Tag: ہیومن رائٹس

  • ایچ آر سی پی ’اسٹیٹ آف ہیومن رائٹس 2025‘رپورٹ: ‘ملک میں شہری آزادیوں کا دائرہ نمایاں طور پر سکڑ گیا’

    ایچ آر سی پی ’اسٹیٹ آف ہیومن رائٹس 2025‘رپورٹ: ‘ملک میں شہری آزادیوں کا دائرہ نمایاں طور پر سکڑ گیا’

    ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے ملک کے اندر انسانی حقوق کی اپنی سالانہ رپورٹ ’اسٹیٹ آف ہیومن رائٹس 2025‘ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال ملک میں شہری آزادیوں کا دائرہ نمایاں طور پر سکڑ گیا، عدلیہ کی خودمختاری کمزور ہوئی اور مجموعی طور پر عدم تحفظ میں اضافہ دیکھا گیا۔

    پیر کے روز اسلام آباد میں ایک اجلاس کے دوران سالانہ جائزہ رپورٹ کا اجرا کیا گیا۔ رپورٹ کی تفصیلات ایچ آر سی پی کے چیئرمین اسد اقبال بٹ، سابق چیئرپرسن حنا جیلانی، شریک چیئر منیزہ جہانگیر، نائب چیئر نسرین اظہر اور سیکریٹری جنرل حارث خالق نے میڈیا کے سامنے پیش کیں اور صحافیوں کے سوالات کے جواب بھی دیے۔

    رپورٹ کے مطابق اظہارِ رائے کی آزادی، خصوصاً حکومت سے سوال کرنے اور احتساب کا مطالبہ کرنے کا حق شدید دباؤ کا شکار رہا، جس کے باعث قانون کی حکمرانی اور بنیادی حقوق کو نقصان پہنچا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ میں ترامیم، بغاوت اور انسداد دہشت گردی کے قوانین کے استعمال کے ذریعے صحافیوں، سیاسی کارکنوں، سماجی کارکنوں اور وکلا کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ دھمکیوں، جبری گمشدگیوں اور نقل و حرکت پر پابندیوں نے خوف اور خود سنسرشپ کا ماحول پیدا کیا۔

    رپورٹ کے مطابق انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 میں وفاقی اور بلوچستان کی سطح پر کی گئی ترامیم کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حتیٰ کہ مسلح افواج کو بھی بغیر فرد جرم اور عدالتی نگرانی کے کسی شخص کو تین ماہ تک حراست میں رکھنے کا اختیار دے دیا گیا، جس سے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہوئے۔

    مزید برآں 27ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ کی آزادی میں کمی دیکھی گئی اور عدالتی تقرریوں میں انتظامیہ کا اثر بڑھ گیا۔ اہم عدالتی فیصلوں نے بھی جمہوری عمل کو محدود کیا، جن میں سویلین افراد کے فوجی ٹرائلز کی اجازت اور پاکستان تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں سے محروم کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

    سندھ میں انسانی حقوق کی تشویشناک صورتحال

    ایچ آر سی پی کی رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران سندھ میں انسانی حقوق کی صورتحال کئی حوالوں سے تشویشناک رہی، جہاں امن و امان، مزدوروں کے حقوق، مذہبی آزادی اور شہری سہولیات کے مسائل نمایاں رہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سندھ میں پولیس مقابلوں کا سلسلہ بھی جاری رہا، جن میں درجنوں افراد مارے گئے، جبکہ ماہرین نے ان واقعات کو ماورائے عدالت اقدامات قرار دیا ہے۔ اسی طرح جیلوں میں قیدیوں کی تعداد گنجائش سے کہیں زیادہ رہی، جس کے باعث قیدیوں کو بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔

    پاکستان میں پہلی مرتبہ ڈاکوؤں کی ہتھیار ڈالنے کی پالیسی متعارف کرائی گئی۔ 6 اکتوبر کو سندھ کابینہ نے کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے لیے ایک جامع ہتھیار ڈالنے کی پالیسی کی منظوری دی۔

    اس پالیسی کے تحت جرائم پیشہ گروہوں کو اپنے ہتھیار ڈالنے کی ترغیب دی گئی، جس کے بدلے ان کے خاندانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بحالی اور روزگار کی سہولتیں دینے کا وعدہ کیا گیا۔ اکتوبر 2025 کے آخر میں 72 مبینہ ڈاکوؤں نے 200 سے زائد ہتھیار، جن میں رائفلیں، سب مشین گنز اور بھاری اسلحہ شامل تھا، حکام کے حوالے کر دیے۔

    ببرلو کے مقام پر طویل دھرنا

    سال 2025 کے بیشتر حصے میں سندھ میں دریائے سندھ کے نظام پر چھ نئی نہروں کی مجوزہ تعمیر کے خلاف مسلسل عوامی بے چینی دیکھی گئی، کیونکہ لوگوں کو خدشہ تھا کہ اس سے زرعی موسم کے اہم اوقات میں پانی کی قلت مزید بڑھ جائے گی۔

    سیاسی کارکنوں، وکلا، صحافیوں، طلبہ اور کسانوں نے صوبے بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے۔ سندھ اسمبلی نے اس منصوبے کے خلاف ایک قرارداد بھی منظور کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ منصوبہ مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری کے بغیر شروع کیا گیا۔ بعد ازاں وفاقی حکومت نے یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل کو بھجوا دیا، جس نے بین الصوبائی اتفاق رائے تک اس منصوبے کو معطل کر دیا۔

    20 مئی کو ضلع نوشہرو فیروز کے شہر مورو میں دریائے سندھ پر نئی نہروں کی مجوزہ تعمیر کے خلاف احتجاج کے دوران پرتشدد جھڑپیں پھوٹ پڑیں۔ مظاہرہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب پولیس نے مورو بائی پاس سڑک بند کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔

    اس دوران ایک مظاہرہ کرنے والے زاہد لغاری گولی لگنے سے جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس اور چھ دیگر اہلکاروں سمیت درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ مظاہرین نے ڈنڈوں اور سلاخوں سے مسلح ہو کر پولیس کارروائی کی مزاحمت کی، جس کے نتیجے میں لاٹھی چارج اور ہوائی فائرنگ کی گئی۔

    اس دوران متعدد گاڑیوں، جن میں دو ٹریلر اور ایک پولیس وین شامل تھی، کو آگ لگا دی گئی، جبکہ علاقے میں کاروبار بھی بند ہو گیا۔ زاہد لغاری کی ہلاکت کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی اور مظاہرین نے سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء لنجار کی رہائش گاہ پر حملہ کر کے اسے جزوی طور پر نذر آتش کر دیا۔

    جبری مذہب تبدیلی

    مذہبی آزادی کے حوالے سے بھی سندھ میں تشویشناک واقعات سامنے آئے۔ ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کے جبری مذہب تبدیل کرنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے، جس سے اقلیتوں کے تحفظ پر سوالات

    پیدا ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق اقلیتی برادریوں کو نہ صرف تشدد بلکہ قانونی اور سماجی دباؤ کا بھی سامنا رہا۔

    ہندو لڑکیوں کی مبینہ جبری تبدیلی مذہب کا مسئلہ مسلسل ان کے خاندانوں کی جانب سے رپورٹ کیا جاتا رہا، اگرچہ بعض لڑکیاں خود یہ مؤقف اختیار کرتی ہیں کہ انہوں نے اپنی مرضی سے شادی کی۔ ایسا ہی ایک واقعہ، جو 2024 کے آخر میں سامنے آیا، میرپورخاص ضلع کی ہندو لڑکی کاجل میگھواڑ سے متعلق تھا، جسے مبینہ طور پر اغوا کیا گیا تھا۔ بعد میں وہ اپنے شوہر کے ساتھ سامنے آئیں اور بیان دیا کہ انہوں نے اسلام قبول کر کے 30 دسمبر 2024 کو پُنہوں نامی ایک مسلمان شخص سے شادی کی ہے۔

    جنوری میں ان کے بیان کے بعد میرپورخاص کے ایڈیشنل سیشن جج نے پولیس کو نو شادی شدہ جوڑے کو سیکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا۔

    اسی طرح فروری میں تھرپارکر کے علاقے ڈپلو سے تعلق رکھنے والی ہندو ٹک ٹاک اسٹار اور ابھرتی ہوئی گلوکارہ بھگوانتی بھیل نے اسلام قبول کر کے اپنے مسلمان دوست صدام بجیر سے عمرکوٹ کے علاقے سامارو میں شادی کر لی۔ اس واقعے پر کئی سوشل میڈیا صارفین نے تنقید کی اور حکام سے مطالبہ کیا کہ ہندو برادری، خاص طور پر کم عمر لڑکیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

    جولائی میں ضلع ٹنڈو الہیار میں تین ہندو لڑکیوں کے مبینہ اغوا اور جبری تبدیلی مذہب کا ایک اور کیس سامنے آیا۔ کم عمر لڑکیوں کھینچی، لتا دیوی اور مینا کے اہل خانہ نے سلطان آباد تھانے میں تین الگ الگ مقدمات درج کروائے، جن میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ لڑکیوں کو اغوا کر کے زبردستی اسلام قبول کروایا گیا۔

    تاہم دو دن بعد یہ لڑکیاں سندھ ہائی کورٹ کے حیدرآباد سرکٹ بینچ کے سامنے پیش ہوئیں اور بیان دیا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور تنویر، سعید اور علی شیر سے شادی کی ہے۔

    پیکا قانون کا بے دریغ استعمال

    پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے تحت سندھ میں صحافیوں اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کے خلاف کئی کیسز درج کیے گئے۔ مارچ میں دادو پولیس نے پیکا ایکٹ کی دفعہ 26 اے کے تحت ایک مقدمہ درج کیا۔ یہ مقدمہ 34 افراد کے خلاف درج کیا گیا جن پر الزام تھا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے دفتر میں مبینہ بم دھماکے کے بارے میں جھوٹی معلومات پھیلائیں۔

    اس مقدمے کی ایف آئی آر ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر نے آفتاب جمالی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف درج کی، جس کے بعد پولیس نے متعدد چھاپے مارے، تاہم ملزمان کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ فرار ہو گئے۔

    ایک الگ واقعے میں ضلع کشمور کے علاقے تنگوانی میں پولیس نے پیکا کے تحت 28 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا، جن میں زیادہ تر صحافی، سیاسی کارکن اور مقامی رہائشی شامل تھے۔ ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے سوشل میڈیا کا غلط استعمال کیا، فیس بک اور واٹس ایپ کے ذریعے بے چینی پھیلائی اور پولیس و محکمہ قانون کو بدنام کیا۔

    اس کے ردعمل میں نامزد افراد اور دیگر مقامی صحافی تنگوانی پریس کلب میں جمع ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ یہ مقدمہ من گھڑت ہے اور دراصل امن و امان کی خراب صورتحال پر ان کی رپورٹنگ اور تنگوانی و کندھ کوٹ میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے خلاف احتجاج کے جواب میں درج کیا گیا ہے۔