جب فرانس اور اسپین کے ہرے بھرے، شاداب جنگلات پچھلے دنوں 40 ڈگری سینٹی گریڈ کی گرمی میں شعلوں کی نذر ہو رہے تھے، اور دنیا نے جدید ترین یورپ کے ساڑھے تین لاکھ سے زائد شہریوں کو ‘موسمیاتی پناہ گزین’ بن کر اپنے ہی گھروں سے بھاگتے دیکھا، تو ماحولیاتی انصاف کے تابوت میں آخری کیل بھی ٹھک گئی۔
یہ مناظر چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ کرہ ارض کا بخار اب انسان کے قابو سے باہر ہو چکا ہے۔
مگر یورپ کی اس بے بسی کو دیکھ کر پاکستان کے ایوانوں اور دانشوروں کے ماتھے پر پسینہ آ جانا چاہیے تھا۔ اگر تمام تر وسائل، جدید ٹیکنالوجی اور بے پناہ سرمائے کے مالک اپنے جنگلات کی آگ بجھانے اور شہریوں کو محفوظ رکھنے میں ناکام ہیں، تو پگھلتے گلیشیئرز، بے وقت مون سون اور جھلستی دھوپ کے دہانے پر بیٹھے پاکستان کا مستقبل کیا ہوگا؟
‘گناہِ بے لذت‘
اگر ہم اعداد و شمار کے آئینے میں اپنی شکل دیکھیں تو ایک کڑوی اور ہولناک حقیقت سامنے آتی ہے۔ عالمی کاربن آلودگی میں پاکستان کا کل حصہ محض 0.85 فیصد ہے، جبکہ فی کس کاربن اخراج کے لحاظ سے ہم دنیا میں 147ویں نمبر پر آتے ہیں۔ یعنی ہم نے کاربن کی اس اندھی صنعتی دوڑ میں کوئی عیاشی نہیں کی، پھر بھی ہم محض ‘گناہِ بے لذت’ کے اسیر ہیں۔
مگر سزا کا عالم یہ ہے کہ جرمن واچ کے کلائمیٹ رسک انڈیکس کے مطابق ہم دنیا کے ان چند بدقسمت ترین ممالک کی فہرست میں سرِفہرست ہیں جو ماحولیاتی تباہی کے سب سے بڑے اور براہِ راست نشانے پر ہیں۔ سال 2024 پاکستان کی تاریخ کا گرم ترین سال رہا اور 2025 پچھلے 65 سالوں کا دوسرا گرم ترین سال بن کر گزرا۔ ہم ایک ایسے دوزخ کے دہانے پر کھڑے ہیں جہاں اوسط درجہ حرارت عام حد سے ایک ڈگری سیلسیس سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔
زراعت پر تازیانہ، کھیتوں سے سڑکوں تک کا بحران
موسمیاتی تبدیلی کا یہ تازیانہ صرف شہروں کے ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر اور کاغذی رپورٹیں پڑھ کر محسوس نہیں کیا جا سکتا، اس کی واقعی اور خونی قیمت ہمارا کسان چکا رہا ہے۔ پاکستان کی زراعت، جو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی اور کروڑوں انسانوں کے روزگار کا واحد ذریعہ ہے، اب ماحولیاتی قمار بازی کا شکار ہو چکی ہے۔
کبھی مارچ کی اچانک ہیٹ ویو گندم کے دانے کو پکنے سے پہلے ہی جھلسا کر راکھ کر دیتی ہے، تو کبھی مون سون کی بے رحم اور بے وقت بارشیں کپاس اور چاول کی تیار فصلوں کو مٹی کا ڈھیر بنا دیتی ہیں۔ کسان بینکوں اور سیٹھوں سے سود پر قرض لے کر بیج اور کھاد بوتا ہے، لیکن موسم کا بدلتا مزاج اس کی مہینوں کی محنت پر پانی پھیر دیتا ہے۔
اگر یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب ملک میں نہ صرف شدید غذائی بحران جنم لے گا، بلکہ زراعت سے وابستہ کروڑوں دیہاڑی دار مزدور اور چھوٹے کاشتکار بے روزگار ہو کر سڑکوں پر آ جائیں گے۔ یوں پاکستان اناج اگلنے والی زرخیز دھرتی سے روٹی کے ایک ایک ٹکڑے کے لیے غیروں کا محتاج ملک بن جائے گا۔
جی ڈی پی کا قتلِ عام اور ہیٹ اسٹروک کی ہولناکی
یہ صرف موسم کی سختی یا زراعت کا المیہ نہیں، بلکہ ہماری قومی معیشت اور اجتماعی بقا کا قتلِ عام ہے۔ پاکستان ہر سال ماحولیاتی حادثات، سیلابوں اور خشک سالی کے باعث اپنے مجموعی قومی حاصلات کا تقریباً ایک فیصد کھو دیتا ہے۔ اگر عالمی برادری نے ہوش کے ناخن نہ لیے اور ہم اسی روایتی ڈگر پر چلتے رہے، تو 2050 تک ہماری معیشت کو 20 فیصد کا تاریخی اور ناقابلِ تلافی دھچکا لگے گا۔
اس سے بھی زیادہ ہولناک انتباہ ‘کلائمیٹ امپیکٹ لیب’ کی اس سائنسی رپورٹ میں ہے جو کہتی ہے کہ اگر یہ سفاک ہیٹ ویوز یوں ہی چلتی رہیں، تو 2050 تک پاکستان میں شدید گرمی اور ہیٹ اسٹروک سے سالانہ ‘ڈیڑھ لاکھ اضافی اموات’ ہوں گی۔ کیونکہ ہمارے غریب کے پاس ایئر کنڈیشنر یا کولر تو دور، ہیٹ اسٹروک اور حبس سے بچنے کے لیے نلکے میں صاف پانی اور پنکھا چلانے کے لیے بجلی تک میسر نہیں ہے۔
کاغذی کاہلی بمقابلہ تلخ حقیقت، ‘موافقتی پالیسی’ کی ضرورت
یہاں ایک بنیادی اور کڑوا سوال جنم لیتا ہے: کیا اب بھی وقت ہے کہ ہم پیرس معاہدے کی کاغذی ردی، کاپ کانفرنسوں کی نمائش یا عالمی طاقتوں کے ‘کاربن روکنے’ کے جھوٹے وعدوں پر تکیہ کیے بیٹھے رہیں؟
اس سوال کا جواب روزِ روشن کی طرح واضح ہے: ہرگز نہیں!
پاکستان اگر آج اپنے تمام کارخانے، بجلی گھر اور گاڑیوں کے چولہے بھی بند کر دے، تب بھی عالمی درجہ حرارت کی پیش رفت پر رتی برابر فرق نہیں پڑے گا۔ کیونکہ اصل آلودگی پھیلانے والی صنعتی سپر پاورز اور کثیر القومی کارپوریشنز اب بھی ہوسِ زر اور معاشی رقابت میں اندھی ہو چکی ہیں۔
لہٰذا، اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنی ماحولیاتی پالیسی کا رخ 180 ڈگری پر موڑ دے۔ ہمیں ‘کاربن اخراج کم کرنے’ کے رومانوی اور مغربی خوابوں سے باہر نکل کر خالصتاً ‘تباہی سے بچنے اور موافقت’ کی جنگ لڑنی ہوگی۔
موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والی زراعت: ہمیں روایتی بیجوں کو خیرباد کہہ کر ایسے جدید اور جینیاتی بیجوں کی طرف جانا ہوگا جو کم پانی اور 45 ڈگری سیلسیس سے زائد گرمی میں بھی اناج اگل سکیں۔
شہری آبی نظام اور رہائش کا نظام: شہروں کو کنکریٹ کے بے ہنگم جنگلات بننے سے روکنا ہوگا، مکانات کے تعمیراتی نقشے اور ہوا کی آمدورفت کے اصول بدلنے ہوں گے، اور سیلاب کے قدرتی راستوں پر بنی بدنامِ زمانہ رہائشی بستیوں پر بلا امتیاز بلڈوزر چلانے ہوں گے۔
آبی ذخائر اور سیلابی انتظام: ڈملوٹی اور پرانے فلٹریشن سسٹم کی طرز پر قدرتی اسفنج اور چھوٹے چیک ڈیم تعمیر کرنے ہوں گے تاکہ سیلابی پانی کو ضائع ہونے کے بجائے زیرِ زمین حوضوں میں ذخیرہ کیا جا سکے۔
تاوان کی مانگ، بھیک کا کشکول نہیں بلکہ حق کا مطالبہ
پاکستان کو اپنے بنیادی ڈھانچے کی بحالی، گرین انرجی کے نفاذ اور محض ماحولیاتی بقا کے لیے سالانہ کم از کم ’50 ارب ڈالر’ کی ضرورت ہے۔ ہمیں عالمی فورمز پر کسی رحم، خیرات یا بھیک کا کشکول لے کر جانے کے بجائے اپنے نقصان کا باقاعدہ ‘تاوان’ مانگنا چاہیے۔
کیونکہ گناہ یورپ، امریکہ اور چین کے صنعت کاروں کا ہے، اور اس کی خوفناک سزا تھر کے پیاسے بچے اور سندھ و بلوچستان کے ڈوبتے ہوئے کسان بھگت رہے ہیں۔
اگر ہم نے آج اپنی بقا، ماحولیاتی تدبر اور انجینئرنگ کا انتظام خود نہ کیا اور استعماری اداروں کے رحم و کرم پر بیٹھے رہے، تو کل تاریخ لکھے گی کہ ایک ایٹمی قوم عالمی اشرافیہ کے گناہوں کا تاوان چکاتے چکاتے خاموشی سے نقشۂ عالم سے مٹ گئی۔ بقول علامہ اقبال: ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

