روڈ اور بندر روڈ، موجودہ ایم اے جناح روڈ، کے اطراف کو پورے برصغیر کا ایک مایہ ناز اور مرکزی تجارتی محور بنا دیا۔
انہی تاجروں کی عظمت رفتہ کی ایک زنگ آلود یادگار ‘شکارپوری کلاتھ مارکیٹ’ ہے، جس کی بوسیدہ فصیل پر لگی دھندلی تختی آج بھی ماضی کے اس عظیم تجارتی جاہ و جلال کا نوحہ پڑھتی نظر آتی ہے۔ مگر افسوس، وقت کی بے رحم لہروں، شہری منصوبہ بندی کی عدم توجہی اور ہماری اجتماعی بے حسی نے اس تاریخی ورثے کو ایک ایسے تاریک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں تاریخ کی جگہ دھول اور یادوں کی جگہ گاڑیوں کے زہریلے دھوئیں نے لے لی ہے۔
دیوناگری حروف اور ماضی کا عالمی تجارتی جاہ و جلال
میری ویدر کلاک ٹاور کے بالکل عقب میں، تاریخی پرانے شہر کے اہم شاہراہوں بندر روڈ اور میکلوڈ روڈ کے سنگم پر واقع اس تاریخی عمارت کے صدر دروازے کو دیکھیں تو پتھریلی تختی پر انگریزی کے ساتھ ساتھ دیوناگری رسم الخط میں ‘شکارپوری کپڑا مارکیٹ’ اور پرانا سروے نمبر 121/2619 آج بھی کندہ ہے۔
تقسیم ہند سے قبل، شکارپور کے سیٹھوں کا مالیاتی جال صرف سندھ یا ہندوستان تک محدود نہیں تھا۔ ان کا ہنڈی اور رقم کی منتقلی کا عالمی نیٹ ورک وسطی ایشیا، کابل، قندھار، سمرقند اور بخارا تک پھیلا ہوا تھا۔ کراچی کی یہ شکارپوری مارکیٹ ان کی اسی بین الاقوامی تجارتی سلطنت کا ایک مضبوط اور اہم ترین گڑھ تھی، جہاں روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے کا لین دین اور برآمدات کے سودے طے پاتے تھے۔

رونقوں کی جگہ اب گاڑیوں کا راج، ایک الم ناک زوال
آج کی تلخ اور الم ناک حقیقت یہ ہے کہ یہ شاندار تاریخی بازار، بلڈروں کے ہاتھوں بڑے کمپلیکس میں تبدیل ہونے سے قبل، ایک بے ترتیب اور زبوں حال پارکنگ لاٹ کا منظر پیش کر رہا ہے۔
زوال کی تصویر
وہ وسیع دالان اور گلیاں جہاں کبھی ململ، زربفت، ریشم اور لٹھے کے تھان کھلا کرتے تھے اور جہاں ہندوستان بھر کے خریداروں کا ہجوم ہوتا تھا، وہاں اب آس پاس کے بینکوں اور تجارتی دفاتر کے ملازمین کی موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں۔
فن تعمیر کی تباہی
لکڑی کی روایتی اور خوبصورت چھتیں، برآمدے اور بالکونیاں عدم توجہی اور دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث وقت کے ساتھ گر چکی ہیں۔
ماحولیاتی اثرات
اب صرف سامنے کی تاریخی فصیل اور دیوار ہی باقی بچی ہے، جو ایم اے جناح روڈ سے روزانہ گزرنے والی لاکھوں گاڑیوں کے زہریلے دھوئیں اور شور کا خاموشی سے مقابلہ کر رہی ہے۔
سندھی ہندو تاجروں کی دیگر یادگار مارکیٹیں
کراچی کی معاشی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ شہر کی معاشی بنیادوں کو استوار کرنے میں سندھی ہندو برادری کا کردار بنیادی نوعیت کا تھا۔ انہوں نے بندر روڈ کے اطراف میں کپڑے اور تھوک تجارت کے کئی ایسے مراکز قائم کیے جو آج بھی بدلتے ناموں کے ساتھ شہر کی معاشی شریان بنے ہوئے ہیں۔
1۔ موجودہ جامع کلاتھ مارکیٹ: ایم اے جناح روڈ پر واقع یہ مارکیٹ قیام پاکستان سے قبل ہندو تاجروں کی ایمانداری اور معیاری کپڑے کی فراہمی کے لیے پورے خطے میں مشہور تھی۔ آج یہ کپڑے، خصوصاً خواتین کے ملبوسات اور روایتی کڑھائی کا ایک عظیم الشان مرکز ہے۔

2۔ بولٹن مارکیٹ: اگرچہ اس مارکیٹ کا نام برطانوی میونسپل کمشنر کے نام پر رکھا گیا، لیکن اس کے اطراف کی گلیوں میں کپڑا بازار اور تھوک تجارت کی گلیوں کو آباد کرنے اور اسے برصغیر کے بڑے تجارتی مراکز میں شمار کروانے میں سندھی ہندو سیٹھوں اور خوجہ تاجر برادری کا عظیم سرمایہ اور محنت شامل تھی۔
3۔ لائٹ ہاؤس، میٹھادر اور کھارادر کے بازار: پرانے شہر کے ان تاریخی علاقوں میں موجود متعدد ٹیکسٹائل مراکز اور دکانیں آزادی سے قبل ہندو اور پارسی تاجروں کی ملکیت تھیں۔ یہاں تیار اور سمیٹا جانے والا کپڑا نہ صرف ہندوستان کے دیگر شہروں بلکہ خلیجی ممالک تک بحری جہازوں کے ذریعے برآمد کیا جاتا تھا۔
بحالی کی آخری امید، اڈاپٹیو ری یوز کا ماڈل
اس زبوں حالی کے باوجود امید کا دامن یکسر ہاتھ سے نہیں چھوٹا ہے۔ اگر سندھ ہیریٹیج ڈیپارٹمنٹ، ثقافتی ادارے اور نجی مالکان مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تو اس عمارت کو اس کے اصل طرز تعمیر کے مطابق بحال کیا جا سکتا ہے۔
دنیا بھر کی تاریخی اور نوآبادیاتی بندرگاہی بستیوں میں ایسی پرانی مارکیٹوں کو اڈاپٹیو ری یوز کی معاشی پالیسی کے تحت بحال کیا جاتا ہے۔ ان عمارتوں کو محض مسمار کرنے کے بجائے ثقافتی مراکز، روایتی دستکاری کے بازاروں، آرٹ گیلریوں یا سیاحتی کیفے میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ اس قدم سے نہ صرف شہر کی معماری کی تاریخ محفوظ ہوتی ہے بلکہ مقامی معیشت اور ثقافتی سیاحت کو بھی نیا جلا ملتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ 1947 کی تقسیم اور کراچی واسیوں کی ہجرت نے جہاں انسانوں کو ایک دوسرے سے جدا کیا، وہاں ان تاریخی عمارتوں کو بھی ان کے اصل ساخت کاروں اور مالکان سے محروم کر دیا۔ شکارپوری کلاتھ مارکیٹ کے پتھر پر لگی وہ دھندلی تختی دراصل کراچی کا وہ گمشدہ، کثیرالثقافتی اور شاندار چہرہ ہے جسے ہم نے جدیدیت کی بے ہنگم دوڑ میں پس پشت ڈال دیا ہے۔
اگر آج ہم نے پرانے شہر کے ان خاموش پتھروں کی زبان نہ سنی اور ان کے تحفظ کا فوری طور پر بیڑا نہ اٹھایا تو کل کو یہ عظیم معاشی تاریخ صرف پرانی کتابوں کے صفحات تک محدود رہ جائے گی اور کراچی اپنے شاندار ماضی کے ایک انتہائی اہم اور درخشندہ باب سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو جائے گا۔

