آزاد کشمیر کے انتخابات پر خونریز جھڑپیں، متعدد ہلاکتوں کے بعد سیاسی کشیدگی میں اضافہ

پاکستان کے زیر انتظام آزاد جموں و کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات شدید سیاسی کشیدگی اور پرتشدد واقعات کے سائے میں جاری ہیں۔ مختلف علاقوں میں احتجاج، سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں اور انتخابی تنازعات کے باعث خطے کی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حالیہ جھڑپوں میں درجنوں افراد کے مارے جانے کے دعوے سامنے آئے ہیں، جب کہ حکومت اور احتجاجی قیادت کی جانب سے ہلاکتوں کے بارے میں مختلف اعداد و شمار پیش کیے جا رہے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع میں اسمبلی انتخابات تین مرحلوں میں کرائے جا رہے ہیں۔ پیر کو میرپور، کوٹلی اور بھمبر کے 13 حلقوں میں ووٹنگ ہوئی، جہاں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 13 میں سے 9 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ دیگر نشستیں آزاد امیدواروں اور دوسری جماعتوں کے حصے میں آئیں۔

انتخابات سے قبل اور ووٹنگ کے دوران مختلف علاقوں میں کشیدگی برقرار رہی۔ کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ راولاکوٹ کے گرد و نواح میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں 30 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم حکام نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔

سرکاری حکام کے مطابق میرپور میں ہونے والے پرتشدد واقعات میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوئے۔ حکام نے یہ بھی تسلیم کیا کہ کم از کم تین مظاہرین جان سے گئے ہیں، تاہم مجموعی ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں سرکاری موقف احتجاجی قیادت کے دعوؤں سے مختلف ہے۔

رائٹرز کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو گزشتہ ماہ کالعدم قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے خطے میں مسلسل احتجاج جاری ہے۔ احتجاجی رہنما حکومت پر سیاسی حقوق محدود کرنے، مقامی آبادی کی آواز دبانے اور انتخابات میں مداخلت کے الزامات عائد کر رہے ہیں، جبکہ حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

حالیہ احتجاج کے باعث آزاد کشمیر کے کئی علاقوں میں معمولات زندگی بھی متاثر ہوئے۔ بینک بند رہے، ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں اور بعض علاقوں میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی خدمات بھی متاثر ہوئیں، جس سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ انتخابی عمل شفاف نہیں اور اس میں دھاندلی کا خدشہ موجود ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں انتخابات میں حصہ لینا مناسب نہیں تھا۔

دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ انتخابات آئین اور قانون کے مطابق منعقد کیے جا رہے ہیں اور عوام کو اپنی رائے کے اظہار کا مکمل حق حاصل ہے۔ حکام کے مطابق امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ ووٹنگ کا عمل محفوظ انداز میں مکمل ہو سکے۔

رائٹرز کے مطابق موجودہ بحران کی ایک بڑی وجہ آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مخصوص نشستیں بھی ہیں۔ احتجاج کرنے والے گروپوں کا مؤقف ہے کہ ان نشستوں کے ذریعے اسلام آباد کو آزاد کشمیر کی سیاست پر غیر ضروری اثر و رسوخ حاصل ہو جاتا ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نشستیں قانونی اور آئینی نظام کا حصہ ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ مسلم لیگ (ن) پہلے مرحلے میں سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے، تاہم حکومت سازی کے لیے اسے متنازع مہاجر نشستوں سمیت مزید حمایت درکار ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ سیاسی بحران اور احتجاجی تحریک کے باعث نئی حکومت کو متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں حالیہ بدامنی صرف انتخابی مسئلہ نہیں بلکہ یہ کئی برسوں سے جاری سیاسی، انتظامی اور معاشی شکایات کا نتیجہ بھی ہے۔ ان کے مطابق اگر تمام سیاسی قوتوں کے درمیان مذاکرات نہ ہوئے تو کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

رائٹرز کے مطابق آزاد کشمیر میں انتخابات کے مزید مراحل آئندہ دنوں میں ہوں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ باقی مراحل بھی سخت سکیورٹی میں مکمل کرائے جائیں گے، جبکہ سیاسی جماعتیں اور مبصرین انتخابی عمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ موجودہ صورتحال نے نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ ملک کی مجموعی سیاسی فضا پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں، اور آئندہ چند روز اس حوالے سے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔