کراچی میں ایمرجنسی کے دوران ایمبولینس میں رہ جانے والا قیمتی موبائل فون تلاش کر کے اس کے مالک کو واپس کر دیا گیا۔ واقعے میں سندھ انٹیگریٹڈ ایمرجنسی اینڈ ہیلتھ سروسز 1122 کے ایمبولینس عملے نے امانت داری کی مثال قائم کی۔
واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک مریض کو شدید نوعیت کی ہنگامی طبی حالت میں سندھ انٹیگریٹڈ ایمرجنسی اینڈ ہیلتھ سروسز 1122 کی ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ مریض کے تیماردار کی تمام توجہ اپنے عزیز کی طبی حالت اور بروقت علاج پر مرکوز تھی، جس دوران وہ اپنا قیمتی موبائل فون غلطی سے ایمبولینس میں ہی بھول گئے۔
مریض کو ہسپتال پہنچانے کے بعد ایمبولینس معمول کے مطابق اپنے مرکز واپس پہنچی۔ اگلی ہنگامی کال کے لیے ایمبولینس کی تیاری کے دوران طبی عملے کے ایک رکن کو گاڑی کے اندر ایک قیمتی موبائل فون ملا۔
عملے نے موبائل فون کو محفوظ تحویل میں لینے کے بعد مریض کے تیماردار سے رابطہ کیا۔ موبائل فون واپس کرنے سے قبل متعلقہ شخص کی شناخت اور فون کی ملکیت کی تصدیق کی گئی۔ ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد آئی فون 16 اس کے اصل مالک کے حوالے کر دیا گیا۔
موبائل فون واپس ملنے پر مریض کے بیٹے جاسم نے کہا کہ جب اسے ایمبولینس سروس کے دفتر سے فون موصول ہوا اور بتایا گیا کہ اس کا موبائل فون عملے کے پاس موجود ہے تو وہ حیران رہ گیا۔
جاسم کے مطابق موبائل فون گم ہونے کے باعث وہ شدید پریشان تھا، تاہم جب اسے فون واپس ملا تو اس نے عملے کا شکریہ ادا کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں بھی ایسی ایمانداری کا مظاہرہ دیکھ کر اسے خوشی ہوئی اور وہ سندھ انٹیگریٹڈ ایمرجنسی اینڈ ہیلتھ سروسز 1122 کے عملے کی دیانت داری سے بے حد متاثر ہوا۔
بظاہر یہ ایک گمشدہ موبائل فون کی واپسی کا معمولی واقعہ دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے پیچھے موجود انسانی رویہ اسے ایک قابل ذکر مثال بناتا ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ ایمانداری کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب کوئی دیکھنے والا موجود نہ ہو، کوئی نگرانی نہ کر رہا ہو اور کسی فوری تعریف یا پذیرائی کی توقع بھی نہ ہو۔
ایمرجنسی طبی خدمات میں کام کرنے والا عملہ روزانہ مشکل حالات میں لوگوں کی مدد کرتا ہے۔ ایسے ماحول میں کسی قیمتی چیز کا ملنا اور اسے ذاتی فائدے کے بجائے دوسرے شخص کی امانت سمجھ کر محفوظ کرنا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اخلاقی اقدار کا تعلق صرف مالی حیثیت سے نہیں بلکہ انسان کے کردار سے ہوتا ہے۔
یہ واقعہ صرف ایک موبائل فون کی واپسی تک محدود نہیں بلکہ معاشرے میں اعتماد اور مثبت رویوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ روزمرہ زندگی میں بے شمار اچھے کام شاید اس لیے خبروں کا حصہ نہیں بنتے کہ ان میں سنسنی، تنازع یا اسکینڈل نہیں ہوتا۔
معاشرہ صرف بڑے واقعات سے نہیں بنتا۔ بعض اوقات ایک شخص کا خاموشی سے درست فیصلہ کرنا بھی لوگوں کے درمیان اعتماد اور امید کو مضبوط کرتا ہے۔ ایسے واقعات کو سامنے لانے کا مقصد کسی ایک فرد یا ادارے کو غیر معمولی حیثیت دینا نہیں بلکہ یہ یاد دلانا ہے کہ ایمانداری اور دیانت داری آج بھی ہمارے معاشرے میں موجود ہیں۔
ایک موبائل فون اپنے مالک کو واپس مل گیا، لیکن اس چھوٹے سے واقعے نے ایک بڑی حقیقت ضرور اجاگر کر دی کہ منفی خبروں کے درمیان بھی اچھائی موجود ہے اور شاید یہی امید ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

