Tag: گمبٹ

  • چاروں صوبوں سے گمبٹ تک، علاج جہاں فاصلے نہیں دیکھتا

    چاروں صوبوں سے گمبٹ تک، علاج جہاں فاصلے نہیں دیکھتا

    پاکستان میں جدید اور مہنگے طبی علاج کا تصور عموماً کراچی، لاہور یا اسلام آباد جیسے بڑے شہروں سے جڑا ہوا ہے، لیکن سندھ کے ضلع خیرپور کا شہر گمبٹ اس تصور کو بدلتا دکھائی دیتا ہے۔

    یہ پیر عبدالقادر شاہ جیلانی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ہے، جسے عام طور پر گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کہا جاتا ہے۔ ایک چھوٹی سی ڈسپنسری سے شروع ہونے والا یہ ادارہ آج ٹرانسپلانٹ، دل، کینسر، گردوں اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کے علاج کے لیے ایک اہم طبی مرکز بن چکا ہے۔

    گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں علاج کے لیے صرف سندھ ہی نہیں، بلکہ ملک کے دوسرے صوبوں سے بھی مریض آتے ہیں۔ بلوچستان کے کوئٹہ سے اپنی بہن کے علاج کے لیے گمبٹ آنے والے فضل الرحمٰن بھی انہی افراد میں شامل ہیں۔

    فضل الرحمٰن کہتے ہیں کہ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ ان کی بہن کو یہاں نہ صرف بہتر طبی سہولیات مل رہی ہیں بلکہ طبی عملے نے ان کے ساتھ عزت اور احترام سے پیش آتے ہوئے بھرپور تعاون بھی کیا۔

    ان کے لیے گمبٹ صرف ایک ہسپتال نہیں، بلکہ ایسی جگہ بن گیا ہے جہاں صوبے کی سرحدیں علاج کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتیں۔

    یہی گمبٹ ماڈل کی ایک اہم طاقت ہے۔ ایک مریض سندھ سے آئے یا بلوچستان سے، پنجاب سے آئے یا خیبر پختونخوا سے، یہاں بنیادی سوال یہ نہیں کہ مریض کہاں کا رہنے والا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اسے علاج کی ضرورت کتنی ہے۔

    جب پیچیدہ اور مہنگا علاج کسی مستحق مریض کو مفت یا قابل رسائی انداز میں دستیاب ہو، تو اس کی اہمیت صرف ایک خاندان تک محدود نہیں رہتی، بلکہ پورا معاشرہ اس کے اثرات محسوس کرتا ہے۔

    گمبٹ کی کہانی یہ بھی بتاتی ہے کہ عالمی معیار کی طبی سہولتیں صرف بڑے شہروں تک محدود رکھنا ضروری نہیں۔ اگر ادارہ مضبوط ہو، ڈاکٹرز اور طبی عملہ قابل ہو اور ریاست علاج کو اپنی ذمہ داری سمجھے، تو ایک نسبتاً چھوٹا شہر بھی پورے ملک کے مریضوں کے لیے امید کا مرکز بن سکتا ہے۔

    کوئٹہ سے گمبٹ تک آنے والی اس بہن اور اس کے بھائی کی کہانی اسی امید کی ایک مثال ہے، جہاں علاج فاصلے نہیں دیکھتا، صوبائی سرحدوں سے آگے بڑھتا ہے اور انسان کو سب سے پہلے رکھا جاتا ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل ایسے ہی پاکستان کی کہانیاں آپ تک پہنچاتا ہے، جہاں فاصلے کم ہوتے ہیں، صوبائی سرحدیں مٹتی ہیں اور انسان سب سے پہلے آتا ہے۔