کراچی کے صدر ٹاؤن میں واقع فن تعمیر کے شاہکار فریئر ہال کے چاروں طرف پھیلا ہوا سبزہ، درختوں اور رنگ برنگے پھولوں سے سجا باغ جناح شہر کے اہم تاریخی اور تفریحی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔
سابق امریکی قونصل خانے اور فائیو اسٹار ہوٹل میریٹ کے سامنے واقع فریئر ہال برطانوی دور حکومت کی یادگار ہے، جبکہ اس کے چاروں طرف پھیلا باغ جناح آج بھی کراچی کے شہریوں کے لیے ایک اہم تفریحی مقام ہے۔ شہر کی مصروف زندگی کے درمیان یہ باغ لوگوں کو کچھ دیر سکون، کھلی فضا اور ہریالی فراہم کرتا ہے۔
1887 سے 1888 کے درمیان اس باغ کی تعمیر کے بعد اسے کنگز لان اور کوئینز لان کے نام سے جانا جاتا تھا۔ دراصل یہ باغ فریئر ہال کی خوبصورتی بڑھانے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔ برطانوی دور میں یہاں انگریز افسران اپنے خاندانوں کے ساتھ شام کی سیر اور ہوا خوری کے لیے آیا کرتے تھے۔ باغ میں ملکہ وکٹوریہ اور کنگ ایڈورڈ ہفتم کے مجسمے بھی نصب کیے گئے تھے، شاید اسی وجہ سے اس مقام کو کنگز لان اور کوئینز لان کے نام سے پکارا جانے لگا۔ قیام پاکستان کے بعد اس کا نام باغ جناح رکھ دیا گیا۔
باغ جناح میں کئی سو درخت موجود ہیں، جن میں بعض درخت برطانوی دور کی یادگار سمجھے جاتے ہیں۔ نیم، پیپل، برگد اور سفیدے کے درخت باغ کے ماحول کو گھنا اور دلکش بناتے ہیں۔ باغ کے وسط میں ایک تاریخی فوارہ بھی موجود ہے، جسے 1938 میں مخیر پارسی شخصیت سیٹھ ادلجی ڈنشا نے تعمیر کروایا تھا۔ اپنی قدامت اور طرز تعمیر کے باعث یہ فوارہ بھی باغ کی تاریخی شناخت کا حصہ ہے۔
فریئر ہال اور باغ جناح کا انتظام بلدیہ عظمیٰ کراچی کے پاس ہے۔ باغ کی دیکھ بھال کے لیے تعینات عملہ گھاس کی کٹائی، پودوں اور پھولوں کی دیکھ بھال، صفائی اور باغ کی حفاظت سمیت مختلف ذمہ داریاں انجام دیتا ہے۔
باغ کی مغربی سمت میں ایک نوکیلا، ستون نما مینار بھی موجود ہے۔ یہ پہلی جنگ عظیم میں برطانوی فوج کی جانب سے لڑتے ہوئے ہلاک ہونے والے مقامی سپاہیوں کی یاد میں تعمیر کیا گیا تھا۔ ان سپاہیوں کا تعلق بلوچ انفنٹری سے تھا۔ یادگاری مینار پر اردو اور انگریزی میں ان برطانوی افسروں، نان کمیشنڈ افسروں اور سپاہیوں کے نام درج ہیں جنہوں نے پہلی جنگ عظیم میں جانیں گنوائیں۔
باغ جناح میں 1997 سے ہفتہ وار کتابوں کا میلہ بھی کئی برس تک وقفے وقفے سے منعقد ہوتا رہا۔ یہاں نئی اور پرانی کتابوں کے ڈیڑھ سے دو درجن اسٹال لگتے تھے، جہاں شہر بھر سے شاعر، ادیب، طلبہ اور کتابوں کے شوقین افراد پہنچتے اور اپنی پسند کی کتابیں خریدتے تھے۔ بعد میں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر یہ کتاب بازار بند کر دیا گیا۔
باغ جناح کی انگوٹھی کا نگینہ دراصل فریئر ہال ہے، جو آج بھی مختلف ثقافتی، ادبی اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کے ایک ہال میں لیاقت نیشنل لائبریری قائم ہے، جبکہ بالائی حصے میں پاکستان کے عظیم مصور صادقین کے نام سے صادقین گیلری اور لائبریری بھی موجود ہے۔ فریئر ہال کی چھت پر نصب مرغ بادنما بھی آج تک اپنی جگہ موجود ہے۔ پرانے زمانے میں ایسے مرغ بادنما سے ہوا کا رخ اور سمت معلوم کرنے میں مدد لی جاتی تھی۔
باغ جناح مجموعی طور پر تقریباً 15 ایکڑ رقبے پر محیط ہے۔ یہاں کئی واکنگ ٹریکس ہیں جہاں صبح اور شام کے اوقات میں مرد، خواتین اور بچے چہل قدمی اور ہوا خوری کرتے نظر آتے ہیں۔ بچوں کے لیے جھولوں اور کھیلنے کی جگہیں بھی موجود ہیں، جبکہ خواتین اور خاندان یہاں نسبتاً پرسکون ماحول میں وقت گزارتے ہیں۔
فریئر ہال کی تاریخی عمارت کو پس منظر میں لیے نوبیاہتا جوڑے عروسی لباس میں تصاویر بنواتے نظر آتے ہیں، جبکہ نوجوانوں کے لیے بھی باغ جناح اور فریئر ہال ویڈیوز اور تصویریں بنانے کا ایک پسندیدہ مقام بن چکے ہیں۔
یہاں دن بھر رونق رہتی ہے۔ کہیں چائے کے دور چلتے ہیں، کہیں کولڈ ڈرنکس اور چاٹ کے اسٹال شہریوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ شام ڈھلتے ہی باغ کی فضا مزید دلکش ہو جاتی ہے اور فوڈ کارٹس کی روشنیاں اس تاریخی مقام میں ایک الگ رنگ بھر دیتی ہیں۔ لوگ یہاں سیر بھی کرتے ہیں، کچھ وقت گزارتے ہیں اور واپسی سے پہلے اپنی پسندیدہ چائے، چاٹ یا دیگر کھانوں سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں۔
باغ جناح آج صرف درختوں، پھولوں اور واکنگ ٹریکس کا نام نہیں۔ یہ کراچی کی نوآبادیاتی تاریخ، شہری زندگی، ثقافت، ادب اور تفریح کو ایک ہی جگہ سمیٹے ہوئے ہے۔
فریئر ہال کے سائے میں پھیلا یہ باغ وقت کے ساتھ کئی نام اور کئی رنگ بدل چکا ہے، لیکن کراچی کے شہریوں کے لیے آج بھی یہ شہر کے ان مقامات میں شامل ہے جہاں ماضی کی یادیں، موجودہ زندگی اور شہر کی رونق ایک ساتھ دکھائی دیتی ہے۔
