Tag: گِزری فٹبال اسٹیڈیم

  • گِزری فٹبال اسٹیڈیم: ایک میدان، 17 کروڑ روپے کی تعمیر نو اور کراچی کے نوجوانوں کے خواب

    گِزری فٹبال اسٹیڈیم: ایک میدان، 17 کروڑ روپے کی تعمیر نو اور کراچی کے نوجوانوں کے خواب

    کراچی میں فٹبال کا نام آتے ہی سب سے پہلے لیاری کا خیال آتا ہے، لیکن کراچی کی فٹبال کہانی صرف لیاری تک محدود نہیں۔ شہر کے ایک اور اہم علاقے گِزری میں بھی ایک ایسا میدان موجود ہے جو اب محض مقامی کھیل کا میدان نہیں رہا بلکہ شہری ترقی، عوامی جگہوں اور نوجوانوں کے لیے کھیلوں کی سہولیات کی ایک بڑی کہانی بن چکا ہے۔

    یہ ہے گِزری فٹبال اسٹیڈیم۔

    گِزری کے علاقے میں موجود اس میدان کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی جب اسے کراچی نیبرہُڈ امپروومنٹ پروجیکٹ کے تحت ازسرنو تعمیر اور جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ منصوبہ سندھ حکومت نے عالمی بینک کی معاونت سے شروع کیا تھا، جس کا بنیادی مقصد کراچی کے منتخب علاقوں میں عوامی جگہوں، شہری سہولیات، سڑکوں اور کھیل کے میدانوں کو بہتر بنانا تھا۔

    عالمی بینک کی دستاویزات میں گِزری فٹبال گراؤنڈ کی بہتری کو اس منصوبے کے دوسرے مرحلے کے ذیلی منصوبوں میں شامل کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کے ذریعے صرف میدان کی مرمت نہیں کی گئی بلکہ اسے ایک بہتر عوامی اور کھیلوں کی سہولت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔

    منصوبے میں فٹبال گراؤنڈ کی بحالی، تماشائیوں کے لیے نشستیں، موجودہ پویلین کی تزئین و بحالی، لینڈ اسکیپنگ اور شہریوں کے بیٹھنے کے لیے جگہوں کو بہتر بنانا شامل تھا۔ منصوبے کی دستاویزات میں مصنوعی گھاس والے فٹبال گراؤنڈ کی تعمیر بھی شامل تھی۔

    جنوری 2022 میں گِزری فٹبال اسٹیڈیم کی تعمیر نو کے کام کا افتتاح کیا گیا۔ اس وقت منصوبے کی لاگت تقریباً 17 کروڑ روپے بتائی گئی تھی۔ تعمیر نو کے بعد اس میدان سے علاقے کے نوجوانوں کو بہتر کھیلوں کی سہولت فراہم کرنے کا مقصد بھی ظاہر کیا گیا تھا۔

    اگست 2023 میں کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے گِزری فٹبال اسٹیڈیم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر بھی منصوبے کی لاگت 17 کروڑ روپے بتائی گئی۔

    گِزری اسٹیڈیم کی کہانی صرف تعمیر نو اور لاگت تک محدود نہیں۔ اس منصوبے کی اصل اہمیت اس بات میں ہے کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں کھیلوں کے لیے عوامی جگہوں کو کس طرح شہری ترقی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

    کراچی میں فٹبال صرف کھیل نہیں بلکہ کئی علاقوں کے نوجوانوں کے لیے شناخت، مقابلے، دوستی اور مستقبل بنانے کا ذریعہ بھی ہے۔ ایک معیاری فٹبال میدان کسی بھی شہر میں ٹیلنٹ کی پہلی نرسری بن سکتا ہے۔

    یہ وہ جگہ ہوتی ہے جہاں ایک بچہ پہلی بار گیند کو کک لگاتا ہے، نوجوان پہلی بار کسی کوچ کی نظر میں آتا ہے، مقامی ٹیمیں مقابلہ کرتی ہیں اور کھلاڑی بڑے مقابلوں تک پہنچنے کا خواب دیکھتے ہیں۔

    گِزری فٹبال اسٹیڈیم اب مسابقتی فٹبال کے لیے بھی استعمال ہو رہا ہے۔ 2025 میں یہاں مختلف مسابقتی میچز کھیلے گئے، جن میں کراچی یونائیٹڈ کے میچز بھی شامل تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعمیر نو کے بعد یہ میدان صرف افتتاحی تقریب تک محدود نہیں رہا بلکہ عملی طور پر فٹبال سرگرمیوں کا حصہ بن چکا ہے۔

    گِزری کی ایک اور خاص بات اس کا محل وقوع ہے۔ یہ کراچی کے ایسے علاقے میں واقع ہے جہاں مختلف سماجی اور معاشی پس منظر رکھنے والی آبادیاں ایک دوسرے کے قریب موجود ہیں۔ ایسے ماحول میں کھیل کا میدان صرف فٹبال کھیلنے کی جگہ نہیں رہتا بلکہ مختلف علاقوں اور طبقوں کے نوجوانوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

    ایک ہی میدان میں مختلف علاقوں کے نوجوان ایک ہی گیند کے پیچھے دوڑتے ہیں، اور یہاں کھلاڑی کی شناخت اس کے علاقے یا معاشی حیثیت سے زیادہ اس کی صلاحیت بن سکتی ہے۔ یہی عوامی کھیل کے میدان کی اصل طاقت ہے۔

    تاہم گِزری کی کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ اسٹیڈیم بن جانا پہلا مرحلہ ہے، اسے مسلسل آباد رکھنا اصل امتحان ہے۔

    اگر یہاں نوجوانوں کے تربیتی پروگرام، مقامی لیگیں، اسکولوں کے مقابلے اور باقاعدہ کوچنگ جاری رہیں، مقامی کلبوں کو مناسب مواقع ملیں اور میدان کی مسلسل دیکھ بھال ہوتی رہے تو گِزری کراچی کے اہم گراس روٹ فٹبال مراکز میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

    یہاں ایک اہم احتیاط بھی ضروری ہے۔ دستیاب سرکاری اور عالمی بینک کی دستاویزات میں گِزری فٹبال اسٹیڈیم کی تماشائی گنجائش کا کوئی واضح اور مستند عدد سامنے نہیں آتا۔ اس لیے اسٹیڈیم میں کتنے ہزار افراد کے بیٹھنے کی صلاحیت ہے، اس بارے میں غیر مصدقہ دعویٰ کرنا درست نہیں ہوگا۔

    البتہ منصوبے کی دستاویزات سے یہ واضح ہے کہ تماشائیوں کے بیٹھنے کی سہولت اور موجودہ پویلین کی بہتری منصوبے کا حصہ تھی۔

    کراچی کو صرف بڑے اسٹیڈیمز کی ضرورت نہیں۔ اس شہر کو ایسے درجنوں میدانوں کی ضرورت ہے جہاں بچے روز کھیل سکیں، نوجوان تربیت حاصل کر سکیں، کوچز ٹیلنٹ تلاش کر سکیں اور مقامی کلب مضبوط ہو سکیں۔

    فٹبال کا مستقبل صرف بڑے مقابلوں میں نہیں بنتا۔ وہ محلے کے میدان میں بنتا ہے۔

    وہاں جہاں ایک بچہ پہلی بار جوتے پہن کر میدان میں اترتا ہے، جہاں ایک کوچ اسے بتاتا ہے کہ اس میں صلاحیت ہے، اور جہاں ایک عام سا گراؤنڈ کسی نوجوان کے بڑے خواب کا پہلا قدم بن جاتا ہے۔

    گِزری فٹبال اسٹیڈیم بھی ایسا ہی ایک موقع ہے۔ 17 کروڑ روپے کی یہ سہولت تب ہی حقیقی کامیابی بنے گی جب اس میں مسلسل کھیل ہوگا، نوجوان یہاں تربیت حاصل کریں گے، مقامی کلب مضبوط ہوں گے اور یہاں سے نئے کھلاڑی آگے بڑھیں گے۔

    شہر کی ترقی صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے نہیں ہوتی۔ ایک شہر اس وقت بھی ترقی کرتا ہے جب وہ اپنے بچوں اور نوجوانوں کے لیے کھیلنے، سیکھنے اور آگے بڑھنے کی جگہ پیدا کرتا ہے۔