جدہ پیکٹ یا سنٹو کا نیا ایڈیشن: پاکستان کا ایٹمی بھرم اور پیٹرو ڈالرز کا کھیل

جدہ

بین الاقوامی تعلقات اور جیو پولیٹکس کے ماہرین ان دنوں سعودی عرب کے شہر جدہ میں ہونے والی ایک ملاقات اور اس کے نتیجے میں بننے والے ایک نئے سہ فریقی اتحاد پر گہری نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی میزبانی میں ترک صدر رجب طیب اردوان، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مابین ہونے والا یہ مجوزہ دفاعی و معاشی معاہدہ بظاہر مسلم دنیا کا ایک نیا ‘سیکیورٹی محور’ دکھائی دیتا ہے۔

جذباتی نعروں اور میڈیا کی سنسنی خیزی سے ہٹ کر اگر تاریخ کے آئینے میں اس اتحاد کا پوسٹ مارٹم کیا جائے تو یہ منظرنامہ نیا نہیں بلکہ تاریخ کا ایک شناسا باب معلوم ہوتا ہے۔

آج سے چند دہائیاں قبل، سوویت یونین روس کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنے کے لیے امریکہ نے اسی خطے میں ‘سیٹو’ اور ‘سنٹو’ جیسے دفاعی اتحاد تشکیل دیے تھے۔ اس وقت کے سنٹو میں پاکستان، ترکیہ اور شاہ ایران کا ایران شامل تھا۔ تب کا ایران آج کے ایران سے کہیں زیادہ امیر، مستحکم اور تیل کی دولت سے مالامال تھا، اور شاہ ایران علاقائی خود مختاری کے بجائے واشنگٹن کے سب سے بڑے حلیف کے طور پر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے تھے۔

آج تاریخ نے خود کو دہرایا ہے، مگر ایک نئے اسکرپٹ کے ساتھ۔ اس بار خمینی کے نظریاتی ایران کی جگہ محمد بن سلمان کا سعودی عرب شامل ہے، جس کے پاس بے تحاشا دولت اور پیٹرو ڈالرز کی طاقت ہے۔ ظاہری بناوٹ کے لحاظ سے ماضی کے سنٹو اور آج کے اس نئے گٹھ جوڑ میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا، لیکن اس کے باوجود سٹریٹجک حقیقتیں بہت مختلف اور تلخ ہیں۔

اس نئے اتحاد کا سب سے کمزور اور تضادات سے بھرا پہلو سعودی عرب کی اپنی عسکری حیثیت ہے۔ حقیقت پسندانہ نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو سعودی عرب نہ تو کوئی روایتی عسکری طاقت ہے اور نہ ہی اس کے پاس کوئی بڑی افرادی قوت ہے۔ یمن کی طویل جنگ نے یہ ثابت کر دیا کہ جدید ترین امریکی ہتھیاروں کے انبار ہونے کے باوجود سعودی فوج تنہا علاقائی خطرات کو سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

ریاض دراصل ایک ‘پیٹرو ڈالر پاور’ ہے جو پاکستان اور ترکیہ کو چند بلین ڈالرز کے قرضے یا مؤخر ادائیگی پر تیل فراہم کرنے کے علاوہ کوئی حقیقی ‘سیکیورٹی چھتری’ نہیں دے سکتا۔ سعودی عرب خود اپنی بقا اور دفاع کے لیے پاکستان کی عسکری مہارت اور ترکیہ کی جدید ٹیکنالوجی کا محتاج ہے۔

دوسری طرف، ترکیہ اس تکون میں سب سے زیادہ فائدے کی پوزیشن میں ہے۔ وہ بیک وقت کئی سٹریٹجک کارڈز کھیل رہا ہے۔ ایک طرف وہ نیٹو کا مستقل رکن ہے جو اسے مغرب کی دفاعی چھتری فراہم کرتا ہے، دوسری طرف وہ یورپی یونین کا حصہ بننے کا دیرینہ خواہش مند ہے، اور اب وہ اس مسلم اتحاد کے ذریعے سعودی عرب کی اندھی دولت کو اپنی جدید ترین دفاعی صنعت، خصوصاً ڈرون ٹیکنالوجی اور ففتھ جنریشن جنگی جہاز کان، کے لیے فنڈنگ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

ترکیہ اس اتحاد میں ایک برابر کا، بلکہ بالادست شراکت دار ہے جو مغرب اور مشرق دونوں سے اپنا قد بڑھا رہا ہے۔

سب سے بڑا المیہ پاکستان کا ہے، جو باوجود ایک مسلم جوہری طاقت ہونے کے، اس اتحاد میں ہمیشہ ایک ‘جونیئر پارٹنر’ ہی رہے گا۔ آج کی دنیا میں جب امریکہ، چین اور روس جیسی سپر پاورز جوہری جنگ کے ہولناک نتائج کی وجہ سے ایٹم بم استعمال نہیں کر سکتیں، تو پاکستان جو آٹے، بجلی اور آئی ایم ایف کے قرضوں کے بحران سے نبردآزما ہے کبھی بھی اس کارڈ کو جارحانہ سودے بازی کے لیے استعمال نہیں کر سکتا۔

پاکستان کا ایٹم بم صرف بھارت کے خلاف ایک دفاعی ڈیٹرنس ہے، عالمی سطح پر فیصلوں کا محور نہیں۔

ماضی میں جوہری افزودگی کے معاملے میں لگنے والے الزامات کی وجہ سے عالمی برادری پہلے ہی پاکستان کی نگرانی کرتی ہے۔ جب معاشی طور پر دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑا ملک اپنی روزمرہ کی تنخواہیں دینے کے لیے خلیجی ممالک کا محتاج ہو، تو وہ میز پر برابری کی بنیاد پر بات نہیں کر سکتا۔

پاکستان کی حیثیت اس اتحاد میں صرف ایک ‘سیکیورٹی فراہم کار’ جیسی رہ جاتی ہے، جہاں وہ عسکری خدمات کے بدلے ڈالرز وصول کرتا ہے۔

یہیں سے پاکستانی عسکری اور سیاسی قیادت کا وہ ‘سٹریٹجک مخمصہ’ جنم لیتا ہے جس میں وہ بری طرح الجھی ہوئی ہے۔ عسکری قیادت اور موجودہ سیاسی حکمران ڈیفالٹ کے دائمی خطرے کے سبب ڈالرز کے حصول کے لیے یہ جیو پولیٹیکل کھیل کھیلنے پر مجبور ہیں۔ انہیں معیشت کو سانس دلانے کے لیے سعودی فنڈز چاہئیں، لیکن دوسری طرف وہ اس اتحاد کو ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت کبھی نہیں دے سکتے۔

پاکستان کبھی بھی ایران سے براہ راست نہیں الجھے گا، کیونکہ ایران کا ٹوٹنا یا وہاں کا عدم استحکام پاکستان کے اپنے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بدامنی کے ایسے ہولناک خطرات پیدا کر دے گا جنہیں سنبھالنا ملکی سلامتی کے لیے ناممکن ہو جائے گا۔ 900 کلومیٹر طویل پاک ایران سرحد پر کسی بھی قسم کی خانہ جنگی کا مطلب پاکستان کے داخلی سیکیورٹی ڈھانچے کی تباہی ہے۔ قیادت اس وقت توازن برقرار رکھنے کی ایک انتہائی نازک اور تھکا دینے والی رسی پر چل رہی ہے۔

مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کھیل کب تک چلے گا؟

کیا وقتی معاشی بقا کے لیے جیو پولیٹیکل کارڈز کھیل کر پاکستان کبھی ایک آزاد اور خود مختار قوم بن پائے گا؟

اس کا جواب انتہائی تلخ ہے۔ جب تک پاکستانی ادارے ایک متفقہ آئین کی مکمل پاسداری نہیں کرتے اور عوام کے حقیقی نمائندوں کو بلا شرکت غیرے فیصلہ ساز نہیں بناتے، یہ صورتحال ایسی ہی رہے گی۔ جب ادارے اپنی آئینی حدود سے تجاوز کرتے ہیں اور سیاسی انجینئرنگ کا حصہ بنتے ہیں، تو ملک میں سیاسی عدم استحکام مستقل شکل اختیار کر لیتا ہے، جس کے نتیجے میں کوئی طویل المیعاد معاشی پالیسی نہیں بن پاتی۔

غیر منتخب قوتیں یا بیساکھیوں پر کھڑی حکومتیں اپنے وجود کے لیے بیرونی سہاروں، آئی ایم ایف یا خلیجی ڈالرز، کی محتاج ہوتی ہیں۔ ان کی ترجیح ملک کی خود انحصاری نہیں بلکہ صرف اپنے اقتدار کی بقا ہوتی ہے۔ ایک حقیقی عوامی حکومت، جس کے پاس عوام کا حقیقی مینڈیٹ ہو، وہی اندرونی طور پر سخت معاشی اصلاحات نافذ کرنے اور بیرونی طور پر ایک باوقار خارجہ پالیسی اپنانے کی جرأت کر سکتی ہے۔

قومی سلامتی کا تصور اب صرف ٹینکوں اور میزائلوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ معاشی استحکام اور انسانی ترقی سے جڑا ہوا ہے۔

پاکستان کو اس دائمی دلدل سے نکالنے کے لیے اب کسی بیرونی مسیحا یا جیو پولیٹیکل جادو کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ عوامی سطح پر ایک بڑے شعوری اور سیاسی دباؤ کی ضرورت ہے۔ جب تک عوام میں اپنے آئینی حقوق، ووٹ کی طاقت اور قانون کی حکمرانی کا شعور بیدار نہیں ہوگا، ملکی مقتدر حلقے خود احتسابی کی طرف مائل نہیں ہوں گے۔

حقیقی آزادی کا راستہ راولپنڈی، واشنگٹن یا ریاض سے نہیں، بلکہ چاروں صوبوں اور اسلام آباد کی پارلیمنٹ اور عوام کے فیصلوں سے نکلتا ہے۔ جب تک یہ بنیادی سچائی تسلیم نہیں کی جائے گی، پاکستان کا یہ سٹریٹجک اور معاشی بحران اسی طرح دائروں میں سفر کرتا رہے گا اور ہم ہر نئے ‘سنٹو’ کو ایک تاریخی فتح سمجھ کر جشن مناتے رہیں گے۔

اسی بارے میں: