Tag: گریٹنا گرین

  • گریٹنا گرین: برطانیہ میں صدیوں پرانا ‘شادیوں کا دارالحکومت’ جہاں محبت قانون سے آگے نکل گئی

    گریٹنا گرین: برطانیہ میں صدیوں پرانا ‘شادیوں کا دارالحکومت’ جہاں محبت قانون سے آگے نکل گئی

    برطانیہ کے شمال میں، انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کی سرحد کے قریب واقع ایک چھوٹا سا گاؤں گریٹنا گرین صدیوں سے محبت، بغاوت اور فرار ہو کر کی جانے والی شادیوں کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ آج یہ دنیا کے معروف شادی مقامات میں شمار ہوتا ہے، لیکن اس کی شہرت کسی محل، چرچ یا شاہی روایت کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک لوہار کی دکان اور ایک سندان کی بدولت بنی۔

    گریٹنا گرین اسکاٹ لینڈ کے جنوبی حصے میں واقع ہے اور تاریخی طور پر یہ انگلینڈ سے اسکاٹ لینڈ داخل ہونے والا پہلا بڑا مقام تھا۔ اٹھارویں صدی میں جب نوجوان جوڑے انگلینڈ سے بھاگ کر شادی کرنے نکلتے تھے تو سرحد پار کرتے ہی سب سے پہلے اسی گاؤں پہنچتے تھے۔

    اس قصے کا آغاز 1754 میں ہوا جب انگلینڈ میں لارڈ ہارڈوک کا میرج ایکٹ نافذ ہوا۔ اس قانون کے تحت اکیس سال سے کم عمر افراد کو شادی کے لیے والدین کی اجازت درکار تھی اور شادی کے لیے کئی رسمی تقاضے بھی لازم قرار دیے گئے۔ تاہم یہ قانون اسکاٹ لینڈ پر لاگو نہیں ہوتا تھا، جہاں اس وقت نسبتاً آسان قوانین موجود تھے اور دو گواہوں کے سامنے شادی کا اعلان کافی سمجھا جا سکتا تھا۔ نتیجتاً ہزاروں نوجوان جوڑے انگلینڈ سے فرار ہو کر گریٹنا گرین پہنچنے لگے۔

    گریٹنا گرین کی سب سے مشہور جگہ ‘اولڈ بلیک اسمتھ شاپ’ یعنی پرانی لوہار کی دکان ہے۔ یہ دکان 1713 میں تعمیر ہوئی تھی اور بعد میں دنیا کی مشہور ترین شادی گاہوں میں تبدیل ہوگئی۔ یہاں آنے والے جوڑوں کی شادی اکثر ایک لوہار کرواتا تھا، جو پادری نہیں ہوتا تھا لیکن اسکاٹ لینڈ کے اُس وقت کے قوانین کے تحت تقریب منعقد کرا سکتا تھا۔

    یہ لوہار ‘اینول پریسٹ’ یعنی ‘سندان کے پادری’ کہلاتے تھے۔ شادی کی تقریب کے دوران جوڑا سندان کے سامنے کھڑا ہوتا، ایک دوسرے کا ہاتھ تھامتا اور گواہوں کے سامنے شادی کا اعلان کرتا۔ تقریب کے اختتام پر لوہار اپنے ہتھوڑے سے سندان پر ضرب لگاتا جسے شادی کی تکمیل اور عہد کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ یہی روایت آج بھی گریٹنا گرین کی شناخت ہے۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ ان لوہاروں میں بعض افراد انتہائی مشہور ہوگئے تھے۔ جوزف پیسلے ان اولین ‘اینول پریسٹ’ میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے 1754 کے بعد اس کاروبار کو فروغ دیا۔ بعد میں رچرڈ رینیسن سب سے معروف نام بنے، جنہیں گریٹنا گرین کا آخری ‘اینول پریسٹ’ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے 1926 سے 1940 کے درمیان 5,147 شادیاں کرائیں، جو ایک غیرمعمولی ریکارڈ سمجھا جاتا ہے۔

    اٹھارویں اور انیسویں صدی میں بھاگ کر شادی کرنے والے جوڑوں کے لیے سفر بھی ایک مہم سے کم نہیں تھا۔ کئی نوجوان گھوڑا گاڑیوں میں راتوں رات لندن یا شمالی انگلینڈ سے نکلتے، والدین یا سرپرست ان کا تعاقب کرتے اور جوڑا سرحد پار کر کے گریٹنا گرین پہنچنے کی کوشش کرتا۔ بعض امیر خاندانوں کی بیٹیاں بھی یہاں آ کر شادی کرتیں، جس پر خاندانی تنازعات جنم لیتے تھے۔

    ایک کم معروف حقیقت یہ ہے کہ 1856 میں اسکاٹ لینڈ نے قانون تبدیل کر کے شادی سے پہلے اکیس دن کی رہائش کی شرط عائد کردی، تاکہ صرف سرحد پار کر کے فوری شادیوں کا سلسلہ محدود کیا جا سکے۔ بعد ازاں 1940 میں نام نہاد غیر رسمی شادیوں کا نظام بھی ختم کر دیا گیا، جس کے بعد صرف مجاز مذہبی یا سول حکام ہی شادیاں کرا سکتے تھے۔

    اس کے باوجود گریٹنا گرین کی رومانوی شہرت ختم نہ ہوئی۔ آج بھی ہزاروں جوڑے یہاں شادی کرنے آتے ہیں اور تقریب کے دوران سندان پر ہاتھ رکھنا یا اس کے سامنے عہد کرنا روایت کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ پرانی لوہار کی دکان اب ایک میوزیم، شادی مقام اور سیاحتی مرکز کی حیثیت رکھتی ہے۔

    گریٹنا گرین میں ایک اور مقبول روایت ‘لاک وال’ یا محبت کے تالوں کی دیوار بھی ہے، جہاں جوڑے اپنی محبت کی یاد میں تالے لگاتے ہیں۔ اگرچہ یہ روایت نسبتاً جدید ہے، لیکن سیاحوں اور نوبیاہتا جوڑوں میں خاصی مقبول ہو چکی ہے۔

    آج گریٹنا گرین کو اکثر برطانیہ کا ‘شادیوں کا دارالحکومت’ کہا جاتا ہے، مگر اس کی اصل شناخت اب بھی وہی لوہار کی دکان، سندان پر پڑنے والی ہتھوڑے کی ضرب اور وہ نوجوان جوڑے ہیں جو کبھی محبت کی خاطر قانون اور سماجی رکاوٹوں سے آگے نکل جایا کرتے تھے۔ یہ ایک ایسا مقام ہے جہاں ایک چھوٹے سے سرحدی گاؤں نے برطانیہ کی سماجی تاریخ میں مستقل جگہ بنا لی۔