Tag: گلوبل ہنگر

  • گلوبل ہنگر انڈیکس 2024–25: پاکستان میں بھوک سنگین سطح پر برقرار

    گلوبل ہنگر انڈیکس 2024–25: پاکستان میں بھوک سنگین سطح پر برقرار

    گلوبل ہنگر انڈیکس 2024–25 نے پاکستان میں بھوک اور غذائی قلت کی تشویشناک صورتحال کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک اب بھی ‘سنگین بھوک’ کے زمرے میں شامل ہے، جہاں بڑی آبادی کو مناسب اور متوازن خوراک تک رسائی حاصل نہیں۔ غذائی قلت، بچوں میں غذائی کمزوری اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کی بلند شرحِ اموات نے پاکستان کے مجموعی اسکور کو مسلسل بلند رکھا ہوا ہے، جو ایک دیرینہ اور سنگین مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔

    تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا مجموعی گلوبل ہنگر انڈیکس اسکور 26.0 ریکارڈ کیا گیا ہے، جو عالمی معیار کے مطابق سنگین بھوک کے درجے میں آتا ہے۔ اس بنیاد پر پاکستان 127 ممالک میں سے 109 ویں نمبر پر ہے۔

    ماہرین کے مطابق یہ درجہ بندی ظاہر کرتی ہے کہ ملک میں بھوک محض عارضی مسئلہ نہیں بلکہ ایک مزمن بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے، جس کے اثرات صحت، تعلیم اور مجموعی قومی ترقی پر واضح طور پر پڑ رہے ہیں۔

    گلوبل ہنگر انڈیکس کی درجہ بندی چار بنیادی غذائی اور صحت سے متعلق عوامل پر کی جاتی ہے، جن میں غذائی قلت، بچوں میں قد کی کمی، بچوں میں دبلا پن اور بچوں کی شرحِ اموات شامل ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان کی تقریباً 20.7 فیصد آبادی روزانہ مطلوبہ کیلوریز حاصل کرنے سے قاصر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر پانچ میں سے ایک پاکستانی مناسب خوراک سے محروم ہے، جو غربت، مہنگائی اور خوراک کی عدم دستیابی جیسے مسائل کی عکاسی کرتا ہے۔

    رپورٹ میں بچوں کی غذائی صورتحال کو خاص طور پر تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں میں قد کی کمی کی شرح 33.2 فیصد ہے، جو طویل المدتی غذائی قلت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق قد کی کمی نہ صرف جسمانی نشوونما کو متاثر کرتی ہے بلکہ ذہنی صلاحیتوں اور تعلیمی کارکردگی پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے، جس کے نتائج مستقبل میں قومی پیداوار اور ترقی کی رفتار کو سست کر سکتے ہیں۔

    اسی طرح پانچ سال سے کم عمر بچوں میں دبلا پن کی شرح 10.1 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، جو شدید اور فوری غذائی کمی کی نشاندہی کرتی ہے۔ دبلا پن اس بات کا ثبوت ہے کہ بچوں کو فوری طور پر مناسب غذائیت اور طبی سہولیات کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ حالت بیماریوں کے خلاف مدافعتی نظام کو کمزور کر دیتی ہے اور اموات کے خطرے کو بڑھا دیتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق پانچ سال سے کم عمر بچوں میں اموات کی شرح 6.1 فیصد ہے، جس کی بڑی وجہ غذائی قلت اور اس سے جڑی بیماریوں کو قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بچے مناسب غذا سے محروم رہتے ہیں تو معمولی بیماریاں بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی واضح علامت ہیں کہ غذائی عدم تحفظ بچوں کی زندگیوں کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکا ہے۔

    اعداد و شمار کے مجموعی تجزیے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پاکستان میں ہر پانچ میں سے ایک فرد غذائی قلت کا شکار ہے، ہر تین میں سے ایک بچہ قد کی کمی کا سامنا کر رہا ہے اور ہر دس میں سے ایک بچہ شدید غذائی کمی میں مبتلا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں میں 6.1 فیصد اموات کا غذائی کمی سے تعلق ہونا اس بحران کی شدت کو مزید واضح کرتا ہے۔

    جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو پاکستان کی صورتحال مزید تشویشناک نظر آتی ہے۔ بنگلہ دیش کا اسکور 21.9 ہے جو درمیانی سطح پر آتا ہے، نیپال 19.2 کے ساتھ درمیانے درجے میں شامل ہے جبکہ سری لنکا 17.8 کے اسکور کے ساتھ کم بھوک کے زمرے میں ہے۔
    افغانستان کا اسکور 32.4 ہے جو انتہائی تشویشناک قرار دیا گیا ہے، تاہم پاکستان اپنے کئی ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں بدتر صورتحال کا شکار ہے، جو فوری توجہ اور عملی اقدامات کا تقاضا کرتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق گلوبل ہنگر انڈیکس کے نتائج واضح کرتے ہیں کہ پاکستان میں بھوک ایک سنگین قومی چیلنج بن چکی ہے۔ اگر غذائی قلت، بچوں میں کمزوری اور صحت کی سہولیات کی کمی جیسے مسائل پر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے منفی اثرات آنے والی نسلوں کی صحت، تعلیمی صلاحیت اور ملکی ترقی پر گہرے ہوں گے۔ رپورٹ میں حکومت، نجی شعبے اور سماجی تنظیموں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت غذائی تحفظ کو یقینی بنائیں تاکہ ملک کو اس سنگین بحران سے نکالا جا سکے۔