امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی پریس سیکریٹری کیٹی زکریا کو عہدہ سنبھالنے کے صرف پانچ دن بعد وائٹ ہاؤس سے فارغ کر دیا گیا۔
ان کی پہلی پریس بریفنگ صرف 14 منٹ جاری رہی، جس کے دوران وہ تین صحافیوں کے سوالات کے جواب دے سکیں۔ ان کی کارکردگی، قانونی اسناد اور تقرری کے طریقۂ کار پر بھی سوالات اٹھنے لگے تھے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق، کیٹی زکریا کی مختصر مدت میں برطرفی امریکی انتظامیہ کے لیے ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ ان کی تقرری ایسے وقت میں ہوئی تھی جب ٹرمپ انتظامیہ کو اپنی پالیسیوں اور اقدامات پر ذرائع ابلاغ کی تنقید کا سامنا تھا۔
کیٹی زکریا کو سابق پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ کی جگہ مقرر کیا گیا تھا۔ وہ اس سے پہلے سیاسی تجزیہ کار کے طور پر کام کرتی رہی تھیں۔ صدر ٹرمپ کو توقع تھی کہ وہ انتظامیہ کے اقدامات اور کامیابیوں کو زیادہ مؤثر انداز میں عوام کے سامنے پیش کریں گی۔
تاہم، ان کی پہلی پریس بریفنگ ہی مشکلات کا سبب بن گئی۔ منگل کو ہونے والی اس بریفنگ میں انہوں نے زیادہ وقت پہلے سے تیار کردہ تحریر پڑھنے میں گزارا۔ اس دوران وہ کئی مرتبہ اپنے نکات بیان کرتے ہوئے الجھتی دکھائی دیں۔ ان کے انداز گفتگو اور سوالات کے جواب دینے کی صلاحیت پر بھی تنقید کی گئی۔
بریفنگ کے دوران ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ وہ وائٹ ہاؤس جیسے مصروف ادارے میں ذمہ داریاں ادا کرنے کے ساتھ اپنے چار بچوں کے لیے وقت کیسے نکالیں گی۔ جواب دیتے ہوئے کیٹی زکریا اپنے شوہر کا ذکر کرنے لگیں، لیکن گفتگو کے دوران غلطی سے انہیں صدر کہہ بیٹھیں۔ بعد میں انہوں نے اپنی غلطی درست کرنے کی کوشش کی۔
اس واقعے نے بریفنگ کو مزید توجہ کا مرکز بنا دیا۔ بعض مبصرین نے ان کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔ صحافیوں کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ نئی ترجمان نے صرف تین میڈیا اداروں کے نمائندوں کو سوالات کرنے کا موقع کیوں دیا اور وہ اتنی جلدی بریفنگ ختم کرکے کیوں چلی گئیں۔
کیٹی زکریا کی مشکلات صرف پہلی بریفنگ تک محدود نہیں رہیں۔ ان کی تعلیمی قابلیت اور وکالت کے تجربے کے بارے میں بھی سوالات اٹھنے لگے۔ صدر ٹرمپ نے ان کی تقرری کا اعلان کرتے ہوئے انہیں وکیل قرار دیا تھا، جبکہ زکریا بھی اپنے سابقہ کام کے حوالے سے قانونی شعبے میں تجربے کا ذکر کرتی رہی تھیں۔
تاہم، امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا کہ ایسا کوئی ریکارڈ سامنے نہیں آیا جس سے ثابت ہو کہ وہ امریکہ کی کسی ریاست یا وفاقی دارالحکومت واشنگٹن میں وکالت کا باقاعدہ لائسنس رکھتی تھیں۔
کیٹی زکریا نے وضاحت کی کہ انہوں نے بین الاقوامی تجارتی قانون کے شعبے میں متعلقہ اسناد کے ساتھ کام کیا ہے۔ ان کے پیشہ ورانہ پس منظر کے مطابق، وہ چین میں بھی ایک قانونی ادارے سے وابستہ رہی تھیں۔ تاہم، ان کی قانونی اہلیت کے حوالے سے پیدا ہونے والے سوالات نے ان کی تقرری کو مزید متنازع بنا دیا۔
امریکہ میں قانون کی ڈگری حاصل کرنا اور عدالتوں میں وکالت کا لائسنس رکھنا دو الگ چیزیں ہیں۔ عام طور پر وکالت کے لیے متعلقہ ریاست کے ضابطوں کے مطابق لائسنس ضروری ہوتا ہے۔ اسی لیے ان کے سابقہ عہدوں اور وکالت کے دعووں کی جانچ کا مطالبہ سامنے آیا۔
کیٹی زکریا کی برطرفی ایسے وقت میں ہوئی جب امریکہ میں وسط مدتی انتخابات قریب آ رہے ہیں۔ ان انتخابات میں صدر کی جماعت کی کارکردگی اور عوامی حمایت اہم سمجھی جاتی ہے۔ ایسے حالات میں وائٹ ہاؤس کے لیے ذرائع ابلاغ سے مؤثر رابطہ رکھنا مزید اہم ہو جاتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری کا عہدہ صرف پریس بریفنگ دینے تک محدود نہیں ہوتا۔ ترجمان کو صدر کی پالیسیوں کی وضاحت کرنے، صحافیوں کے سوالات کے جواب دینے اور انتظامیہ کا مؤقف عوام تک پہنچانے کی ذمہ داری بھی ادا کرنا ہوتی ہے۔
کیٹی زکریا کی برطرفی سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں اہم عہدوں پر کام کرنے والے افراد کو نہ صرف سیاسی اعتماد بلکہ عوامی سطح پر مؤثر رابطے اور پیشہ ورانہ اہلیت کے حوالے سے بھی سخت جانچ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

