Tag: یومِ ماحولیات

  • عالمی یومِ ماحولیات: ہیٹ ویوز سے سیلابوں تک موسمیاتی تبدیلی کا بڑھتا خطرہ

    عالمی یومِ ماحولیات: ہیٹ ویوز سے سیلابوں تک موسمیاتی تبدیلی کا بڑھتا خطرہ

    ہر سال 5 جون کو دنیا بھر میں عالمی یومِ ماحولیات منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد لوگوں میں ماحول کے تحفظ، قدرتی وسائل کے دانشمندانہ استعمال اور موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔ اس سال عالمی یومِ ماحولیات کا موضوع ہے:’فطرت سے ترغیب، ماحول کے لیے، ہمارے مستقبل کے لیے’۔ یہ موضوع انسان اور فطرت کے درمیان مضبوط تعلق کی یاد دہانی کراتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ زمین کو محفوظ بنائے بغیر آئندہ نسلوں کا محفوظ مستقبل ممکن نہیں۔

    پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ حکومت کے مطابق عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ملک کا حصہ نہایت ہی کم ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ملک نے شدید گرمی کی لہروں، غیر معمولی بارشوں، سیلابوں، خشک سالی اور گلیشیئر پگھلنے جیسے خطرناک موسمی واقعات کا سامنا کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اب کوئی مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ ایک موجودہ حقیقت بن چکی ہے جو پاکستان کی معیشت، زراعت، پانی کے ذخائر اور انسانی زندگیوں کو متاثر کر رہی ہے۔

    پاکستان میں گرمیوں کے موسم کا دورانیہ طویل اور شدت پہلے سے کہیں زیادہ ہو گئی ہے۔ سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت اکثر 45 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ گذشتہ ماہ کے دوران دادو اور جیکب آباد ملک کے گرم ترین علاقے رہے۔  28 مئی کو دادو شہر میں درجہ حرارت ریکارڈ 51.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جب کہ اسی دن جیکب آباد میں 51 ڈگری، نوابشاہ، لاڑکانہ اور موہن جو دڑو میں گرمی کی شدت 50 ڈگری سینٹی گریڈ کو چھورہی تھی۔ سندھ کے دیگر علاقوں میں بھی شدید گرمی رہی۔

    آئی یو سی این کے نوید سومرو کے مطابق ایک ماحولیاتی کارکن کے طور پر ان کا ماننا ہے کہ ماحولیاتی تباہی اب مستقبل کا خطرہ نہیں رہی بلکہ یہ ایک فوری معاشی اور انسانی مسئلہ بن چکی ہے۔ حقیقی مضبوطی پیدا کرنے کے لیے ہمیں صرف آفات کے بعد ردِعمل دینے کے بجائے ایسے قدرتی حل اپنانے ہوں گے جو خراب ہو چکے ماحولیاتی نظام کو بحال کریں اور کمزور آبادیوں کو تحفظ فراہم کریں۔

    درجہ حرارت کا تیزی سے بڑہنا انسانی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ ہر سال ہیٹ ویو کے دوران بزرگ افراد، بچے اور محنت کش طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے جبکہ بجلی اور پانی کی قلت عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتی ہے۔

    محمکہ موسمیات کے مطابق 4 مئی کے روز شدید گرمی کے باعث کراچی شہر میں کم از کم 10 افراد گرمی کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے۔ اس دن درجہ حرارت 44.1 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو 2018 کے بعد مئی میں سب سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا درجہ حرارت ہے۔ دن بھر گرم اور خشک ہوائیں بھی چلتی رہیں جس سے گرمی کی شدت مزید بڑھ گئی۔ سندھ کے دیگر علاقوں سے ہلاکتوں یا مریضوں کا ڈیٹا دستیاب نہیں ہے۔

    ہیٹ ویوز اور ایل نینو کے خطرات

    ایل نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو بحرالکاہل کے پانیوں کے غیر معمولی گرم ہونے سے پیدا ہوتا ہے۔ اس کے اثرات دنیا بھر کے موسم پر پڑتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایل نینو کی وجہ سے کئی ممالک میں شدید گرمی، خشک سالی، جنگلات میں آگ اور غیر متوقع بارشیں دیکھنے میں آتی ہیں۔ پاکستان بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں ہے۔ حالیہ برسوں میں ملک میں گرمی کی شدت اور ہیٹ ویوز میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    عالمی موسمیاتی ادارے)ڈبلیو ایم او) نے حال ہی میں خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران ایل نینو کے اثرات نمایاں ہونے کا امکان 80 فیصد ہے، جس کے باعث دنیا کے مختلف حصوں میں شدید موسمی واقعات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

    اقوام متحدہ کے موسمیات اور آب و ہوا سے متعلق اس ادارے کے مطابق ایل نینو کی صورتحال کے نتیجے میں دنیا بھر میں

    سائنس دان ایک نئے رجحان کی بھی نشاندہی کر رہے ہیں جس میں ہیٹ ویوز پہلے سے زیادہ طویل، شدید اور بار بار آنے لگے ہیں۔ رات کے وقت درجہ حرارت کم نہ ہونے کے باعث انسانی صحت کو مزید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی نہ کی گئی تو مستقبل میں شدید گرمی کے واقعات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے درخت لگانا، صاف توانائی کا استعمال بڑھانا اور پانی کے وسائل کا بہتر انتظام ضروری ہے۔ عوام کو بھی گرمی کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں تاکہ انسانی جانوں اور معیشت کو نقصان سے بچایا جا سکے۔

    مون سون کی شدت

    دوسری جانب پاکستان میں ہر سال ساون یعنی مون سون کی بارشیں بھی غیر متوقع اور شدید ہوتی جا رہی ہیں۔ پہلی جولائی سے وسطی ستمبر کے دوران مون سون کی شدت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ چند دنوں یا چند گھنٹوں میں ہونے والی غیر معمولی بارشیں شہروں اور دیہی علاقوں میں تباہی پھیلا دیتی ہیں۔ دریاؤں میں طغیانی، پہاڑی ندی نالوں میں سیلاب اور شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ معمول بنتی جا رہی ہے۔ موسمیاتی ماہرین کے مطابق گرم ہوتی فضا زیادہ نمی جذب کرتی ہے جس کے نتیجے میں بارشوں کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    پاکستان کی تاریخ کے حالیہ بدترین قدرتی سانحات میں 2022 کے سیلاب کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ جون سے اکتوبر 2022 تک ہونے والی غیر معمولی بارشوں اور سیلاب نے ملک کے تقریباً ایک تہائی حصے کو زیرِ آب کر دیا۔ اس تباہی سے 3 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے، 17 سو سے زائد جانیں ضائع ہوئیں جبکہ تقریباً 80 لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔ عالمی بینک کے مطابق اس آفت سے 30 ارب ڈالر سے زائد کے نقصانات اور معاشی خسارے کا تخمینہ لگایا گیا۔

    2022 کے سیلاب میں لاکھوں مکانات تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے، ہزاروں کلومیٹر سڑکیں بہہ گئیں، سیکڑوں پل ٹوٹ گئے اور زرعی اراضی کو شدید نقصان پہنچا۔ اسکول، اسپتال اور آبپاشی کا نظام بھی متاثر ہوا۔ خاص طور پر سندھ، بلوچستان، جنوبی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے کئی اضلاع مہینوں تک پانی میں ڈوبے رہے۔

    سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے ڈیولپمینٹ کے ماہر نصیر میمن کے مطابق پاکستان میں اب تو ہر سال مون سون کی بارشوں سے پہلے قوم ایک شدید فکر میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ ان کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی نے دیہی اور شہری علاقوں کی عوام اور وہاں کی اقتصادیات کو شدید متاثر کیا ہے۔

    ان کے مطابق سندھ میں 2022 کے سیلاب کے دوران تمام تر پچھلی ترقی پانی میں بہہ گئی۔  35 فیصد اسکولوں کی عمارت یا تو مکمل تباہ ہوگئیں یا استعمال کے قابل نہیں ہیں۔ اس طرح شہروں میں ہیٹ ویو کی وجہ سے نا صرف ہلاکتیں ہوتی ہیں بلکہ معاشی ترقی بھی متاثر ہوئی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ شہری علاقوں میں سبزہ کی شدید کمی ہے۔ ہمارے جنگلات کاٹ کر زرعی پیداوار کی جارہی اور شہروں میں درختوں کی جگہوں پر کنکریٹ کے جنگل وجود میں آرہے ہیں۔

    2025 کے مون سون سیزن کے دوران بھی خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلاب نے بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان پہنچایا۔ اطلاعات کے مطابق مون سون بارشوں سے ملک بھر میں ایک ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے جن میں بڑی تعداد خیبر پختونخوا اور پنجاب کی تھی۔ ہزاروں گھر، سڑکیں اور پل متاثر ہوئے جبکہ متعدد خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔

    خیبر پختونخوا کے سوات، بونیر، باجوڑ، مانسہرہ اور دیگر اضلاع میں اچانک آنے والے ندی نالوں میں آنے والے ریلوں نے بستیاں اجاڑ دیں۔ پنجاب کے کئی دریائی علاقوں میں بھی سیلابی پانی نے فصلوں اور املاک کو نقصان پہنچایا۔ ہزاروں افراد کو عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا اور امدادی کارروائیاں کئی ہفتوں تک جاری رہیں۔

    ناکافی حکومتی اقدامات

    اگرچہ موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی حکومت نے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ مگر ماہرین ان سب کو ناکافی قرار دیتے ہیں۔

    سابق پی ٹی آئی کی حکومت نے ملک میں  پہلے بلین ٹریز اور بعد میں ٹین بلین ٹری سونامی سمیت شجرکاری مہمات شروع کی گئیں، اس کے علاوہ موجودہ حکومت کے دوران قومی موسمیاتی تبدیلی پالیسی مرتب کی گئی ہے، گلیشیئر مانیٹرنگ کے منصوبے شروع ہوئے اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ادارہ جاتی صلاحیت بہتر بنانے کی کوششیں کی گئیں۔ اس کے علاوہ ابتدائی وارننگ سسٹم، ڈیموں کی تعمیر، نکاسی آب کے منصوبوں اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

    تاہم زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ اقدامات اب بھی ناکافی ہیں۔ آبادی میں تیزی سے اضافہ، بے ہنگم شہری توسیع، جنگلات کی کٹائی، ندی نالوں پر غیر قانونی تعمیرات اور کمزور انفراسٹرکچر موسمیاتی خطرات کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ ہر سال کسی نہ کسی صوبے میں شدید گرمی، بارش یا سیلاب معمولاتِ زندگی کو متاثر کر دیتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور جامع منصوبہ بندی نہ کی گئی تو مستقبل میں نقصانات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

    ماحولیاتی ماہر ناصر پہنور کے مطابق کچھ ترقیاتی منصوبوں نے بھی قدرتی وسائل کو نقصان پہنچایا، آلودگی میں اضافہ کیا اور مسائل کو مزید سنگین بنا دیا۔ اب صورتحال ایک ایسے برے چکر میں پھنس گئی ہے کہ وجہ اور نتیجے میں فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر یہ طے کرنا مشکل ہے کہ آیا غریب لوگوں کی سرگرمیاں ماحول کو نقصان پہنچاتی ہیں، یا ماحول کی کمزور ہوتی ہوئی صلاحیت ہی غربت کا سبب بنتی ہے۔

    عالمی یومِ ماحولیات اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی صرف حکومتی اداروں کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پانی کے ضیاع کو روکنا، درخت لگانا، توانائی کا محتاط استعمال، ماحول دوست طرزِ زندگی اپنانا اور قدرتی وسائل کا تحفظ ہر شہری کا فرض ہے۔ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر مضبوط حکمت عملی، جدید انفراسٹرکچر اور مقامی آبادی کی شمولیت کی ضرورت ہے۔