چاکیواڑی سے شبیر آباد تک: کراچی کی تعمیر اور داؤدی بوہرہ برادری کا معاشی سفر

کراچی کی تاریخ محض سیمنٹ اور اینٹوں کی عمارتوں کا نام نہیں، بلکہ ان تاجروں کے خون اور پسینے کی داستان ہے جنہوں نے اسے ‘باب سندھ’ بنایا۔

1840 کے عشرے میں جب برطانوی راج نے کراچی پورٹ کو بین الاقوامی تجارت کے لیے تیار کرنا شروع کیا، تو کچھ، گجرات، بمبئی، سورت اور کھمبات سے آنے والے داؤدی بوہرہ تاجر بھی اس شہر کے ابتدائی معماروں میں شامل تھے۔ انہوں نے مصر، یمن اور مشرقی افریقہ میں پھیلے اپنے قدیم تجارتی نیٹ ورک کو کراچی کی بندرگاہ سے جوڑ دیا۔

کپاس، گندم اور چمڑے کی برآمدات سے لے کر برطانوی ہارڈ ویئر اور مشینری کی درآمدات تک کیماڑی اور اولڈ سٹی کے گودام بوہری کمپنیوں کی بصیرت کے شاہد بنے۔ جوڑیا بازار، جونا مارکیٹ، لائٹ ہاؤس اور کاغذ مارکیٹ جیسی ہول سیل منڈیاں، جو آج بھی پورے پاکستان کو سامان سپلائی کرتی ہیں، ان کی بنیاد اور ابتدائی سرمایہ کاری میں بوہری تاجروں کا کلیدی ہاتھ تھا۔

کراچی جیسے جیو پولیٹیکل اور پرشور مرکز میں، جہاں اقتدار کی جنگ اکثر سڑکوں اور نعرے بازی کے ذریعے لڑی جاتی ہے، داؤدی بوہرہ برادری نے اپنے وجود اور اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے ایک منفرد حکمت عملی اپنائی۔ یہ برادری انتخابی سیاست کے شور و غل کے بجائے پس پردہ رہ کر معاشی استحکام، کارپوریٹ طاقت اور ایک غیر معمولی اندرونی فلاحی نیٹ ورک کے ذریعے اپنا اثر قائم رکھتی ہے۔

ان کا بنیادی اصول ‘سیاسی غیر جانب داری’ یعنی کسی سیاسی یا لسانی جماعت سے علانیہ وابستگی کے بجائے ‘وقت کی حکومت کا احترام اور قانون کی پاسداری’ کو اپنا ہتھیار بنانا ہے۔

یہ سفر لیاری کی پرانی چاول گلی اور چاکیواڑی کی ہارڈ ویئر مارکیٹوں سے شروع ہو کر شبیر آباد کے جدید بنگلوں، سائٹ کے صنعتی زونز اور سینیٹ آف پاکستان کے ایوانوں تک پھیلا ہوا ہے۔

پس پردہ سفارت کاری اور مقتدر حلقوں سے روابط

بوہرہ برادری کی قیادت اور تاجر اشرافیہ نے وقت کی حکومت، بیوروکریسی اور عسکری قیادت کے ساتھ ہمیشہ مضبوط اور پرامن تعلقات برقرار رکھے ہیں۔ اس ‘بیک ڈور ڈپلومیسی’ کا مقصد کاروباری مفادات کا تحفظ اور کمیونٹی کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب بھی ان کے عالم روحانی پیشوا، 53ویں داعی المطلق سیدنا مفضل سیف الدین کراچی تشریف لاتے ہیں تو ان کا استقبال سرکاری مہمان کے طور پر کیا جاتا ہے۔ حکومت پاکستان نے ان کی عالمی فلاحی خدمات کے اعتراف میں انہیں ملک کے سب سے بڑے سول اعزاز ‘نشان پاکستان’ سے بھی نوازا ہے۔

اگرچہ یہ برادری مجموعی طور پر انتخابی سیاست سے دور رہتی ہے، لیکن پاکستان کی مقتدر سیاسی اشرافیہ میں ان کے نمائندے انتہائی اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ اس کی بڑی مثال پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سینیٹ کے سابق ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا ہیں، جو وفاقی وزیر خزانہ اور وزیر سرمایہ کاری بھی رہے۔

تقسیم کے وقت اپنے آبائی وطن بھارت کے صوبہ گجرات کے علاقے کچھ، مڈئی مانڈوی سے ہجرت کر کے کراچی آنے والے اس خاندان کا یہ چشم و چراغ آج پاکستان کے ایوانوں میں بوہرہ برادری کا ایک معتبر سفارتی چہرہ ہے۔

پاکستان کی معاشی اور آئینی تاریخ بوہرہ برادری کی نمایاں شخصیات کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے۔ قیام پاکستان کے وقت جب نئی ریاست شدید مالی بحران کا شکار تھی تو قائد اعظم محمد علی جناح کی اپیل پر بوہرہ تاجروں اور ان کے روحانی پیشوا نے اسٹیٹ بینک اور سرکاری نظام کو چلانے کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز اور قرض فراہم کیے۔

اس کے بعد سیف الدین نور الدین جھومکا والا جیسی نامور شخصیات نے اس سلسلے کو آگے بڑھایا، جنہوں نے ایک طویل عرصے تک ای ایف یو انشورنس کے سربراہ کے طور پر ملکی کارپوریٹ شعبے پر انمٹ نقوش چھوڑے۔

عدالتی محاذ پر جسٹس ریٹائرڈ فخر الدین جی ابراہیم کا نام دیانت اور قانون کی بالادستی کا استعارہ بنا، جو چیف الیکشن کمشنر، سپریم کورٹ کے جج اور گورنر سندھ رہے۔ تعمیری شعبے میں عباس ساجد اور بوہرہ ڈویلپرز کا کردار کلیدی رہا، جنہوں نے نارتھ ناظم آباد، صدر اور کلفٹن کے رئیل اسٹیٹ شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا۔

بوہرہ پیر کا پس منظر

قدیم کراچی کی معاشی تاریخ کو سمجھنے کے لیے رنچھوڑ لائن اور عیدگاہ کے قریب واقع تاریخی سڑک ‘بوہرہ پیر’ کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔ اس علاقے کا نام وہاں مدفون بوہرہ برادری کے ایک معتبر اور قدیم ولی کے مزار مبارک کی نسبت سے پڑا۔ ماضی کا یہ رہائشی گڑھ آج پورے کراچی میں پینٹ، ہارڈ ویئر، کاغذ، کیمیکلز اور گلاس مارکیٹ کی سب سے بڑی ہول سیل منڈی بن چکا ہے۔

اگرچہ بوہری خاندان اب ڈی ایچ اے، کلفٹن یا نارتھ ناظم آباد منتقل ہو چکے ہیں، لیکن ان کی دکانیں اور بزرگوں کی یادیں آج بھی ان گلیوں میں محفوظ ہیں۔

مساجد، جامعات اور سماجی خود کفالت کا ماڈل

بوہرہ برادری کی یہ تمدنی خصوصیت ہے کہ وہ اپنے رہائشی مراکز کو اپنی مساجد اور جامعات کے گرد آباد کرتے ہیں۔ صدر بوہری بازار میں واقع ان کا مرکزی تمدنی مرکز ‘طاہری مسجد’ ہے، جبکہ سٹی کورٹ کے قریب 1931 میں سرخ پتھر سے تعمیر شدہ تاریخی ‘آدم مسجد’ ان کے کلاسیکی طرز تعمیر کا نمونہ ہے۔

حیدری میں واقع ‘برہانی مسجد’ ان کے جدید مرکز کی پہچان ہے، جبکہ نارتھ ناظم آباد میں ان کی عالمی عربی اکیڈمی ‘الجامعۃ السیفیہ’ کا کیمپس اپنے فاطمی اور اسلامی فن تعمیر کی وجہ سے منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ گارڈن کے قریب واقع انتہائی منظم اور صاف ستھرا قبرستان ‘نور باغ’ ان کے اعلیٰ شہری نظم و ضبط کا عکاس ہے۔

اس برادری کی سب سے بڑی طاقت ان کا اندرونی، خود کفیل سماجی نظام ہے۔ ان کے ہاں قائم ‘قرض حسنہ’ کا نظام سود سے پاک کاروباری قرض فراہم کرتا ہے، جس کی بدولت برادری کا کوئی بھی فرد خط غربت سے نیچے نہیں رہتا۔ اس معاشی ماڈل کے ساتھ ساتھ انہوں نے صحت اور تعلیم کے شعبے میں بھی بے مثال ادارے قائم کیے ہیں۔

پاکستان چوک کا ‘برہانی ہسپتال’ اور نارتھ ناظم آباد کا ‘سیفی ہسپتال’ جدید ترین سہولیات کے حامل ادارے ہیں۔ تعلیم میں ان کا نیٹ ورک ‘ایم ایس بی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ’ اور سیفیہ اسکولز پر مشتمل ہے، جو شہر میں سو فیصد خواندگی کی شرح برقرار رکھنے میں مددگار ہیں۔

تھال کے آداب

میٹھے اور کھارے کی تمدنی سفارت کاری

بوہرہ برادری کا طرز زندگی جتنا منظم ہے، ان کا روایتی کھانا دنیا بھر میں اتنا ہی منفرد اور ذائقوں کا حسین امتزاج مانا جاتا ہے۔ ان کے کھانوں پر یمن، گجرات اور بمبئی کے اثرات نمایاں ہیں۔ ان کے طعام کا عروج ان کا ‘تھال نظام’ ہے، جہاں پورا خاندان یا مہمان ایک بڑے گول تھال کے گرد زمین پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں، جو مساوات، عاجزی اور باہمی محبت کی علامت ہے۔

تھال کے خاص آداب

ایک چٹکی نمک سے شروعات

تھال پر بیٹھتے ہی سب سے پہلے ہر فرد ایک چٹکی نمک چکھتا ہے، جسے ہاضمے اور منہ کا ذائقہ صاف کرنے کے لیے لازمی مانا جاتا ہے۔ کھانے کا اختتام بھی اسی نمک پر ہوتا ہے۔

مٹھاس سے شروعات اور کھارے کا توازن

بوہری ضیافت کی شروعات ہمیشہ آئس کریم یا مٹھائی ‘مٹھانس’ سے ہوتی ہے۔ اس کے بعد نمکین ابتدائی پکوان یعنی ‘کھارانس’ پیش کیا جاتا ہے، جیسے قیمہ سموسہ یا ‘لگن نی سیکھ’۔ اس کے بعد دوبارہ ایک اور میٹھا اور آخر میں مرکزی کھانا پیش کیا جاتا ہے۔

دال چاول پلیڈو سے کلامرا تک، شاہی ذائقے

بوہری دسترخوان کے چند خاص اور روایتی پکوان ان کی تمدنی شناخت ہیں، جیسے: دال چاول پلیڈو

یہ ان کی ایک انتہائی روایتی اور پسندیدہ ڈش ہے، جو تہواروں اور خاص دعوتوں پر بڑے شوق سے بنائی اور تھال میں کھائی جاتی ہے۔

بوہری بریانی اور کھرڈی

عام سندھی بریانی کے برعکس ان کی بریانی کم مسالے دار، ہلکی میٹھی اور خوشبودار ہوتی ہے، جس میں کشمش اور آلو بخارے کا استعمال ہوتا ہے، جبکہ مٹن اور دودھ سے بنا سفید سوپ ‘کھرڈی’ ان کا روایتی ابتدائی پکوان ہے۔

کلامرا

عید میلاد النبی ﷺ پر بننے والی یہ ان کی متبرک مٹھائی ہے۔ یہ چاول، گاڑھے دہی، چینی، ملائی اور عرق گلاب کا ایک ٹھنڈا امتزاج ہے، جسے انار کے دانوں اور پستے سے سجایا جاتا ہے۔

لچھکا اور بیڈا میسو

نئے سال کے پہلے دن ناشتے میں گڑ اور دیسی گھی سے بنا حلوہ ‘لچھکا’ کھایا جاتا ہے، جبکہ انڈوں اور ماوے سے تیار شدہ نفیس برفی ‘بیڈا میسو’ ان کی شاہی مٹھائی ہے۔ صدر میں واقع ‘ایف ٹی سویٹس’ کا ‘ملائی کھاجا’ اور پاکستان چوک کا ‘مالپورا ربڑی’ اور ‘سانچہ آئس کریم’ پورے کراچی میں مقبول ہیں۔

مجموعی طور پر داؤدی بوہرہ برادری کا یہ سفر ثابت کرتا ہے کہ بقا اور ترقی کے لیے شور و غل نہیں بلکہ خاموش جدوجہد، معاشی نظم و ضبط اور سماجی خود کفالت ناگزیر ہے۔ یہ برادری آج بھی کراچی کی ماحولیات اور بنیادی ڈھانچے میں اپنا خاموش حصہ ڈال رہی ہے۔

‘الندیل البرہانی’ کے تحت کھیلوں کے میدانوں اور پارکوں کا قیام ہو یا ‘کلین کراچی’ اور شجرکاری کی مہمات میں برہانی گارڈز کے رضاکاروں کی صفائی ستھرائی، یہ برادری ثابت کرتی ہے کہ شہر سے محبت صرف نعروں سے نہیں بلکہ اس کے ماحول اور معیشت کو سنوارنے سے ہوتی ہے۔

پاکستان کی معیشت کے لیے بوہرہ برادری کا بلا سود کاروباری ماڈل اور سیاسی غیر جانب داری کی حکمت عملی ایک بہترین کیس اسٹڈی ہے، جو یہ سکھاتی ہے کہ تصادم کے بجائے سماجی و اقتصادی خدمات کو ڈھال بنا کر کیسے ایک چھوٹی کمیونٹی خود کو محترم اور محفوظ بنا سکتی ہے۔

لیاری کے چاکیواڑی کی تنگ گلیوں سے لے کر شبیر آباد کے پوش فلیٹوں تک، اور کراچی پورٹ کے گوداموں سے لے کر تھال کے آداب تک، داؤدی بوہرہ برادری کراچی کے ماضی، حال اور مستقبل کا ایک ایسا روشن باب ہے جس کے بغیر اس شہر کی تاریخ ہمیشہ ادھوری رہے گی۔ ابراہیم صالح محمد

اسی بارے میں: