[rank_math_breadcrumb]

کراچی کا مارواڑی سلاوٹ قبرستان: شہر کے معماروں کی قبروں میں محفوظ ایک زندہ تاریخ

کراچی کو اگر اس کی تاریخی عمارتوں سے پہچانا جائے تو میری ویدر ٹاور، فریئر ہال، سندھ ہائی کورٹ، ایمپریس مارکیٹ، کے ایم سی بلڈنگ، ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج اور دیگر کئی عمارتیں فوراً ذہن میں آتی ہیں۔

ان عمارتوں کو دیکھتے ہوئے عموماً ان کے نقشہ سازوں، انجینئروں اور تعمیراتی منصوبہ سازوں کا ذکر کیا جاتا ہے، لیکن ان عمارتوں کے پتھروں کو شکل دینے والے ان کاریگروں کا ذکر بہت کم ملتا ہے جنہوں نے چھینی اور ہتھوڑی سے بے جان پتھروں میں فن اور زندگی پیدا کی۔

کراچی میں ایک ایسا قبرستان موجود ہے جہاں انہی گمنام یا کم معروف معماروں اور سنگ تراشوں کی کہانی پتھروں پر کندہ ہے۔ میوہ شاہ قبرستان کے اندر واقع سلاوٹ جماعت کا قبرستان محض ایک تدفین گاہ نہیں بلکہ کراچی کی تعمیراتی تاریخ کا ایک منفرد اور غیر معمولی ورثہ ہے۔ ی

ہاں موجود کئی قبروں کے کتبے عام کتبوں سے مختلف ہیں۔ کہیں کسی تاریخی عمارت کا نقش تراشا گیا ہے، کہیں محل کی محرابیں اور جھروکے دکھائی دیتے ہیں اور کہیں کسی عمارت کی ایسی شبیہ بنائی گئی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس قبر میں آسودہ خاک شخص کا تعلق اس تعمیر سے تھا۔

میوہ شاہ کراچی کے قدیم ترین اور بڑے قبرستانوں میں شمار ہوتا ہے اور اس کے ایک حصے میں مارواڑی سلاوٹ برادری کے لیے مخصوص قبرستان قائم ہے۔ دستیاب تاریخی حوالوں کے مطابق مسلم مارواڑی سلاوٹ جماعت کو 1840 میں تقریباً آٹھ ایکڑ رقبے پر قبرستان دیا گیا تھا۔

قبرستان میں موجود بعض قبریں اس دور سے بھی قدیم ہونے کا دعویٰ رکھتی ہیں، تاہم 1840 کا سال یہاں موجود ایک قدیم کتبے پر بھی کندہ ہے۔ اس لیے اس مقام کی تاریخ انیسویں صدی کے کراچی کے شہری پھیلاؤ اور تعمیراتی ترقی کے ساتھ گہرا تعلق رکھتی ہے۔

سلاوٹ برادری کا تعلق بنیادی طور پر راجستھان کے جیسلمیر کے علاقے سے بتایا جاتا ہے۔ یہ لوگ صدیوں سے سنگ تراشی اور تعمیرات کے ہنر سے وابستہ رہے۔ روزگار کے مواقع کم ہونے اور نئے شہری مراکز میں تعمیراتی سرگرمیوں کے بڑھنے کے ساتھ اس برادری کے افراد سندھ کے مختلف علاقوں میں پہنچے اور بالآخر کراچی بھی ان کے لیے ایک اہم مرکز بن گیا۔

برطانوی دور میں کراچی ایک تیزی سے ترقی کرتا ہوا بندرگاہی شہر بن رہا تھا۔ نئی سڑکیں، سرکاری عمارتیں، بازار، رہائشی عمارتیں اور دیگر تعمیرات بن رہی تھیں اور اس پورے عمل میں ماہر سنگ تراشوں کی ضرورت بڑھ رہی تھی۔

سلاوٹ کاریگروں نے اسی دور میں اپنی مہارت کا وہ نقش چھوڑا جو آج بھی کراچی کی تاریخی عمارتوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ ان کا کام صرف پتھر کاٹنے تک محدود نہیں تھا۔ وہ پتھر کو تراشتے، اس پر نقش بناتے، محرابیں اور آرائشی ڈیزائن تیار کرتے اور عمارتوں کے بیرونی حصوں کو وہ جمالیاتی شکل دیتے تھے جو آج کراچی کے تاریخی طرز تعمیر کی پہچان بن چکی ہے۔

سلاوٹ قبرستان کی سب سے حیران کن خصوصیت اس کے کتبے ہیں۔ یہاں قبرستان میں قدم رکھتے ہی محسوس ہوتا ہے کہ جیسے شہر کی تعمیراتی تاریخ کو چھوٹے چھوٹے پتھریلے نمونوں میں محفوظ کردیا گیا ہو۔ بعض قبروں پر تاریخی عمارتوں کی شبیہیں تراشی گئی ہیں۔ ان میں میری ویدر ٹاور، سندھ ہائی کورٹ، تاج محل، جیسلمیر کے محلات اور دیگر عمارتوں کے نقوش شامل ہیں۔

یہ کتبے دراصل صرف آرائش نہیں بلکہ ایک طرح کا خاندانی اور پیشہ ورانہ تعارف بھی معلوم ہوتے ہیں۔ سلاوٹ برادری سے وابستہ افراد کے مطابق تاریخی عمارتوں کے نقش قبروں پر اس لیے تراشے گئے تاکہ آنے والی نسلیں اپنے بزرگوں کے کام اور ان کی مہارت کو یاد رکھیں۔ یوں قبر کے کتبے نے ایک طرف مرحوم کی یاد محفوظ کی اور دوسری طرف اس کے پیشے اور تعمیراتی کارنامے کو بھی تاریخ کا حصہ بنا دیا۔

اس قبرستان میں میری ویدر ٹاور سے منسوب ایک قبر خاص طور پر توجہ کھینچتی ہے۔ اس قبر کے کتبے پر مشہور گھڑیال ٹاور کی شبیہ تراشی گئی ہے۔ دستیاب تاریخی روایات کے مطابق یہ قبر ابراہیم ولد نبی بخش کوتوال نامی سنگ تراش سے منسوب کی جاتی ہے، جو میری ویدر ٹاور کی تعمیر میں شامل کاریگروں میں شمار ہوتے ہیں۔ قبر پر موجود عمارت کا نقش اس بات کی علامت ہے کہ کاریگر نے جس عمارت پر اپنے ہنر کے نقوش چھوڑے، اسی عمارت کو بعد میں اپنی قبر کے کتبے کا حصہ بھی بنا دیا۔

میری ویدر ٹاور 1886 میں مکمل ہوا تھا اور کراچی کی نمایاں تاریخی شناختوں میں شامل ہے۔ اس کی تعمیر سے وابستہ کاریگروں کے کردار کو عموماً عمارت کے رسمی تعارف میں وہ اہمیت نہیں ملتی جو انجینئر اور منصوبہ ساز حاصل کرتے ہیں۔ سلاوٹ قبرستان کا کتبہ اس بھولی ہوئی تعمیراتی تاریخ کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ کسی عظیم عمارت کی تکمیل صرف نقشے اور منصوبے سے نہیں ہوتی، بلکہ اسے حقیقت میں بدلنے والے ہنرمند ہاتھ بھی اتنے ہی اہم ہوتے ہیں۔

قبرستان میں سندھ ہائی کورٹ کی عمارت سے منسوب ایک اور کتبہ بھی موجود ہے، جس پر عمارت کے حصے تراشے گئے ہیں۔ بعض دیگر قبروں پر جیسلمیر کے محلات کے جھروکوں اور محرابوں کے نقش دکھائی دیتے ہیں، جبکہ کچھ کتبوں پر تاج محل کی شبیہ تراشی گئی ہے۔ ان نقش و نگار میں راجستھانی اور برصغیر کی روایتی سنگ تراشی کے اثرات نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔

یہاں موجود پرانے کتبوں میں پیلے یا زرد پتھر کا استعمال بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ وقت گزرنے کے باوجود کئی کتبوں پر نقش و نگار واضح دکھائی دیتے ہیں۔ پتھر کی سختی اور کاریگروں کی مہارت نے ان قبروں کو محض تدفین کی جگہ نہیں رہنے دیا بلکہ انہیں ایک ایسے تاریخی دستاویز میں بدل دیا ہے جسے پڑھنے کے لیے الفاظ سے زیادہ پتھروں کو دیکھنا پڑتا ہے۔

قبرستان کی بعض قبروں پر چاند تارے، پھول، برتنوں اور دیگر اشکال کے نقش بھی دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ قبریں سادہ ہیں جبکہ بعض پر زیادہ نفیس اور پیچیدہ سنگ تراشی کی گئی ہے۔ یوں پورا قبرستان مختلف ادوار کی تعمیراتی پسند، دستیاب مواد اور سلاوٹ برادری کے بدلتے ہوئے ہنر کا ایک خاموش ریکارڈ بن جاتا ہے۔

اس قبرستان کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ یہاں قدیم قبریں موجود ہیں۔ اصل اہمیت اس بات میں ہے کہ یہاں کراچی کے تعمیراتی ماضی کا ایک ایسا پہلو محفوظ ہے جو عام تاریخی بیانیے میں اکثر نظر انداز ہوجاتا ہے۔ برطانوی دور کی عمارتوں کا ذکر کرتے وقت انجینئروں، معماروں اور نوآبادیاتی انتظامیہ کے نام سامنے آتے ہیں، لیکن ان عمارتوں کے پتھروں پر ہاتھ چلانے والے مقامی کاریگر اکثر تاریخ کے حاشیے پر چلے جاتے ہیں۔

سلاوٹ قبرستان اس خاموش خلا کو پُر کرتا ہے۔ یہاں کی قبریں گویا کہتی ہیں کہ کراچی کی تعمیر صرف ان لوگوں کی کہانی نہیں جنہوں نے عمارتوں کے نقشے بنائے بلکہ ان ہاتھوں کی بھی کہانی ہے جنہوں نے ان نقشوں کو پتھر میں ڈھالا۔

سلاوٹ برادری کے کاریگروں نے کراچی کی متعدد تاریخی عمارتوں کی تعمیر اور سنگ تراشی میں کردار ادا کیا۔ مختلف تاریخی حوالوں میں فریئر ہال، سندھ ہائی کورٹ، میری ویدر کلاک ٹاور، ایمپریس مارکیٹ، کراچی پورٹ ٹرسٹ، ڈی جے کالج، این جے وی اسکول، ریڈیو پاکستان اور کے ایم سی بلڈنگ سمیت متعدد عمارتوں کے حوالے سے اس برادری کی کاریگری کا ذکر ملتا ہے۔

بعض حوالوں میں دیگر تاریخی عمارتوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس طرح سلاوٹ برادری کی تاریخ کراچی کی شہری اور تعمیراتی تاریخ سے الگ نہیں کی جاسکتی۔

لیکن اس کہانی کا ایک افسوس ناک پہلو بھی ہے۔ سنگ تراشی کا وہ روایتی ہنر جس نے کبھی کراچی کی عمارتوں کو شناخت دی تھی، نئی نسل میں تیزی سے کم ہوتا گیا۔ روزگار کے بدلتے مواقع، تعمیراتی طریقوں میں تبدیلی اور پتھر پر ہاتھ سے نقش تراشنے کی جگہ جدید مشینی طریقوں کے استعمال نے اس فن کو محدود کردیا۔ دستیاب رپورٹس میں سلاوٹ برادری کے بزرگوں کی جانب سے اس تشویش کا اظہار بھی سامنے آیا ہے کہ نئی نسل کے بہت سے افراد دوسرے پیشوں سے وابستہ ہوگئے اور روایتی سنگ تراشی کا ہنر کم ہوتا گیا۔

یہی وجہ ہے کہ سلاوٹ قبرستان کو صرف ایک قبرستان سمجھنا اس کی اصل اہمیت کو محدود کردینا ہے۔ یہ کراچی کے ان کاریگروں کا اجتماعی یادگار مقام ہے جنہوں نے اپنی زندگی میں دوسروں کے لیے عمارتیں تراشیں اور مرنے کے بعد اپنے کتبوں پر بھی فن کے وہ نمونے چھوڑ گئے جو آج شہر کی تاریخ سناتے ہیں۔

قبرستان کی بعض قبریں وقت کے اثرات کا شکار بھی ہوئی ہیں۔ کہیں کتبے اپنی جگہ سے ہٹ گئے ہیں اور کہیں پرانی سنگ تراشی کے آثار ماند پڑ رہے ہیں۔ تاریخی عمارتوں کے تحفظ کی طرح ایسے مقامات کے تحفظ کے لیے بھی ماہرین آثار قدیمہ، ماہرین تعمیرات، سنگ تراشی کے ماہرین اور متعلقہ برادری کی مشترکہ کوشش ضروری ہے۔ کیونکہ اگر یہ کتبے ٹوٹ گئے تو صرف چند پتھر نہیں ٹوٹیں گے، کراچی کی تعمیراتی تاریخ کے ایسے صفحات بھی ضائع ہوجائیں گے جنہیں دوبارہ لکھنا ممکن نہیں ہوگا۔

سلاوٹ قبرستان کراچی کے ماضی کا ایک خاموش مگر طاقتور بیانیہ ہے۔ یہاں قبروں کے درمیان کھڑے ہوکر شہر کی پرانی عمارتوں کو ایک نئے زاویے سے دیکھا جاسکتا ہے۔ میری ویدر ٹاور صرف ایک گھڑیال ٹاور نہیں رہتا، سندھ ہائی کورٹ صرف ایک تاریخی عمارت نہیں رہتی اور جیسلمیر کے محلات صرف دور راجستھان کی یاد نہیں رہتے۔ ان سب کے پیچھے وہ ہاتھ بھی دکھائی دینے لگتے ہیں جنہوں نے پتھر کو تراش کر شہر کو شکل دی۔

کراچی کے تاریخی ورثے کی حفاظت اگر واقعی مطلوب ہے تو ان عمارتوں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کی یاد بھی محفوظ کرنا ہوگی جنہوں نے انہیں اپنے ہاتھوں سے تعمیر کیا۔ سلاوٹ جماعت کا قبرستان اسی بھولی ہوئی تاریخ کا ایک نایاب خزانہ ہے، جہاں خاموش قبریں بولتی نہیں، مگر ان کے پتھریلے کتبے کراچی کی ایک پوری صدی کی تعمیراتی داستان سناتے ہیں۔