Tag: گانگوٹی فٹبال گراؤنڈ

  • سندھ کا تاریخی گانگوٹی فٹبال گراؤنڈ جدید سہولیات سے آراستہ، مصنوعی ٹرف اور فلڈ لائٹس نصب

    سندھ کا تاریخی گانگوٹی فٹبال گراؤنڈ جدید سہولیات سے آراستہ، مصنوعی ٹرف اور فلڈ لائٹس نصب

    روہڑی میں واقع تاریخی گانگوٹی فٹبال گراؤنڈ کی تزئین و آرائش کا کام مکمل کر لیا گیا ہے، جہاں جدید مصنوعی فٹبال ٹرف، فلڈ لائٹس، نیا پویلین اور تماشائیوں کے لیے نئی گیلری تعمیر کر دی گئی ہے۔

    سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد اس تاریخی کھیل کے میدان کو جدید سہولیات سے آراستہ کرتے ہوئے فٹبال کی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔

    حکومتی منصوبے کے تحت گراؤنڈ میں مصنوعی فٹبال ٹرف بچھایا گیا ہے، جبکہ فلڈ لائٹس کی تنصیب بھی مکمل ہو چکی ہے، جس کے بعد رات کے وقت بھی فٹبال میچز اور دیگر کھیلوں کی سرگرمیاں منعقد کی جا سکیں گی۔ منصوبے میں نیا پویلین اور تماشائیوں کے لیے نئی گیلری بھی تعمیر کی گئی ہے۔

    گانگوٹی فٹبال گراؤنڈ کو سندھ کی کھیلوں کی تاریخ کا اہم ورثہ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ میدان ایک زمانے میں نہ صرف شمالی سندھ بلکہ پورے خطے میں فٹبال کا نمایاں مرکز رہا، جہاں ہزاروں شائقین اہم مقابلے دیکھنے کے لیے جمع ہوتے تھے۔

    تاریخی ریکارڈ کے مطابق گانگوٹی گراؤنڈ روہڑی کے قدیم ترین کھیل کے میدانوں میں شمار ہوتا ہے۔ انیسویں صدی کے آخر میں یہ علاقہ نشیبی اور جھاڑیوں پر مشتمل تھا، جسے بعد ازاں روہڑی میونسپل کمیٹی نے عوامی کھیلوں کے میدان میں تبدیل کیا۔

    سن 1843 میں سندھ پر برطانوی قبضے اور 1878 میں روہڑی تک ریلوے لائن پہنچنے کے بعد برطانوی ریلوے افسران اور ملازمین نے یہاں فٹبال کھیلنا شروع کیا۔ مقامی نوجوان بھی اس کھیل سے وابستہ ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے روہڑی شمالی سندھ میں فٹبال کا ایک اہم مرکز بن گیا۔

    اسی میدان میں بیسویں صدی کے آغاز میں ‘کان کپ’ فٹبال ٹورنامنٹ کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ ٹورنامنٹ روہڑی کے معروف معالج ڈاکٹر ہری چندرائے کیسوانی نے اپنے کم عمر بیٹے ‘کان’ کی یاد میں شروع کیا تھا۔ انہوں نے ایک بڑی چاندی کی ٹرافی تیار کروائی اور تقریباً 1925 سے ہر سال 23 دسمبر کو سات روزہ ٹورنامنٹ منعقد کیا جانے لگا۔

    کان کپ اپنے دور کے نمایاں فٹبال مقابلوں میں شمار ہوتا تھا، جس میں افغانستان، بہاولپور، کوئٹہ، کراچی، جیکب آباد، خان پور، رحیم یار خان، شکارپور، سکھر اور روہڑی سمیت مختلف علاقوں کی ٹیمیں حصہ لیتی تھیں۔

    تاریخی ریکارڈ کے مطابق بعض میچوں میں دس ہزار سے زائد شائقین گانگوٹی گراؤنڈ پہنچتے تھے۔ مقابلوں کے دوران عارضی بازار اور کھانے پینے کے اسٹال بھی لگائے جاتے تھے، جبکہ ضلع سکھر کے فاتح اسکولوں کی ٹیموں کو بھی ٹورنامنٹ میں شرکت کا موقع دیا جاتا تھا، جس سے نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہوتی تھی۔

    دستاویزی شواہد کے مطابق 1936 کے بعد کان کپ اپنے اصل نام سے منعقد نہیں ہوا، تاہم گانگوٹی گراؤنڈ میں فٹبال کی سرگرمیاں جاری رہیں۔ 1972 کے ایک ٹورنامنٹ کی افتتاحی تقریب اور 1974 کے فائنل کی تاریخی تصاویر بھی دستیاب ہیں، جو اس میدان کی مسلسل کھیلوں کی سرگرمیوں کی عکاسی کرتی ہیں۔

    تاریخی حوالوں کے مطابق گانگوٹی گراؤنڈ کی زمین ابتدا میں کوٹائی سادات کی ملکیت تھی، جسے بعد ازاں برطانوی دور میں عوامی کھیلوں کے لیے روہڑی میونسپلٹی کے حوالے کر دیا گیا اور یہ شہر کا مرکزی کھیلوں کا میدان بن گیا۔

    حکومت سندھ کی جانب سے گانگوٹی فٹبال گراؤنڈ کی بحالی اور جدید سہولیات کی فراہمی کے لیے مختلف ترقیاتی منصوبے مکمل کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق منصوبوں کا معائنہ سندھ حکومت کے مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن سیل نے بھی کیا، جس نے کام کو اطمینان بخش قرار دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ جدید سہولیات کی فراہمی سے روہڑی اور شمالی سندھ میں فٹبال کے فروغ اور نوجوان کھلاڑیوں کو بہتر مواقع فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔