کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ وقت کے ساتھ sex کی خواہش آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہے؟ اور پھر سوشل میڈیا پر ایک ہی جملہ بار بار سامنے آتا ہے: ’testosterone بڑھاؤ، سب ٹھیک ہو جائے گا‘۔ سننے میں یہ حل سادہ لگتا ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
یہ کہانی صرف ایک فرد کی نہیں، بلکہ ایک بدلتی ہوئی دنیا کی ہے۔ ایلن ریوز بھی کبھی اسٹیج پر ہزاروں لوگوں کے سامنے پرفارم کرتے تھے۔ توانائی، اعتماد اور زندگی سے بھرپور۔ مگر وقت کے ساتھ کچھ بدل گیا۔ موڈ میں اتار چڑھاؤ، تھکن، اور سب سے بڑھ کر sex کی خواہش کا تقریباً ختم ہو جانا۔ پھر انہوں نے ایک فیصلہ کیا، testosterone ریپلیسمنٹ تھراپی شروع کی۔ ان کے مطابق، وہ خود کو دوبارہ بیس سال کا محسوس کرنے لگے۔
یہ سن کر لگتا ہے جیسے مسئلے کا حل مل گیا ہو۔ مگر ہر کہانی ایسی نہیں ہوتی۔ کچھ لوگوں کے لیے یہ تھراپی واقعی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ توانائی میں اضافہ، توجہ میں بہتری اور خواہش کی واپسی۔ لیکن کچھ کے لیے اس کے اثرات الٹ بھی ہو سکتے ہیں۔ غصہ بڑھ جاتا ہے، خواہش بے قابو ہو جاتی ہے، یا پھر کوئی خاص تبدیلی محسوس ہی نہیں ہوتی۔
تو سوال یہ ہے کہ اصل مسئلہ کہاں ہے؟ کیا یہ صرف ایک ہارمون کی کمی ہے؟ ماہرین اس خیال سے مکمل اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے مطابق sex کی خواہش ایک پیچیدہ عمل ہے جس پر صرف جسم نہیں، بلکہ دماغ اور ماحول بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ ڈیجیٹل زندگی کی تھکن، مسلسل ذہنی دباؤ، افسردگی، اور بدلتے ہوئے انسانی تعلقات، یہ سب عوامل مل کر اس خواہش کو کمزور کر دیتے ہیں۔
ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ جذباتی قربت اور جسمانی لمس کا معیار بھی خواہش پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ تنہائی اور چھونے کی کمی کو کوئی ہارمون پورا نہیں کر سکتا۔ یعنی مسئلہ صرف جسم کا نہیں، احساسات کا بھی ہے۔
مزید حیران کن بات یہ ہے کہ گزشتہ دہائیوں میں عالمی سطح پر sex کی فریکوئنسی میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ یعنی یہ مسئلہ کسی ایک فرد تک محدود نہیں، بلکہ ایک وسیع سماجی تبدیلی کا حصہ ہے۔
جہاں تک testosterone کا تعلق ہے، یہ یقیناً ایک اہم ہارمون ہے اور اس کی کمی خواہش کو متاثر کر سکتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ 40 سال سے زائد عمر کے صرف 20 فیصد مردوں میں طبی طور پر اس کی کمی پائی جاتی ہے۔ باقی افراد میں خواہش کی کمی کی وجوہات کچھ اور ہوتی ہیں، جیسے نیند کی کمی، غیر صحت مند تعلقات، یا بعض ادویات کا استعمال۔
یہ دراصل جسم، دماغ اور طرزِ زندگی تینوں کا مجموعہ ہے۔ اور یہی وہ پہلو ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
کچھ ماہرین اس بات کی نشاندہی بھی کرتے ہیں کہ testosterone تھراپی کو ایک فوری حل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، حالانکہ ہر کسی کو اس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بغیر مکمل تشخیص کے اس کا استعمال مسائل کو بڑھا بھی سکتا ہے۔
تو پھر کیا کرنا چاہیے؟ ماہرین کا مشورہ واضح ہے: پہلے مسئلے کی اصل وجہ کو سمجھیں، مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں، اور صرف ایک ہارمون کو مکمل حل نہ سمجھیں۔
آخر میں بات اتنی سی ہے کہ اگر آپ اپنی زندگی کا توازن درست نہیں کرتے، تو testosterone لینا ایسا ہی ہے جیسے خراب گاڑی میں فراری کا انجن لگا دینا۔ طاقت تو آ جائے گی، مگر سمت نہیں۔
ایسی ہی کہانیاں جو حقیقت کے نئے پہلو سامنے لاتی ہیں، ساگا ڈیجیٹل کے ساتھ جڑے رہیے، کیونکہ کہانی ابھی باقی ہے۔

