[rank_math_breadcrumb]

میرپورخاص، جہاں ‘دنیا بھر میں مشہور’ پاکستان کے سب سے میٹھے آم اگتے ہیں

سندھ کا ضلع میرپورخاص صرف اپنی گرمی کے لیے ہی مشہور نہیں بلکہ اسے پاکستان کے آموں کا دل بھی کہا جاتا ہے۔

ہر سال موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی یہاں کے سرسبز باغات سنہری، سبز اور سرخ رنگ کے آموں سے لد جاتے ہیں۔ دور دور تک پھیلے یہ باغات نہ صرف ایک دلکش منظر پیش کرتے ہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کے روزگار اور سندھ کی زرعی معیشت کی بھی بنیاد ہیں۔

زرخیز زمین، گرم آب و ہوا اور مناسب موسمی حالات نے میرپورخاص کو آم کی کاشت کے لیے پاکستان کے بہترین علاقوں میں شامل کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں پیدا ہونے والے آم اپنی خوشبو، ذائقے اور معیار کے باعث نہ صرف ملک بھر میں پسند کیے جاتے ہیں بلکہ مشرق وسطیٰ، یورپ، برطانیہ، شمالی امریکہ اور دیگر کئی ممالک تک برآمد بھی کیے جاتے ہیں۔

میرپورخاص میں آم کی متعدد اقسام کاشت کی جاتی ہیں جن میں سندھڑی، چونسہ، لنگڑا، انور رٹول، دودھسری، سرولی اور دسہری نمایاں ہیں۔ تاہم سندھڑی کو ان تمام اقسام میں خصوصی مقام حاصل ہے۔ اس کا رسیلا اور خوشبودار گودا، متوازن مٹھاس، کم ریشہ اور نسبتاً طویل شیلف لائف اسے ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں میں ایک ممتاز شناخت عطا کرتی ہے۔ پاکستانی آموں کا ذکر ہو اور سندھڑی کا نام نہ آئے، ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔

آم کا درخت لگانے سے لے کر اس پر پھل آنے تک کئی برس درکار ہوتے ہیں۔ کسان اس دوران مسلسل آبپاشی، کھاد، شاخوں کی تراش خراش اور بیماریوں سے بچاؤ کے لیے محنت کرتے ہیں۔ جب موسم پکنے کا آتا ہے تو باغات میں سرگرمیاں عروج پر پہنچ جاتی ہیں۔ پھل کو احتیاط سے توڑا جاتا ہے تاکہ اس کی جلد متاثر نہ ہو اور برآمد کے دوران معیار برقرار رہے۔

میرپورخاص کے باغات میں آج بھی کئی مقامات پر روایتی انداز میں لمبی بانس کی چھڑی کے ساتھ جالی دار تھیلا استعمال کرکے آم توڑے جاتے ہیں، جبکہ بعض مزدور درختوں پر چڑھ کر ہاتھ سے بھی پھل اتارتے ہیں۔ اس کے بعد آموں کو سائز، رنگ، وزن اور معیار کے مطابق الگ کیا جاتا ہے۔ منتخب آم پیکنگ ہاؤسز میں پہنچائے جاتے ہیں جہاں انہیں صاف کرنے، درجہ بندی کرنے اور برآمدی معیار کے مطابق پیک کرنے کے بعد مختلف شہروں اور بیرون ملک روانہ کیا جاتا ہے۔

میرپورخاص کی معیشت میں آم کی صنعت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہزاروں کسان، باغبان، مزدور، پیکنگ ہاؤسز، ٹرانسپورٹرز، کولڈ اسٹوریج مالکان اور برآمد کنندگان اس شعبے سے وابستہ ہیں۔ آم کا موسم شروع ہوتے ہی پورے خطے میں معاشی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے، جبکہ مقامی منڈیاں بھی خریداروں اور تاجروں سے بھر جاتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر جدید زرعی ٹیکنالوجی، معیاری پیکنگ، کولڈ چین اور برآمدی سہولیات میں مزید بہتری لائی جائے تو پاکستان عالمی آم منڈی میں اپنی برآمدات کو مزید بڑھا سکتا ہے، جس میں میرپورخاص مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے۔

تاہم موسمیاتی تبدیلی، شدید گرمی، بے ترتیب بارشیں، پانی کی قلت اور درختوں پر حملہ آور ہونے والے کیڑے آم کے باغات کے لیے نئے چیلنج بن کر سامنے آ رہے ہیں۔ زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید کاشتکاری، پانی کے مؤثر استعمال اور باغات کے بہتر انتظام کے ذریعے ان خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے تاکہ آئندہ نسلیں بھی میرپورخاص کے اسی ذائقے اور مٹھاس سے لطف اندوز ہو سکیں۔

ہر آم کے پیچھے صرف ایک پھل نہیں بلکہ برسوں کی محنت، کسان کا تجربہ، قدرت کی مہربانی اور سندھ کی زرخیز مٹی کی خوشبو پوشیدہ ہوتی ہے۔ یہی عوامل میرپورخاص کو پاکستان کے ممتاز آم پیدا کرنے والے اضلاع میں ایک منفرد مقام عطا کرتے ہیں۔

‘ساگا ڈیجیٹل’، پاکستان کا اے آئی پاورڈ ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم۔

قدرت، زراعت، ثقافت اور پاکستان کے منفرد مقامات کی ایسی ہی مستند اور دلچسپ کہانیوں کے لیے ‘ساگا ڈیجیٹل’ کو فالو کریں۔

اسی بارے میں: