Tag: LNG

  • دنیا کو LNG ایکسپورٹ کرنے والا ‘قطر’ امریکہ سے LNG امپورٹ کرنے پر مجبور، کیا عالمی گیس جنگ پاکستان کو دیوالیہ کر سکتی ہے؟

    دنیا کو LNG ایکسپورٹ کرنے والا ‘قطر’ امریکہ سے LNG امپورٹ کرنے پر مجبور، کیا عالمی گیس جنگ پاکستان کو دیوالیہ کر سکتی ہے؟

    سال 2026 امریکہ عالمی جیوپولیٹکس اور توانائی کی تاریخ میں ایک ایسے موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے پرانے اتحادوں کو ملیامیٹ کرکے ایک نیا معاشی نظام وضع کیا۔

    مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی جزوی ناکہ بندی نے ایک ایسا غیر متوقع بحران پیدا کر دیا ہے جس کی زد میں دنیا کا سب سے بڑا LNG برآمد کنندہ قطر بھی آ چکا ہے۔

    بلومبرگ کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، جو قطر کل تک دنیا کی ایک تہائی گیس سپلائی کنٹرول کرتا تھا، آج وہ اپنی عالمی ساکھ اور معاہدوں کو بچانے کے لیے خود امریکہ سے LNG خریدنے پر مجبور ہو چکا ہے۔ لیکن اس جیوپولیٹیکل جنگ کا سب سے خوفناک اور براہِ راست اثر خلیج سے ہزاروں میل دور بیٹھے ترقی پذیر ممالک، بالخصوص پاکستان پر پڑ رہا ہے، جہاں توانائی کا شعبہ ایک گہرے مالیاتی گڑھے میں گرتا دکھائی دے رہا ہے۔

    بحران کا آغاز: قطر کی انرجی ایمپائر کو شدید دھچکا

    اس پورے بحران کی جڑیں مارچ 2026 امریکہ میں ہونے والے ان واقعات میں ہیں، جب ایران کے مبینہ ڈرون اور میزائل حملوں نے قطر کی سب سے بڑی گیس فیسلیٹی ‘راس لفان’ کو نشانہ بنایا۔ قطر انرجی کے حکام کے مطابق اس حملے نے ملک کی 17 فیصد LNG پیدا کرنے کی صلاحیت کو چشمِ زدن میں مفلوج کر دیا۔ رہی سہی کسر آبنائے ہرمز کی بندش نے پوری کر دی، جہاں سے قطر کے گیس ٹینکرز کا گزرنا محال ہو گیا۔

    اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران قطر سے روانہ ہونے والے گیس برآمدی جہازوں کی تعداد 509 سے گر کر صرف 18 رہ گئی، یعنی قطر کی گیس برآمدات میں 96 فیصد کی تاریخی اور ہولناک کمی واقع ہو چکی ہے۔

    اس صورتِ حال نے قطر کو ناگزیر حالات کے تحت معاہدے معطل کرنے، یعنی ‘فورس میجر’ کا اعلان کرنے پر مجبور کیا۔ تاہم، چین، جنوبی کوریا، اٹلی اور بیلجیم جیسے بڑے خریداروں کے ساتھ طویل المدتی معاہدوں کی پاسداری قطر کی بین الاقوامی ساکھ کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن گئی۔

    یہی وجہ ہے کہ قطر نے اب اپنی زمین سے گیس نکالنے کے بجائے امریکی کمپنیوں ‘Venture Global’ اور ‘Cheniere’ کے ساتھ 2031امریکہ تک کے طویل المدتی معاہدوں پر بات چیت شروع کر دی ہے، تاکہ امریکہ سے گیس خرید کر اپنے خریداروں کو سپلائی کی جا سکے۔

    اس اقدام نے امریکہ کو عالمی LNG مارکیٹ میں ایک غیر معمولی اہمیت دے دی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں گیس کی اس افراتفری نے قیمتوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔

    عالمی گیس منڈیاں: قیمتوں کا طوفان

    قطر کے بحران نے یورپ اور ایشیا کی گیس مارکیٹس کو شدید دباؤ سے دوچار کر دیا ہے۔ روس، یوکرین جنگ کے بعد یورپ پہلے ہی پائپ لائن گیس کی کمی کا سامنا کرتے ہوئے LNG پر انحصار بڑھا رہا تھا۔

    اب قطر کی سپلائی متاثر ہونے سے یورپ کا گیس بینچ مارک ‘Dutch TTF’ ستمبر 2026امریکہ میں 80 یورو فی میگاواٹ آور سے تجاوز کر گیا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 144 فیصد اضافہ ہے۔

    امریکی انویسٹمنٹ بینک ‘Goldman Sachs’ کی پیش گوئی کے مطابق، اگر آبنائے ہرمز کا بحران سردیوں تک برقرار رہا تو گیس کی قیمتیں 105 یورو فی میگاواٹ آور تک جا سکتی ہیں، جس سے یورپ میں سردیوں کے دوران توانائی کے بحران کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

    دوسری جانب ایشیا میں اسپاٹ LNG کا بینچ مارک ‘JKM’ 25.90 ڈالر فی MMBtu کی سطح کو چھو رہا ہے۔ جاپان اور جنوبی کوریا جیسے امیر ممالک سردیاں آنے سے پہلے ہر ممکن قیمت پر گیس کے ذخائر بھرنے کی دوڑ میں شامل ہیں، جس کے باعث اسپاٹ مارکیٹ میں مقابلہ مزید سخت ہو گیا ہے اور کم آمدنی والے ممالک کے لیے LNG حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

    پاکستان کا توانائی سیکٹر: ملکی معیشت پر ساڑھے پانچ ارب ڈالر کا متوقع بوجھ

    عالمی منڈی کی اس جنگ میں پاکستان بھی متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ پاکستان اپنی گیس کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ قطر کے ساتھ کیے گئے طویل المدتی معاہدوں کے ذریعے پورا کرتا رہا ہے۔ قطر کی جانب سے سپلائی متاثر ہونے کے بعد جب پاکستان LNG لمیٹڈ، یعنی  PLL، نے ستمبر 2026 امریکہ کے لیے اسپاٹ مارکیٹ کا رخ کیا تو موصول ہونے والی بولیوں نے حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔

    پاکستان کو 26.97 ڈالر فی MMBtu تک کی مہنگی بولیاں موصول ہوئیں، جنہیں ملکی خزانے کی صورتِ حال کے پیشِ نظر حکومت نے مسترد کر دیا۔ اگرچہ حال ہی میں قطر کا ایک جہاز ‘المرونہ’ کسی نہ کسی طرح کراچی پہنچنے میں کامیاب ہوا ہے، لیکن یہ ضرورت کے مقابلے میں انتہائی محدود مقدار ہے۔

    اگر پاکستان کی سالانہ 350 ملین MMBtu LNG درآمد کا مالیاتی حساب کیا جائے تو صورتِ حال مزید واضح ہوتی ہے۔

    بحران سے پہلے جب گیس 9 ڈالر فی MMBtu کے حساب سے مل رہی تھی تو پاکستان کا سالانہ درآمدی بل تقریباً 3.15 ارب ڈالر بنتا تھا۔ اب اگر اوسط قیمت 25 ڈالر فی MMBtu تک پہنچتی ہے تو یہ بل تقریباً 8.75 ارب ڈالر ہو سکتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملکی معیشت پر تقریباً 5.60 ارب ڈالر، یعنی تقریباً 1,500 ارب پاکستانی روپے، کا اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔

    بجلی کے شعبے پر بھی اس کے براہِ راست اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ RLNG سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت میں ایندھن کی قیمت بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ گیس کی قیمت میں اس قدر اضافے کی صورت میں RLNG پر چلنے والے پاور پلانٹس کی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا اثر بجلی کے نرخوں اور صنعتی لاگت پر پڑنے کا خدشہ ہے۔

    مستقبل کا منظرنامہ: قلیل المدتی بحران اور طویل المدتی ریلیف

    عالمی توانائی کے ماہرین اور مختلف مالیاتی اداروں کی پیش گوئیوں کے مطابق گیس کی قیمتوں میں موجودہ دباؤ مستقل رہنا ضروری نہیں۔ 2026 امریکہ اور 2027 امریکہ پاکستان اور دنیا کے لیے توانائی کے حوالے سے انتہائی مشکل سال ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم 2028امریکہ کے بعد عالمی LNG سپلائی میں اضافے سے صورتحال تبدیل ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

    امریکہ اور قطر کے نئے LNG توسیعی منصوبے مارکیٹ میں اضافی گیس لا سکتے ہیں، جس سے مستقبل میں طلب اور رسد کے درمیان توازن بہتر ہونے اور قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کا امکان ہے۔

    پیش گوئیوں کے مطابق 2028امریکہ تک ایشیا میں گیس کی قیمت تقریباً 14 ڈالر اور 2030امریکہ تک 7.15 ڈالر فی MMBtu تک آ سکتی ہے۔ اگر یہ پیش گوئیاں درست ثابت ہوتی ہیں تو پاکستان کے لیے LNG درآمد کی لاگت میں بھی نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

    اب کیا راستہ بچا؟

    پاکستان کے لیے اس معاشی تجزیے کا لبِ لباب یہ ہے کہ ملک کو عالمی LNG مارکیٹ میں اچانک پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے کے لیے قلیل اور طویل المدتی حکمتِ عملی دونوں اختیار کرنا ہوں گی۔

    حکومت کے لیے فوری چیلنج یہ ہے کہ بجلی اور گیس کی طلب پوری کرتے ہوئے درآمدی ایندھن پر پڑنے والے اضافی مالی دباؤ کو محدود کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی توانائی کے وسائل، قابلِ تجدید توانائی، سولر اور ونڈ پاور کے منصوبوں کو تیز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں عالمی LNG مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ پر انحصار کم کیا جا سکے۔

    اگر پاکستان موجودہ بحران کے دوران اپنی توانائی کی ضروریات کو متبادل ذرائع کے ذریعے متوازن کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور مستقبل میں عالمی LNG سپلائی بڑھنے کے نتیجے میں قیمتیں کم ہوتی ہیں تو توانائی کا شعبہ دوبارہ نسبتاً مستحکم ہو سکتا ہے۔

    لیکن اگر عالمی گیس کی قیمتوں میں اضافہ طویل عرصے تک برقرار رہا تو درآمدی بل، بجلی کی پیداواری لاگت اور ملکی معیشت پر اس کے اثرات ایک بڑا مالیاتی چیلنج بن سکتے ہیں۔