Tag: گندم

  • دنیا میں غذائی اجناس کی قیمتیں 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر، پاکستان بھی گندم کے بحران سے دوچار

    دنیا میں غذائی اجناس کی قیمتیں 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر، پاکستان بھی گندم کے بحران سے دوچار

    دنیا بھر میں غذائی اشیا کی قیمتیں اگست 2026 میں نومبر 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جس کے باعث عالمی سطح پر خوراک کی فراہمی اور قیمتوں کے حوالے سے نئے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کے مطابق خراب موسم، جنگوں اور تجارتی راستوں میں رکاوٹوں نے عالمی غذائی منڈی پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایف اے او کا فوڈ پرائس انڈیکس اگست میں 133.3 پوائنٹس تک پہنچ گیا، جو جولائی کے نظرثانی شدہ 130.8 پوائنٹس کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ یہ نومبر 2022 کے بعد اس انڈیکس کی بلند ترین سطح ہے۔ تاہم، یہ مارچ 2022 کی ریکارڈ سطح سے اب بھی تقریباً 17 فیصد کم ہے۔

    ایف اے او کے مطابق اگست میں خوراک کی تمام بڑی اقسام، جن میں اناج، خوردنی تیل، چینی، گوشت اور دودھ کی مصنوعات شامل ہیں، کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ خاص طور پر اناج کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا اور عالمی اناج قیمتوں کا انڈیکس ماہانہ بنیاد پر 2.2 فیصد بڑھ کر مئی 2024 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

    عالمی غذائی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ انتہائی خراب موسمی حالات ہیں۔ یورپ میں شدید گرمی اور خشک سالی نے مکئی، چینی اور دیگر فصلوں کی پیداوار کے امکانات کو متاثر کیا ہے۔ اسی طرح ممکنہ طور پر شدید ایل نینو موسمی صورتحال نے ایشیا میں پام آئل اور چینی کی پیداوار کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں۔

    رائٹرز کے مطابق یوکرین اور ایران کی جنگوں اور بحیرہ اسود کے علاقے میں تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹوں نے بھی زرعی اجناس کی عالمی ترسیل کو متاثر کیا ہے۔

    روس اور یوکرین دنیا کے اہم اناج برآمد کنندگان میں شامل ہیں، اس لیے بحیرہ اسود میں کشیدگی اور حملوں کے باعث اناج کی ترسیل میں مشکلات نے عالمی منڈی میں سپلائی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

    ایف اے او کے چیف اکانومسٹ میکسیمو ٹوریرو کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور تجارت و ترسیل کے نظام میں رکاوٹیں ایک ہی وقت میں عالمی غذائی منڈی پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ ان عوامل کے باعث مستقبل میں خوراک کی دستیابی اور قیمتوں کے بارے میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔

    ایف اے او نے 2026 کے عالمی اناج کی پیداوار کے اندازے میں بھی معمولی کمی کی ہے۔ ادارے نے عالمی اناج پیداوار کا تخمینہ 3.4 ملین ٹن کم کرکے 2.980 ارب ٹن کردیا ہے، جو 2025 کے مقابلے میں تقریباً 2 فیصد کم ہے۔

    یہ 2018 کے بعد عالمی اناج پیداوار میں سب سے بڑی سالانہ کمی قرار دی گئی ہے۔ تاہم، متوقع پیداوار اب بھی تاریخ کی دوسری بلند ترین سطح ہوگی۔

    پاکستان پر ممکنہ اثرات

    عالمی غذائی قیمتوں میں یہ اضافہ پاکستان کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ ملک پہلے ہی گندم اور آٹے کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا سامنا کر رہا ہے۔ ایف اے او کے مطابق پاکستان میں جون 2026 کے دوران گندم کے آٹے کی قیمتیں ماہانہ بنیاد پر بڑھتی رہیں اور گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں مختلف مارکیٹوں میں 50 سے 75 فیصد زیادہ تھیں۔

    ایف اے او کے مطابق پاکستان میں گندم کی قیمتوں میں اضافے کی اہم وجوہات میں پیداوار کی لاگت میں اضافہ، محدود ذخائر، بعض بارانی علاقوں میں کم پیداوار اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ شامل ہیں۔

    ایندھن کی بلند قیمتوں نے بھی گندم کو اضافی پیداوار والے علاقوں سے قلت والے علاقوں تک پہنچانے کے عمل کو متاثر کیا، جس سے مقامی منڈیوں میں رسد مزید محدود ہوئی۔

    اس سے قبل ایف اے او نے فروری 2026 کی اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ پاکستان میں جنوری 2026 تک گندم کے آٹے کی قیمتیں کئی علاقوں میں جولائی 2025 کے مقابلے میں 50 سے 90 فیصد تک بڑھ چکی تھیں اور بعض مارکیٹوں میں یہ قیمتیں تقریباً ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی تھیں۔

    رپورٹ کے مطابق 2025 میں گندم کی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 8 فیصد کم رہی، جبکہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بھی ذخائر اور مارکیٹ سپلائی متاثر ہوئی۔

    پاکستان میں گندم کی صورتحال اس قدر سنگین ہوئی کہ جولائی 2026 میں وفاقی حکومت نے تقریباً 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے پر غور کیا۔ ڈان اخبار کے مطابق ملک کے موجودہ سرکاری ذخائر مقامی طلب پوری کرنے کے لیے ناکافی ہوگئے تھے اور صوبوں کی مجموعی ضرورت پاسکو کے دستیاب ہنگامی ذخائر سے بڑھ گئی تھی۔

    بعد ازاں اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ایک ملین ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دی۔ اس وقت گندم کی قیمت ایک ہفتے کے دوران تقریباً 125 روپے فی کلو سے بڑھ کر 150 روپے فی کلو سے تجاوز کر گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق صوبوں نے مجموعی طور پر تقریباً 2.2 ملین ٹن گندم کی ضرورت ظاہر کی تھی۔

    حکومت نے مارچ 2026 میں بھی نجی شعبے کے ذریعے ایک ملین ٹن تک گندم کی خریداری کی منظوری دی تھی تاکہ ملک میں اسٹریٹجک ذخائر برقرار رکھے جاسکیں۔ حکومت کے مطابق اس کا مقصد مارکیٹ میں استحکام، کسانوں کی حوصلہ افزائی اور مستقبل میں رسد کے ممکنہ مسائل سے نمٹنا تھا۔

    عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں موجودہ اضافے سے پاکستان کے لیے یہ خطرہ مزید اہم ہوجاتا ہے کہ اگر عالمی گندم کی رسد متاثر ہوتی ہے تو درآمدی گندم مہنگی ہوسکتی ہے۔ پاکستان میں پہلے ہی گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے نے عام صارفین، خصوصاً کم آمدنی والے طبقے پر دباؤ بڑھایا ہے۔

    ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ گندم کے مناسب اسٹریٹجک ذخائر برقرار رکھے جائیں، مقامی پیداوار اور کسانوں کو بہتر قیمت اور سہولت فراہم کی جائے اور صوبوں کے درمیان گندم کی بروقت منتقلی یقینی بنائی جائے۔ عالمی منڈی میں قیمتوں کے حالیہ رجحان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ صرف مقامی پیداوار کافی نہیں، بلکہ ذخیرہ اندوزی، ترسیل، درآمدی پالیسی اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے بھی مؤثر منصوبہ بندی ضروری ہے۔

    پاکستان میں گندم کے موجودہ بحران کی ایک بڑی وجہ حکومت کی جانب سے گندم کی سپورٹ قیمت مقرر کرنے اور کسانوں سے سرکاری طور پر گندم خریدنے کے روایتی نظام کا خاتمہ ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حکومت نے زرعی اجناس کی قیمتوں میں براہ راست مداخلت کم کرنے کا فیصلہ کیا۔

    2025 کی گندم کی فصل کے لیے حکومت نے سپورٹ قیمت مقرر نہیں کی اور صوبائی حکومتوں نے بھی بڑے پیمانے پر گندم خریدنے سے گریز کیا۔ اس کے نتیجے میں کسانوں کو اپنی فصل فروخت کرنے کے لیے نجی خریداروں اور آڑھتیوں پر انحصار کرنا پڑا۔ کم قیمت ملنے سے کئی کسانوں کو نقصان ہوا، جبکہ دوسری طرف ذخائر اور مارکیٹ میں گندم کی دستیابی کے مسائل نے بعد میں قیمتوں میں اضافے کا خطرہ بڑھا دیا۔