Tag: گگرال درخت

  • کوپ -20 نایاب گگرال درخت کو معدومیت کے شکار جنگلی انواع کی بین الاقوامی تجارت کا عالمی معاہدے کے تحت محفوظ قرار

    کوپ -20 نایاب گگرال درخت کو معدومیت کے شکار جنگلی انواع کی بین الاقوامی تجارت کا عالمی معاہدے کے تحت محفوظ قرار

     

    سندھ کے صحرا تھر اور کھیرتھر کے پہاڑی سلسلوں میں اُگنے والے نایاب پودے گگرال یا گگر کے تحفظ کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
    خطرے سے دوچار جنگلی جانوروں اور پودوں کی بین الاقوامی تجارت کے کنونشن (سائٹس) کی کوپ 20 کانفرنس، جو سمرقند میں منعقد ہوئی، نے گگرال کو عالمی سطح پر محفوظ پودوں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے اس کی تجارت کو سخت نگرانی کے تحت لانے کا فیصلہ کیا ہے

    یونیسکو کی جانب سے سندھ کے روایتی ساز بوڑینڈو کو عالمی اعزاز ملنے کے بعد گگرال کا تحفظ صوبے کے لیے ایک اور بڑی خوشخبری ہے، جس کا باضابطہ اعلان بین الاقوامی اجلاس کے اختتام پر کیا گیا۔

    گُگر کو اس کی رال کے باعث قیمتی سمجھا جاتا ہے۔ یونانی اور آیورویدک ادویات میں اس کی رال کو سوزش کم کرنے، کولیسٹرول گھٹانے اور وزن قابو میں رکھنے کے لیے صدیوں سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انڈیا میں اسے روایتی مذہبی رسومات میں دھونی کے طور پر بھی جلایا جاتا ہے۔ یہی بڑھتی عالمی مانگ اس پودے کی بقا کے لیے بڑے خطرے کی وجہ بنی۔

    رال نکالنے کے لیے پودے کی چھال پر بار بار گہرے زخم لگائے جاتے ہیں اور کیمیکل کا استعمال کیا جاتا ہے، جس سے یہ کمزور ہو کر مرجھانے لگتا ہے۔ کچھ رپورٹس میں اس کے انڈیا سمگل ہونے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

    پانی کی شدید قلت، غیر ذمہ دار کٹائی، اور رال نکالنے کے کیمیکل طریقوں نے اس پودے کو نایاب ہونے کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ ماہرین برسوں سے خبردار کر رہے تھے کہ اگر صورتِ حال نہ بدلی تو گُگُر جنگلی ماحول میں پوری طرح ختم ہو جائے گا۔
    سندھ حکومت نے مارچ 2024 میں اس کی کٹائی، گوند نکالنے، اور غیر قانونی تجارت پر پابندی عائد کر دی تھی۔ مگر خطرہ برقرار رہا۔

    سمرقند کوپ 20 میں فیصلہ کن موڑ

    خطرے سے دوچار جنگلی جانوروں اور پودوں کی بین الاقوامی تجارت کے کنونشن کے تحت ہر چند سال بعد ایک بڑی میٹنگ کرتا ہے جسے کانفرنس آف پارٹیز (CoP) کہتے ہیں۔ اس میں مختلف میمبر ممالک مل کر یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ خطرے میں پڑی نسلوں کی بین الاقوامی تجارت کو کیسے کنٹرول کیا جائے تاکہ وہ ختم نہ ہوں۔پچھلی CoP- 19 میٹنگ نومبر 2022 میں پناما سٹی میں منعقد ہوئی تھی، جہاں کئی اہم فیصلے کیے گئے تھے۔

    اس سال CoP-20 ازبیکستان کے شہر سمرقند میں 24 نومبر سے پانچ دسمبر تک ہوئی۔ جب کہ اگلا اجلاس ایک بار پھر پناما میں منعقد ہوگا، جس کی میزبانی کا اعلان حالیہ کانفرنس میں کیا گیا ہے، اور یہ کانفرنس متوقع طور پر 2028 میں منعقد ہوگی۔

    کوپ- 20 کانفرنس میں 184 ممالک کے پانچ ہزار سے زائد مندوبین نے 51 تجاویز پر بحث کی، مگر گُگُر کا معاملہ نمایاں رہا۔ پانچ دسمبر کو کانفرنس کے اختتام پر اعلان ہوا کہ اسے ‘ضمیمہ -دوم’ میں شامل کیا جا رہا ہے، یعنی تجارت مکمل طور پر بند نہیں ہوگی، مگر سخت قوانین یہ یقینی بنائیں گے کہ پودا ختم نہ ہو۔

    یہ تجویز باضابطہ طور پر یورپی یونین نے پیش کی، جس کی حمایت عالمی تحقیقاتی اداروں، جیسا کہ ٹریفک اور برطانیہ کے رائل بوٹینک گارڈنز، نے بھی کی۔ ان اداروں نے خبردار کیا تھا کہ اگر جڑی بوٹیوں کی صنعت کو سائنسی اصولوں کے تحت منظم نہ کیا گیا تو گگرال سمیت کئی نایاب پودے ہمیشہ کے لیے غائب ہو سکتے ہیں۔

    کچھ ممالک نے اعتراض اٹھایا کہ سخت قوانین سے مقامی لوگوں کی آمدنی متاثر ہوسکتی ہے، مگر ماحول دوست تنظیمیں بضد رہیں کہ فوری قدم نہ اٹھانے کی صورت میں نقصان ناقابلِ تلافی ہوگا۔ پاکستان نے پائیدار تجارت کے حق میں ووٹ دیا اور آخرکار دو تہائی اکثریت سے فیصلہ منظور ہوا۔

    یہ عالمی فیصلہ جون 2027 سے نافذالعمل ہوگا۔ اس دوران ہر ملک کو اپنے نظام بہتر بنانا ہوں گے۔ پاکستان اور انڈیا، جہاں یہ پودا فطری طور پر زیادہ پایا جاتا ہے،کو ثابت کرنا ہوگا کہ جو بھی رال یا اس کی مصنوعات برآمد کی جائیں وہ قانونی، رجسٹرڈ ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں۔

    اس عمل کو نان ڈیٹرمنٹ فائنڈنگ کہا جاتا ہے، جو برآمدات کو ماحول دوست بنانے کی شرط ہے۔ دوسری جانب درآمد کرنے والے ممالک کو بھی یہ تصدیق کرنا ہوگی کہ وہ پائیدار ذرائع سے حاصل شدہ مال خرید رہے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے گگرال کی باقاعدہ کاشت کے دروازے کھلیں گے۔ نرسریوں اور فارموں میں اس کی افزائش بڑھائی جا سکتی ہے، جس سے جنگلی آبادی پر دباؤ کم ہوگا۔ ساتھ ہی وہ مقامی خاندان جو روایتی طریقوں سے اس پر انحصار کرتے تھے، اب تربیت یافتہ انداز میں بہتر معاشی مواقع حاصل کر سکیں گے۔

    اب دنیا کی نظریں سمرقند کے روشن ہالوں سے ہٹ کر سندھ کے ان خشک میدانوں پر ہیں جہاں گگرال اگتا ہے۔ وہاں کے لوگ ہر روز موسم کی شدت اور پانی کی کمی سے لڑتے رہتے ہیں۔ صدیوں سے شفا دینے والا یہ پودا اب انسانوں کی حفاظت کا محتاج ہے۔

    اگر عالمی قوانین پر سختی سے عمل ہوا تو امکان ہے کہ آنے والی نسلیں بھی گگرال کی خوشبو سے بھری دھونی اور اس کی شفا بخش رال سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اگر غفلت برتی گئی تو یہ پودا شاید صرف کتابوں اور تحقیقی رپورٹس میں رہ جائے گا۔

    سمرقند کی کانفرنس تو ختم ہو گئی، مگر گگرال کی بقا کی اصل جنگ اب شروع ہوئی ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے، جس کے نتائج نہ صرف ماحول بلکہ روایتی طب اور مقامی معیشتوں کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔