Tag: گولی

  • کراچی میں کئی اموات کا سبب بننے والی اندھی گولی کیا ہے؟

    کراچی میں کئی اموات کا سبب بننے والی اندھی گولی کیا ہے؟

    آپ نے خبروں میں بارہا سنا ہوگا کہ کراچی کے کسی علاقے میں ‘اندھی گولی’ لگنے سے کوئی شخص جان کی بازی ہار گیا۔ یہ اصطلاح عام ہو چکی ہے، مگر اس کے پیچھے چھپی حقیقت اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ محض ہوا میں چلائی گئی گولی ہے جو بے ضرر ہوتی ہے، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اندھی گولی دراصل وہ ہوتی ہے جس کا کوئی مخصوص نشانہ نہیں ہوتا، مگر وہ کسی بھی انسان کو نشانہ بنا سکتی ہے۔

    کراچی جیسے بڑے شہر میں ہوائی فائرنگ ایک خطرناک روایت بن چکی ہے۔ عید ہو، شادی کی تقریب، نیو ایئر نائٹ یا کسی تنازع کا لمحہ، فضا میں گولی چلانا بعض لوگوں کے لیے اظہارِ خوشی یا طاقت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ مگر سائنسی حقیقت یہ ہے کہ ہر گولی جو اوپر چلائی جاتی ہے، وہ زمین پر واپس آتی ہے، اور یہی واپسی جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔

    جب گولی سیدھی اوپر فائر کی جاتی ہے تو وہ ابتدائی رفتار کے ساتھ آسمان کی طرف جاتی ہے۔ ایک مقام پر جا کر اس کی رفتار صفر ہو جاتی ہے، لیکن یہ ٹھہراؤ صرف ایک لمحے کے لیے ہوتا ہے۔ اس کے بعد کششِ ثقل اسے دوبارہ زمین کی طرف کھینچتی ہے۔ نیچے آتے وقت گولی ایک خاص رفتار تک پہنچتی ہے جسے ٹرمینل ویلاسٹی کہا جاتا ہے، اور یہی رفتار اسے خطرناک بنا دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ رفتار اتنی ہو سکتی ہے کہ انسانی جسم کو شدید نقصان پہنچا سکے، خاص طور پر اگر گولی سر یا کندھے پر لگے۔

    مزید خطرناک صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب گولی سیدھی اوپر نہیں بلکہ زاویے سے فائر کی جائے۔ ایسی صورت میں گولی اپنی رفتار کا بڑا حصہ برقرار رکھتی ہے اور زیادہ فاصلے تک سفر کرتے ہوئے مزید مہلک ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہری علاقوں میں اس طرح کی فائرنگ غیر متوقع مقامات پر جانی نقصان کا سبب بنتی ہے۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ دنیا کے مختلف ممالک میں اس عمل پر سخت پابندیاں اسی لیے عائد کی گئی ہیں۔ پاکستان میں بھی قانون موجود ہے، مگر اس پر عملدرآمد اکثر کمزور رہتا ہے۔ کراچی میں ہر سال عید یا نئے سال کے موقع پر متعدد افراد زخمی یا ہلاک ہوتے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہوتے ہیں۔

    یہ حقیقت ہمیں ایک سادہ مگر اہم سبق دیتی ہے۔ گولی اندھی نہیں ہوتی، بلکہ ہماری لاپرواہی اسے اندھا بناتی ہے۔ ایک لمحے کی خوشی، ایک فائر، کسی کے لیے زندگی بھر کا نقصان بن سکتا ہے۔ شہر صرف عمارتوں اور روشنیوں کا نام نہیں ہوتا، بلکہ اس میں بسنے والی ہر جان کی قدر ہوتی ہے۔

    کراچی صرف روشنیوں کا شہر نہیں، یہ لوگوں کا شہر ہے۔ اور ہر جان قیمتی ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل
    جہاں کہانیاں صرف بتائی نہیں جاتیں، محسوس بھی کی جاتی ہیں