زاویہ: ملیر کا معصوم امین میمن کہاں ہے؟ سب خاموش ہیں، آخر کب تک؟

امین میمن

کبھی کبھی کسی ایک گھر کا دکھ پورے معاشرے کی بے حسی کا آئینہ بن جاتا ہے۔ ایک ایسا زخم جو صرف ایک خاندان کے سینے پر نہیں لگتا بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کو بھی لہولہان کر دیتا ہے۔

مگر افسوس، جب معاشرہ خاموش ہو جائے، جب سیاست مفادات کی قیدی بن جائے، جب سماجی تنظیمیں صرف تصویروں اور بیانات تک محدود رہ جائیں، اور جب انصاف کے دروازے برسوں تک بند رہیں، تو مظلوم کی فریاد آسمان تک ضرور پہنچتی ہے، مگر زمین پر سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔

آج بھی ملیر سمیت پورے سندھ میں ایک ایسا ہی دردناک سوال گونج رہا ہے۔ ایک ایسا سوال جس کا جواب نہ کسی منتخب نمائندے کے پاس ہے، نہ کسی سیاسی جماعت کے پاس، نہ کسی سماجی تنظیم کے پاس، اور نہ ہی ان اداروں کے پاس جن پر شہریوں کے جان و مال اور بچوں کے تحفظ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

سب خاموش ہیں، سب تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ ملیر سمیت پورے سندھ کی سیاسی، سماجی، مذہبی اور انسانی حقوق کی دعوے دار تنظیموں کے کانوں میں جیسے روئی ٹھونس دی گئی ہے۔ آنکھوں پر بے حسی کی ایسی چادر پڑ چکی ہے کہ انہیں میمن گوٹھ کے ایک غریب محنت کش اللہ بچایو میمن کے گھر میں برپا ہونے والی قیامت دکھائی نہیں دیتی۔ ایک ماں کی سسکیوں کی آواز شاید ان کے ایوانوں تک پہنچتی ہی نہیں، یا پھر وہ سن کر بھی خاموش رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

کیا واقعی ہمارا ضمیر اتنا مر چکا ہے کہ ایک معصوم بچے کی گمشدگی بھی ہمیں جھنجھوڑ نہیں سکتی؟

سال 2022 میں ملیر کے قدیم اور مصروف تجارتی علاقے میمن گوٹھ کی ایک بھری بازار سے معصوم امین میمن ولد اللہ بچایو میمن پراسرار طور پر لاپتا ہوگیا۔ وہ ایک عام بچہ تھا، جس کے خواب بھی عام بچوں جیسے تھے۔ اسے کیا معلوم تھا کہ ایک دن وہ اچانک اپنے والدین، بہن بھائیوں اور دوستوں سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو جائے گا اور اس کی تلاش میں ایک خاندان کی پوری زندگی انتظار کی اذیت میں بدل جائے گی۔

پانچ سال گزر چکے ہیں۔ وقت گزرتا رہا، موسم بدلتے رہے، حکومتیں بدلتی رہیں، افسر بدلتے رہے، منتخب نمائندے بدلتے رہے، مگر نہیں بدلا تو صرف ایک ماں کا انتظار۔ آج بھی وہ دروازے کی طرف دیکھتی ہے، ہر آہٹ پر چونک اٹھتی ہے، ہر قدموں کی چاپ پر اس کا دل دھڑکنے لگتا ہے کہ شاید میرا امین واپس آگیا ہو۔

ایک باپ، جو اپنے بچوں کا سہارا ہوتا ہے، آج خود بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ وہ اپنے بیٹے کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ہر دروازہ کھٹکھٹا چکا ہے۔ اس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش اب صرف اتنی رہ گئی ہے کہ کسی دن کوئی آکر کہہ دے، ‘آپ کا بیٹا مل گیا۔’

چھ بہن بھائی آج بھی اپنے بھائی کی یاد میں اداس ہیں۔ عید ہو یا خوشی کا کوئی موقع، امین کی کمی ہر لمحہ محسوس ہوتی ہے۔ گھر میں اس کے کھلونے، اس کی یادیں اور اس کی ہنسی آج بھی زندہ ہیں، مگر وہ خود کہیں نظر نہیں آتا۔

جب ملیر کے صحافیوں کی ایک ٹیم امین کے گھر پہنچی تو وہاں غم کا ایسا عالم تھا جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ ماں کی آنکھوں سے بہتے آنسو، باپ کی خاموشی، بہن بھائیوں کی ٹوٹتی امیدیں اور گھر کی ویرانی ایک ایسا منظر پیش کر رہی تھیں جو کسی بھی صاحبِ دل انسان کو رلا دے۔

اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہر ممکن دروازہ کھٹکھٹایا، متعلقہ اداروں سے رابطے کیے، منتخب نمائندوں سے ملاقاتیں کیں، سماجی تنظیموں سے مدد مانگی، مگر انہیں صرف وعدے ملے، عملی اقدامات نہیں۔

یہ صرف ایک بچے کی گمشدگی کا معاملہ نہیں بلکہ ریاستی ذمہ داری، انسانی حقوق اور انصاف کے نظام کا امتحان ہے۔

پاکستان کا آئین ہر شہری کے جان و مال اور آزادی کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 9 کے مطابق ہر شہری کو زندگی اور آزادی کا بنیادی حق حاصل ہے، جبکہ آرٹیکل 14 انسانی وقار کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔ اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوقِ اطفال (CRC)، جس پر پاکستان بھی دستخط کر چکا ہے، ریاست کو پابند کرتا ہے کہ ہر بچے کی حفاظت، شناخت اور بحفاظت بازیابی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اگر ایک بچہ برسوں تک لاپتا رہے اور ریاست اس کے بارے میں کوئی واضح جواب نہ دے سکے تو یہ صرف ایک خاندان کا المیہ نہیں بلکہ پورے نظام کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔

سندھ میں آئے روز بچوں کے اغوا اور گمشدگی کے خلاف احتجاج، سیمینار، ریلیاں اور دھرنے ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مہمات چلتی ہیں، بیانات جاری ہوتے ہیں، مگر افسوس کہ ان آوازوں میں امین میمن کا نام شاید ہی سنائی دیتا ہو۔ کسی کے ہاتھ میں اس کی تصویر نظر نہیں آتی۔ آخر کیوں؟ کیا ایک غریب مزدور کا بچہ اس معاشرے کا بچہ نہیں؟ کیا اس کی ماں کے آنسو کم قیمت ہیں؟

خاموشی بعض اوقات جرم میں شریک ہونے کے مترادف ہوتی ہے۔ جب معاشرہ ظلم پر خاموش ہو جائے تو ظالم مضبوط اور مظلوم مزید کمزور ہو جاتا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی وابستگیوں، ذاتی مفادات اور طبقاتی تقسیم سے بالاتر ہو کر ہر باشعور شہری امین میمن سمیت تمام لاپتا بچوں کی بازیابی کے لیے آواز بلند کرے۔

یہ صرف اللہ بچایو میمن کے خاندان کی جنگ نہیں، بلکہ ہر اس والدین کی جنگ ہے جو اپنے بچوں کو محفوظ مستقبل دینا چاہتے ہیں۔ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل کسی اور گھر میں یہی قیامت برپا ہو سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امین میمن کے مقدمے سمیت تمام لاپتا بچوں کے کیسز کو دوبارہ کھولا جائے، جدید فرانزک، ڈیجیٹل اور تفتیشی ذرائع استعمال کیے جائیں، تحقیقات کی شفاف نگرانی کی جائے، اگر کہیں غفلت یا کوتاہی ہوئی ہے تو اس کا بھی تعین کیا جائے، اور متاثرہ خاندانوں کو مسلسل پیش رفت سے آگاہ رکھا جائے۔

یہ معاملہ سیاست کا نہیں، انسانیت کا ہے۔ یہ کسی جماعت یا برادری کا نہیں، ہر اس شخص کا مسئلہ ہے جو انصاف، قانون اور انسانی وقار پر یقین رکھتا ہے۔

آخر میں صرف ایک سوال رہ جاتا ہے، جو ہر حساس دل، ہر انصاف پسند انسان اور ہر ذمہ دار ادارے سے جواب مانگ رہا ہے۔

آخر امین میمن کہاں ہے؟

کیا اسے آسمان نگل گیا یا زمین کھا گئی؟ یا پھر ہماری بے حسی، ہماری خاموشی اور ہماری اجتماعی غفلت نے اس معصوم کی آواز کو ہمیشہ کے لیے دبا دیا؟

جب تک اس سوال کا جواب نہیں ملتا، تب تک صرف امین کا خاندان ہی نہیں بلکہ ہمارا پورا معاشرہ انصاف کے کٹہرے میں کھڑا رہے گا۔ ایک ماں کی سسکیاں، ایک باپ کی بے بسی اور بہن بھائیوں کا انتظار ہم سب سے پوچھتا رہے گا کہ آخر ہم کب جاگیں گے؟

اسی بارے میں: