سندھ کے ضلع خیرپور میں واقع گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز المعروف گمس میں قائم بون میرو ٹرانسپلانٹ مرکز پاکستان میں ایک اہم سرکاری طبی سہولت بن چکا ہے، جہاں پیچیدہ خون کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو جدید علاج مفت فراہم کیا جاتا ہے۔
گمبٹ میں بون میرو ٹرانسپلانٹ پروگرام کا باقاعدہ آغاز 2021 میں ہوا۔ اس مرکز کے قیام کے لیے پہلے سے موجود عمارت کو بون میرو ٹرانسپلانٹ یونٹ میں تبدیل کیا گیا۔ عمارت کی بالائی منزل پر ٹرانسپلانٹ رومز اور آپریشن تھیٹر قائم کیا گیا، جبکہ پہلی منزل پر ٹرانسپلانٹ سے پہلے اور بعد کی نگہداشت کے لیے کمرے موجود ہیں۔ گراؤنڈ فلور پر او پی ڈی اور ڈے کیئر کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔
یہاں بون میرو ٹرانسپلانٹ کے ساتھ ہیماٹولوجی اور امیونولوجی کی سہولیات بھی موجود ہیں، تاکہ مریض کی تشخیص، ٹرانسپلانٹ سے پہلے کی تیاری اور علاج کے بعد نگرانی ایک ہی طبی نظام کے تحت کی جا سکے۔
گمبٹ میں ایلو جینک ہیماٹوپوئیٹک اسٹیم سیل ٹرانسپلانٹ بھی کیا جاتا ہے، جس میں مناسب ڈونر سے حاصل کی گئی صحت مند خون بنانے والی اسٹیم سیلز مریض کو منتقل کی جاتی ہیں۔
یہ علاج صرف کینسر کے مریضوں تک محدود نہیں۔ تھیلیسیمیا میجر، اپلاسٹک اینیمیا، بعض موروثی بون میرو فیلئر بیماریوں اور دیگر پیچیدہ خون اور مدافعتی بیماریوں کے مریض بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
اس مرکز کی سب سے اہم خصوصیت مفت علاج ہے۔ نجی شعبے میں بون میرو ٹرانسپلانٹ کی لاگت لاکھوں روپے تک پہنچ سکتی ہے، لیکن گمبٹ میں مستحق مریضوں کو یہ علاج سرکاری نظام کے تحت بلا معاوضہ فراہم کیا جاتا ہے۔
اگست 2026 تک گمس میں 180 سے زیادہ مفت بون میرو ٹرانسپلانٹ کیے جا چکے تھے، جبکہ بعد کے طبی ریکارڈ میں اس مرکز میں سینکڑوں ٹرانسپلانٹس کا ذکر موجود ہے۔
یہاں بچوں کے بون میرو ٹرانسپلانٹ بھی کیے جاتے ہیں اور مرکز میں اس شعبے کے لیے طبی تربیت اور تحقیق کا کام بھی جاری ہے۔
گمبٹ کی اس سہولت کی خاص بات یہ ہے کہ بون میرو ٹرانسپلانٹ جیسا انتہائی پیچیدہ اور مہنگا علاج صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہا، بلکہ سندھ کے ایک سرکاری ادارے کے ذریعے مفت دستیاب ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب بون میرو ٹرانسپلانٹ عام خاندان کے لیے انتہائی مہنگا علاج ہو سکتا ہے، گمبٹ کا یہ مرکز خون کی پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے امید کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔ سندھ کے ضلع خیرپور میں واقع گمب…

