Tag: 14 مئی 1943

  • 14 مئی 1943: سندھ کے پہلے وزیراعلی اللہ بخش سومرو کو قتل کردیا گیا

    14 مئی 1943: سندھ کے پہلے وزیراعلی اللہ بخش سومرو کو قتل کردیا گیا

    تجربہ کار سیاستدان اللہ بخش سومرو 1901 میں شکارپور شہر میں پیدا ہوئے۔ وہ شہر کے ٹھیکیدار مستری محمد عمر سومرو کے فرزند تھے، جو اپنے وقت کے ایک ٹھیکیدار کے ساتھ زمیندار بھی تھے۔ اللہ بخش سومرو ان کے بڑے صاحبزادے تھے۔

    انہوں نے 1912 میں ثانوی تعلیم کے لیے ہوپ فل اسکول میں داخلہ لیا اور میٹرک پاس کرنے کے بعد اپنے والد کے ساتھ ٹھیکیداری کے کام میں شامل ہوگئے۔ دورانِ تعلیم وہ ایک ذہین طالبعلم کے طور پر مشہور تھے۔ کھیلوں، خصوصاً کرکٹ، سے گہری دلچسپی رکھتے تھے اور کئی مقابلوں میں حصہ لیا۔

    انہوں نے 1923 کے قریب سیاست میں قدم رکھا۔ اسی زمانے میں وہ جیکب آباد میونسپلٹی اور ضلع لوکل بورڈ سکھر کے رکن منتخب ہوئے۔ 1926 میں سلطان کوٹ اور ضلع سکھر کے بااثر زمیندار خان بہادر جان محمد پٹھان کے مقابلے میں بمبئی کونسل کے رکن منتخب ہوگئے۔

    بھٹو خاندان کے ساتھ ان کے تعلقات ان کے والد کے زمانے سے خوشگوار تھے، اسی وجہ سے انہوں نے بمبئی کونسل میں سر شاہنواز بھٹو کے دستِ راست کے طور پر کام کیا، جو اس وقت سندھ کے مسلمان اراکین کے رہنما تھے۔ اپنی ذہانت اور صلاحیتوں کے باعث اللہ بخش سومرو بمبئی کونسل کی مختلف سرکاری کمیٹیوں کے رکن بھی منتخب کیے گئے۔1926

    سے 1936 تک، جب تک سندھ بمبئی سے الگ نہیں ہوا تھا، وہ بمبئی کونسل کے رکن رہے۔ اس سے قبل 1928 میں وہ ضلع لوکل بورڈ سکھر کے صدر منتخب ہوئے۔

    جنوری 1931 میں جیکب آباد میں گھوڑوں کی سالانہ نمائش کے موقع پر انہوں نے سندھ کے لوکل بورڈز کے صدور اور چیف افسران کی کانفرنس بلائی، جس میں لوکل بورڈز کی تنظیم، اختیارات اور اصلاحات سے متعلق کئی قراردادیں منظور کی گئیں اور سندھ لوکل بورڈز ایسوسی ایشن قائم کی گئی۔ اسی موقع پر انہوں نے سندھ کے مسلمان سیاستدانوں کی کانفرنس سیٹھ حاجی عبداللہ ہارون کی صدارت میں منعقد کروائی، جس میں سندھ کی بمبئی سے علیحدگی اور آل انڈیا مسلم کانفرنس کی قراردادوں کی حمایت میں قراردادیں منظور کی گئیں۔

    1934 میں جب سائیں جی۔ ایم۔ سید کے بنگلے ‘حیدر منزل’ میں ‘پیپلز پارٹی’ قائم کی گئی تو اس کے لیڈر سر شاہنواز بھٹو اور ڈپٹی لیڈر اللہ بخش سومرو منتخب ہوئے۔

    1936 میں ‘اتحاد پارٹی’ کے قیام پر وہ اس میں شامل ہوگئے۔ سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کے بعد 1937 کے انتخابات میں اتحاد پارٹی کے 24 ارکان کامیاب ہوئے، لیکن اس کے لیڈر سر شاہنواز بھٹو اور ڈپٹی لیڈر حاجی عبداللہ ہارون انتخابات ہار گئے۔ اس کے بعد گورنر سر لینسلیٹ گراہم نے سر غلام حسین کو وزارت بنانے کے لیے مدعو کیا، حالانکہ ان کی جماعت کے صرف 5 ارکان منتخب ہوئے تھے۔

    سر غلام حسین نے میر گروپ کو وزارت میں شامل کرکے اتحاد پارٹی میں اختلافات پیدا کیے اور ہندو انڈیپنڈنٹ پارٹی کی حمایت سے حکومت قائم کرلی۔ میران محمد شاہ بھی اتحاد پارٹی چھوڑ کر وزارت میں شامل ہوگئے۔ چنانچہ اتحاد پارٹی کے ارکان نے اللہ بخش سومرو کو لیڈر اور مسٹر ہاشم گزدر کو ڈپٹی لیڈر منتخب کرکے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔

    1937 کے آخر میں اتحاد پارٹی اور سر غلام حسین کی وزارت کے درمیان ایک پروگرام کی بنیاد پر اتحاد ہوا، جس پر عملدرآمد کے لیے ایک ورکنگ کمیٹی بنائی گئی، جس میں اللہ بخش، ہاشم گزدر اور سائیں جی۔ ایم۔ سید شامل تھے۔ تاہم انتظامیہ کے غلط رویے، نااہل وزرا اور اتحاد پارٹی کی مناسب نمائندگی نہ ہونے کے باعث یہ پروگرام کامیاب نہ ہوسکا۔

    آخرکار مارچ 1938 میں بجٹ کے موقع پر ‘ایک روپیہ کٹ’ کی قرارداد منظور ہونے سے غلام حسین کی حکومت شکست کھا گئی اور نئی وزارت اللہ بخش سومرو کی قیادت میں قائم ہوئی۔

    یہ حکومت کانگریس اور ہندو انڈیپنڈنٹ پارٹی کی حمایت سے بنی، جس میں اللہ بخش سومرو وزیراعظم جبکہ پیر الہی بخش اور نہچلداس وزیر بنے۔ چونکہ حکومت کے حق میں صرف سات مسلمان ارکان نے ووٹ دیا تھا اور باقی تمام حمایتی ہندو تھے، اس لیے تعلیم یافتہ مسلمان طبقے کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔

    اس صورتحال پر اللہ بخش سومرو نے 29 مارچ 1938 کو اپنی حکومت کی پالیسی بیان کرتے ہوئے اعلان کیا کہ:

    حکومت قومی بنیادوں پر چلائی جائے گی۔

    سکھر بیراج سے متاثرہ علاقوں کے لیے لوئر سندھ بیراج اسکیم تیار کی جائے گی۔

    شمالی سندھ کے نہروں کی اصلاح کی جائے گی۔

    وزرا کم تنخواہیں لیں گے۔

    اعزازی مجسٹریٹیاں ختم کی جائیں گی۔

    بعض سڑکوں کا انتظام لوکل بورڈز کے سپرد کیا جائے گا۔

    پرائمری اساتذہ کی تنخواہوں میں 5 روپے اضافہ کیا جائے گا۔

    مولانا عبیداللہ سندھی کی وطن واپسی پر ان کا استقبال کیا جائے گا۔

    سندھ فرنٹیئر ریگولیشن ختم کرنے کے لیے کمیٹی قائم کی جائے گی۔

    1938 میں اللہ بخش سومرو کی حکومت نے ٹیکس بڑھائے، جس سے اتحاد پارٹی تقسیم ہوگئی۔ حاجی عبداللہ ہارون مسلم لیگ میں شامل ہوچکے تھے۔

    11 اکتوبر 1938 کو قائداعظم محمد علی جناح کی صدارت میں مسلم لیگ کے رہنما کراچی میں جمع ہوئے۔ اجلاس میں اللہ بخش سومرو اور سائیں جی۔ ایم۔ سید بھی شریک ہوئے۔ مسلم رہنماؤں نے اللہ بخش سومرو سے مسلم لیگ میں شامل ہونے کی درخواست کی، جسے انہوں نے قبول کرلیا۔ تاہم قیادت کے مسئلے پر اختلاف پیدا ہوگیا۔ جناح صاحب نئے لیڈر کے انتخاب کے حق میں تھے جبکہ سر غلام حسین اس موقع کو اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ بنانا چاہتے تھے، نتیجتاً یہ اتحاد ختم ہوگیا۔

    بعدازاں مسلم لیگ نے اسمبلی میں اللہ بخش سومرو کی حکومت کے خلاف قرارداد پیش کی، مگر وہ نہ صرف کئی مسلم لیگی ارکان کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہوگئے بلکہ خود مسلم لیگ اسمبلی پارٹی کے لیڈر اور ڈپٹی لیڈر بھی وزارت میں شامل ہوگئے۔ یوں قرارداد کے حق میں صرف سات ووٹ پڑے۔

    1939 میں مسجد منزل گاہ کا مسئلہ سامنے آیا، جس کے نتیجے میں سندھ میں ہندو مسلم فسادات شروع ہوگئے۔ کئی مسلم لیگی رہنما اور کارکن جیلوں میں ڈالے گئے۔ اس کشیدہ صورتحال میں ہندو اور کانگریسی ارکان نے وقتی فائدے کے لیے مسلم لیگ کے ساتھ مل کر اللہ بخش سومرو کی حکومت گرا دی اور مسلم لیگ کی حکومت قائم ہوگئی۔

    اس حکومت میں سائیں جی۔ ایم۔ سید بھی وزیر بنے، مگر بعد میں انہوں نے سندھ کے امن و سلامتی کے لیے ہندو مسلم اتحاد کو ضروری سمجھا۔ انہوں نے مولانا ابوالکلام آزاد اور اللہ بخش سومرو کے درمیان ایک فارمولا طے کروایا، جس کے نتیجے میں اللہ بخش سومرو دوبارہ اقتدار میں آئے۔

    مولانا عبیداللہ سندھی کو افغانستان کی طویل جلاوطنی کے بعد وطن واپس لانے میں بھی اللہ بخش سومرو کا بڑا کردار تھا۔ 1942 میں بطور وزیراعظم سندھ انہوں نے کراچی میں مولانا عبیداللہ سندھی کا شاندار استقبال کیا۔

    اسی زمانے میں کانگریس نے ‘ہندوستان چھوڑ دو’ تحریک شروع کی جبکہ مسلم لیگ نے پاکستان کا نعرہ بلند کیا۔ قوم پرست رہنماؤں پر سختیاں کی گئیں۔

    26 ستمبر 1942 کو اللہ بخش سومرو نے وائسرائے کو خط لکھ کر ‘خان بہادری’ اور ‘آرڈر آف برٹش ایمپائر’ کے اعزازات واپس کردیے اور ہندوستان کی آزادی کی حمایت کی۔ اس پر گورنر نے ان کی حکومت برطرف کردی اور سر غلام حسین کو مسلم لیگ کی حمایت سے اقتدار سونپ دیا۔

    بعد ازاں اللہ بخش سومرو نے سماجی خدمات کی طرف توجہ دی۔ سندھ شدید سیلاب کی لپیٹ میں تھا اور انہوں نے اپنی زرعی زمینیں قربان کرکے شکارپور شہر کو بچانے کی کوشش کی۔

    14 مئی 1943 کی صبح یہ وہ شکارپور میں تانگے پر سفر کر رہے تھے کہ کچھ افراد نے ان پر فائرنگ کرکے انہیں قتل کردیا۔ ان کے قتل کا الزام خان بہادر ایوب کھوڑو پر لگایا گیا۔

    اللہ بخش سومرو کا ذکر برصغیر اور سندھ کی قومی سیاست میں آج بھی انتہائی احترام اور عزت سے کیا جاتا ہے۔ سندھ کے بزرگ سیاستدان سائیں جی۔ ایم۔ سید نے اپنی کتاب ‘جنم گذاریم جن سین’ میں انہیں ‘سندھ جو دودو ثانی’ قرار دیا ہے۔

    ان کا مزار آج بھی شکارپور شہر میں موجود ہے۔