ہر سال یکم مئی کو دنیا بھر میں یومِ مزدور منایا جاتا ہے۔ یہ دن مئی 1886میں امریکہ کے شہر شکاگو کے محنت کشوں کی اُس تاریخی جدوجہد کی یاد دلاتا ہے جب انہوں نے آٹھ گھنٹے کے اوقاتِ کار اور بہتر حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔ اس جدوجہد کے نتیجے میں دنیا بھر میں مزدوروں کے حقوق کو تسلیم کیا گیا، مگر آج بھی بہت سے ممالک، خصوصاً ترقی پذیر ممالک میں، محنت کشوں کو وہ سہولیات اور تحفظ حاصل نہیں جو ان کا بنیادی حق ہیں۔
پاکستان میں یومِ مزدور سرکاری سطح پر منایا جاتا ہے۔ ٹریڈ یونیز اور مزدور تحریکیں جلسے، سیمینارز اور ریلیاں نکالتی ہیں اور شکاگو کے مزدوروں کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ، ملک کے اندر مزدوروں کی حالت زار پر بھی بات چیت کی جاتی ہے۔ صنعتی اور زرعی دونوں شعبوں میں کام کرنے والے محنت کش آج بھی کم اجرت، غیر محفوظ ماحول اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔
پاکستان کے تازہ ترین لیبر فورس سروے (2024-25) کے مطابق ملک میں مزدوروں یا لیبر فورس کی مجموعی تعداد تقریباً 83 ملین (8 کروڑ 31 لاکھ) تک پہنچ چکی ہے۔ اس میں وہ تمام افراد شامل ہیں جو کام کر رہے ہیں یا کام کی تلاش میں ہیں۔ سروے کے مطابق روزگار حاصل کرنے والے افراد کی تعداد بھی بڑھ کر تقریباً 79.7 ملین ہو گئی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں لیبر فورس میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔
پاکستان میں مزدور اور ٹریڈ یونینز کی صورتحال
پاکستان میں ٹریڈ یونینز کی صورتحال خاصی کمزور ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے مطابق ایک فیصد سے بھی کم مزدور کسی بھی ٹریڈ یونین سے منسلک ہے، کیوں کہ اداروں میں تھرڈ پارٹی کانٹریکٹ کے ذریعے ملازمت دی جاتی ہے، جس میں مزدوروں کو روزانہ، ہفتہ وار یا ماہانہ اجرت پر رکھا جاتا ہے، اور لیبر قوانین کے تحت کوئی بھی مراعت نہیں دی جاتی۔
صنعتی مزدوروں کی حالت پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ فیکٹریوں، کارخانوں اور ورکشاپس میں کام کرنے والے لاکھوں مزدور طویل اوقات تک کام کرتے ہیں، مگر انہیں مناسب معاوضہ نہیں ملتا۔ بہت سے مزدور غیر رسمی معاہدوں پر کام کرتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں نوکری کا تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔ صوبوں میں کم از کم اجرت کا قانون نافذ ہے اور اجرت کے تعین کے لیے سہ فریقی بورڈز بھی بنے ہوئے ہیں، مگر اس پر عمل نہیں ہوتا۔ رواں مالی سال کے دوران تمام صوبوں نے کم از کم اجرت 40 ہزار روپے ماہانہ یا کچھ صوبوں نے تھوڑی زیادہ مقرر کی ہوئی ہے، مگر ٹریڈ یونین نمائندوں کے مطابق اس پر کہیں بھی عمل درآمد نہیں ہوتا۔
کام کی جگہ پر حادثات کی صورت میں نہ تو انشورنس ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی مناسب معاوضہ دیا جاتا ہے۔ حفاظتی اقدامات کی کمی کے باعث آئے روز حادثات پیش آتے رہتے ہیں، جن میں قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔
اجتماعی سودا کاری یعنی کولیکٹو بارگیننگ کا فقدان بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ماضی میں ٹریڈ یونینز مزدوروں کے حقوق کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتی تھیں، مگر وقت کے ساتھ ان کی تعداد اور اثر و رسوخ میں نمایاں کمی آئی ہے۔ آج بہت سے اداروں میں یونین بنانے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے، جس کی وجہ سے مزدور اپنی آواز مؤثر انداز میں بلند نہیں کر پاتے۔
ٹریڈ یونینز کے زوال کی ایک وجہ قانونی اور انتظامی رکاوٹیں بھی ہیں۔ یونین رجسٹر کروانے کا عمل پیچیدہ ہے اور کئی بار مزدوروں کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ نجی شعبے میں ملازمین کو یونین بنانے پر ملازمت سے نکالے جانے کا خوف بھی رہتا ہے، جس کی وجہ سے وہ منظم نہیں ہو پاتے۔
زرعی مزدوروں کی بدحالی
زراعت پاکستان کی معیشت کا اہم ستون ہے، مگر اس اہم شعبے میں کام کرنے والے مزدور شدید مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ لیبر فورس سروے 2024-25 کے مطابق پاکستان میں زرعی شعبہ اب بھی سب سے بڑا روزگار فراہم کرنے والا شعبہ ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کل روزگار کا تقریباً 33.1 فیصد حصہ زراعت سے وابستہ ہے۔
اگر اسے مجموعی روزگار (تقریباً 83 ملین افراد) پر لاگو کیا جائے تو اندازاً 26 سے 27 ملین (تقریباً 2 کروڑ 70 لاکھ) افراد زرعی شعبے میں کام کر رہے ہیں۔ اس میں کھیتی باڑی، مویشی پالنا، ماہی گیری اور اس سے متعلق دیگر سرگرمیاں شامل ہیں۔ اگرچہ زراعت اب بھی سب سے بڑا شعبہ ہے، لیکن حالیہ برسوں میں اس کا حصہ کم ہو رہا ہے کیونکہ مزدور بڑی تعداد میں خدمات (سروسز) اور دیگر شعبوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔
دیہی علاقوں میں کام کرنے والے یہ مزدور زمین کے مالک نہیں ہوتے بلکہ بڑے زمینداروں کے لیے کام کرتے ہیں۔ سندھ میں ٹیننسی ایکٹ 1950 لاگو ہے، جس کے تحت زرعی مزدور یا ہاری فصل کی پیداوار کے آدھے حصے کا حقدار ہوتا ہے۔ مگر سندھ میں کہیں بھی ہاری کو آدھا حصہ نہیں ملتا۔ کچھ علاقوں میں حصہ چوتھائی اور کہیں تو آٹھواں حصہ دیا جاتا ہے۔ اکثر علاقوں میں ہاریوں کو روزانہ اجرت کی بنیاد پر بھی کام پر رکھا جاتا ہے۔ایسے مزدوروں کو کم اجرت دی جاتی ہے اور اکثر اوقات اجرت وقت پر بھی ادا نہیں کی جاتی۔ خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی کھیتوں میں کام کرتی ہے، مگر انہیں نہ تو مناسب اجرت دی جاتی نہ ہی قانونی تحفظ حاصل ہے اور نہ ہی تعلیم یا صحت کی مناسب سہولیات میسر ہیں۔
زرعی مزدوروں کی ایک بہت بڑی تعداد جبری مشقت کا شکار ہے، جہاں زمیندار ان سے بغیر اجرت ادا کیے جبری طور پر مزدوری کرواتے ہیں۔ سندھ میں کئی مقامات پر پرائیویٹ جیل ہیں، جہاں ہاریوں یا زرعی مزدوروں کو ان کے خاندانوں سمیت باندی بنا کر رکھا جاتا ہے۔ ایسے کئی خاندان ہر سال سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر آزاد کیے جاتے ہیں۔ ایسے مزدور خاندانوں کی اکثریت شیڈول کاسٹ ہندو برادری سے ہوتا ہے، جو بغیر کسی لیگل سپورٹ اور سوشل سیکیورٹی کے دن رات کھیتی باڑی کا کام کرتے رہتے ہیں اور ان کو جینے کے لیے صرف دو وقت کا کھانا اور عارضی گھر بنانے کے لیے چھوٹا زمین کا ٹکڑہ دیا جاتا ہے، جہاں کوئی بھی بنیادی سہولت مہیا نہیں ہوتی۔
سندھ میں بانڈیڈ لیبر (جبری مشقت) کی تعداد کے بارے میں مختلف رپورٹس میں اندازے دیے گئے ہیں، تاہم سندھ ہاری ویلفیئر ایسو سی ایشن کی تازہ رپورٹ کے مطابق سندھ میں 2025 تک تقریباً 17 لاکھ (1.7 ملین) افراد بانڈیڈ لیبر کا شکار ہیں، جن میں بڑی تعداد زرعی شعبے سے وابستہ ہے۔ پکی اینٹیں بنانےکے بٹھوں میں بھی بانڈیڈ لیبر پایا جاتا ہے۔ سندھ ہاری ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر اکرم خاصیلی کے مطابق قانون سازی کے باوجود جاگیردارانہ نظام اور کمزور نگرانی کمیٹیاں اس انسانی استحصال کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 2013 سے 2024 کے درمیان 12 ہزار سے زیادہ مزدور عدالتوں کے ذریعے آزاد کرائے گئے، لیکن اس کے باوجود لاکھوں لوگ اب بھی غلامی جیسی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔
بچوں سے مشقت
سرکاری طور پر کیے گئے سندھ چائلڈ لیبر سروے 2022–2024 کے مطابق صوبے میں بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد مشقت میں ملوث ہے۔
اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف اور حکومت سندھ کے لیبر ڈیپارٹمینٹ کی جانے سے کیے گئے تازہ سروے رپورٹ کے مطابق سندھ میں تقریباً 16 لاکھ (1.6 ملین) بچے، جن کی عمر 5 سے 17 سال کے درمیان ہے، چائلڈ لیبر میں شامل ہیں۔ سروے یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ یہ تعداد صوبے کے کل بچوں کا لگ بھگ 10 فیصد بنتی ہے، جبکہ ان میں سے بڑی تعداد زرعی شعبے میں کام کرتی ہے اور کئی بچے خطرناک حالات میں مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ ان اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے تقریباً 7 لاکھ بچے ایسے بھی شامل ہیں، جو کھیتوں اور دیگر کاموں میں سخت اور غیر انسانی حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ سندھ میں بچوں سے مزدوری لینے کے خلاف قانون Sindh Prohibition of Employment of Children Act, 2017 موجود ہے، جس کے تحت 14 سال سے کم عمر بچوں کو کسی بھی قسم کی ملازمت یا مزدوری پر رکھنا مکمل طور پر ممنوع ہے۔ البتہ قانون میں 14 سے 18 سال کے بچوں (جنہیں ’نو عمر‘ کہا جاتا ہے) سے کام لینے کی مشروط اجازت ہے۔ ایسے بچوں کو خطرناک یا مضرِ صحت کاموں میں لگانا غیر قانونی ہے، جیسا کہ بھٹوں ، کان کنی، کیمیکل فیکٹریاں وغیرہ میں کام کرنا۔
سوشل سیکیورٹی کی صورتحال
پاکستان میں سماجی تحفظ کا نظام انتہائی کمزور ہے۔ بے روزگاری الاؤنس، بنیادی صحت اور بچوں تعلیم جیسی سہولیات اور پنشن جیسے بنیادی حقوق بہت کم مزدوروں کو دستیاب ہیں۔ زیادہ تر محنت کش غیر رسمی شعبے سے وابستہ ہیں، جہاں کسی قسم کا ریکارڈ نہیں رکھا جاتا، جس کی وجہ سے وہ حکومتی اسکیموں سے بھی فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ نتیجتاً، بیماری، حادثہ یا معاشی بحران کی صورت میں یہ مزدور شدید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔
پاکستان میں 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد لیبر کا شعبہ صوبوں کے دائرہ اختیار میں چلاگیا ہے۔ صوبوں میں غیرسرکاری ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے کئی ادارے قائم ہیں، جیسا کہ سندھ ایمپلائیز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی) جو کہ مزدوروں اور ان خاندانوں کو صحت و تعلیم کی سہولیات مہیا کرنے اور سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ جو کہ مزدوروں کو رہائشی سہولیات، اسپیشل ایمرجنسی مالی سہولیات جیسا کہ جہیز فنڈ اور فوتی فنڈ مہیا کرتا ہے۔ جبکہ وفاقی حکومت کے تحت کام کرنے والا ادارہ ایمپلائیز اولڈ ایج بیینفٹ انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) ریٹائرڈ مزدوروں کو ماہانہ پینشن مہیا کرتا ہے۔
ان سرکاری اداروں کی سہولیات سے صرف رجسٹرڈ مزدور ہی استفادہ حاصل کرسکتے ہیں، کیوں کہ ان کے آجر ماہانہ بنیادوں پر فی ملازم فیس ادا کرتے ہیں۔
یومِ مزدور ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ محنت کش کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ اگر انہیں مناسب اجرت، محفوظ ماحول اور بنیادی حقوق فراہم نہ کیے جائیں تو معاشی ترقی پائیدار نہیں ہو سکتی۔ حکومت، نجی شعبہ اور سول سوسائٹی کو مل کر ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جن سے مزدوروں کی حالت بہتر ہو سکے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ لیبر قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے، کم از کم اجرت کو یقینی بنایا جائے اور کام کے اوقات کو قانون کے مطابق محدود رکھا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ مزدوروں کے لیے صحت، تعلیم اور رہائش کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ زرعی مزدوروں کو بھی وہی حقوق دیے جائیں جو صنعتی مزدوروں کو حاصل ہیں۔
آخر میں، ٹریڈ یونینز کو مضبوط بنانا اور اجتماعی سوداکاری کے عمل کو فروغ دینا نہایت ضروری ہے۔ جب تک مزدور متحد ہو کر اپنی آواز بلند نہیں کریں گے، ان کے مسائل حل ہونا مشکل ہے۔ یومِ مزدور صرف ایک دن منانے کا نام نہیں، بلکہ یہ عہد کرنے کا دن ہے کہ ہم اپنے محنت کشوں کو وہ مقام دیں گے جس کے وہ حقیقی طور پر مستحق ہیں۔

