یورپ میں مذہبی طور پر منائے جانے والا ہالووین کا تہوار جو ماضی میں صرف مغربی دنیا تک محدود تھا جو اب اب عالمی تہوار بن گیا ہے۔ پاکستان میں بھی خاص طور پر نوجوان نسل اس تہوار کو دلچسپی سے مناتی ہے۔
لاہور، اسلام آباد اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں پچھلے چند برسوں میں ہالووین پارٹیاں تیزی سے مقبول ہوئی ہیں۔ ریسٹورنٹس، کیفے، جامعات اور مختلف تنظیمیں ڈراؤنے لباس، مخصوص موسیقی اور سجاوٹ کے ساتھ تقریبات منعقد کرتی ہیں۔
کراچی میں حال ہی میں کئی بڑی تقاریب ہوئیں جن میں نوجوانوں نے بھرپور شرکت کی۔ جن میں خوفناک نظر آنے کے لیے میک اپ، رنگ برنگے نقاب، ڈیزائنر ملبوسات اور کدو کی سجاوٹ کی گئی۔
ہالووین کا تہوار ہے کیا، کیوں اور کب سے منایا جارہا ہے؟
ہالووین کا تہوار دو ہزار سالوں سے منایا جارہا ہے۔ اُس دور میں جب یورپ کے سرد اور دھند آلود میدانوں میں سیلٹک قوم آباد تھی۔ وہ لوگ 31 اکتوبر کی رات کو ایک تہوار مناتے تھے۔ جسے ‘سوہن’ یا سَوَنَ کے نام سے پُکارا جاتا تھا۔
ان کا عقیدہ تھا کہ فصل کے اختتام اور سردیوں کے آغاز کی یہ رات دنیا اور زیرِ زمین دنیا کے درمیان موجود پردے کو کمزور کر دیتی ہے۔ اس لیے اُنہیں یقین تھا کہ اس رات مُردوں کی روحیں واپس زمین پر آتی ہیں۔
ان روحوں سے بچنے کے لیے لوگ بڑے بڑے الاؤ جلاتے۔ آگ کے گرد رقص، دعائیں اور مختلف رسومات ادا کی جاتیں۔ لوگ جانوروں کی کھالوں اور سروں سے خاص کپڑے بناتے، چہروں پر عجیب و غریب نقاب پہنتے تاکہ بُری روحیں انہیں پہچان نہ سکیں۔
اس طرح ڈراؤنی شکلیں بنانے، خوفناک لباس پہننے اور چہروں پر نقش و نگار بنانے کی روایت نے جنم لیا، مگر اُس وقت کسی نے یہ سوچا بھی نہ تھا کہ یہ چھوٹی سی روایت آگے چل کر ایک عالمی تہوار کی شکل اختیار کر لے گی۔
صدیاں گزرتی گئیں۔ یورپ میں عیسائیت کا پھیلاؤ ہوا۔ مذہبی رہنماؤں کو اندازہ تھا کہ لوگ اپنے قدیم تہوار چھوڑنا نہیں چاہتے، اس لیے انہوں نے حکمت سے کام لیا۔ انہوں نے یکم نومبر کو مقدس ہستیوں کا دن قرار دیا، جبکہ اس سے ایک رات پہلے کی تقریب کو خصوصی اہمیت دی گئی۔
اس طرح رفتہ رفتہ اس رات کا نام بدلتے بدلتے ‘ہالووین’ بن گیا۔
قرونِ وسطیٰ کے یورپ میں ہالووین مزید بدلا۔ لوگوں نے اسے ڈر اور اندیشے کے بجائے کھیل تماشوں، پیش گوئیوں اور مقامی روایات کے طور پر منانا شروع کیا۔ شلجم کو اندر سے کھوکھلا کر کے اس میں روشنی رکھی جاتی، نوجوان لڑکیاں مستقبل بتانے والے کھیل کھیلتی تھیں، اور بچے سیبوں سے بھرے پانی کے ٹب میں اپنا کرتب دکھاتے تھے۔
وقت کے ساتھ ساتھ جب یورپ کے غربت زدہ لوگ بھوک اور بیماریوں کے باعث امریکہ پہنچے تو وہ اپنے ساتھ یہ تہوار بھی لے گئے۔ وہاں انہیں کدو بڑی مقدار میں ملتے تھے، اس لیے انہوں نے شلجم کی جگہ کدو کھوکھلا کر کے چہرے تراشنا شروع کیا، جو آگے چل کر ہالووین کی سب سے پہچانی جانے والی علامت بن گیا۔
آج ہالووین دنیا کے تقریباً ہر خطے میں کسی نہ کسی شکل میں منایا جاتا ہے۔ اب یہ صرف مذہبی یا دیومالائی تہوار نہیں رہا بلکہ ایک ثقافتی، تفریحی اور سماجی تقریب ہے۔ بھوتوں، چڑیلوں، دیوؤں اور عجیب و غریب کرداروں کے ملبوسات تیار کیے جاتے ہیں۔
کدو تراشنے کے مقابلے، ڈراؤنے گھروں کی نمائش، خوفناک کہانیوں کی محفلیں، موسیقی کی راتیں اور بچوں کی مٹھائیوں کی مہم یہ سب اس تہوار کا حصہ بن چکے ہیں۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان میں لوگ ہالووین کو مذہبی رسم نہیں سمجھتے، بلکہ اسے ایک تفریحی اور ثقافتی تقریب کے طور پر مناتے ہیں۔ بہت سے نوجوان اسے دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے، تصاویر بنانے، تخلیقی لباس پہننے اور مزاحیہ انداز اختیار کرنے کا موقع سمجھتے ہیں۔ یوں یہ تہوار اپنی اصل سے بہت دور، مگر ایک نئے رنگ میں یہاں بھی بسیرا کر چکا ہے۔
صدیوں کے ارتقا کے بعد ہالووین ایک حیرت انگیز مثال ہے کہ کس طرح تہذیبیں وقت کے ساتھ بدلتی، سفر کرتی اور نئی شکلیں اختیار کرتی ہیں۔
ایک طرف یہ قدیم عقائد اور دیومالائی تصورات سے جڑا ہوا ہے، اور دوسری طرف جدید دنیا کے نوجوانوں کے لیے یہ تخلیق، فن، مزاح اور تفریح کا موقع بن چکا ہے۔ گویا ہالووین ایک ایسی رات ہے جس میں تاریخ، داستان، خوف، مسکراہٹیں اور انسانی تخیل یکجا ہو کر دنیا بھر میں ایک خاص جادو بکھیر دیتے ہیں۔

