Tag: کیمیکل

  • پاکستان کے بڑے شہروں میں دودھ میں کونسے کیمیکل اور کیوں ملائے جاتے ہیں اور ان کا انسانی صحت پر کیا اثرات ہوتے ہیں؟

    پاکستان کے بڑے شہروں میں دودھ میں کونسے کیمیکل اور کیوں ملائے جاتے ہیں اور ان کا انسانی صحت پر کیا اثرات ہوتے ہیں؟

    آپ نے اکثر خبروں میں دیکھا ہوگا کہ فوڈ اتھارٹیز مختلف شہروں میں دودھ کی دکانوں پر چھاپے مارتی ہیں۔ کیمیکلز کی ملاوٹ پر بھاری جرمانے عائد کیے جاتے ہیں، ٹینکروں کو سیل کیا جاتا ہے، اور تصاویر میں بہتا ہوا دودھ دکھایا جاتا ہے۔ چند دن شور مچتا ہے، پھر سب معمول پر آ جاتا ہے۔

    لیکن سوال باقی رہتا ہے، آخر دودھ میں کیا ملایا جا رہا ہے؟ کیوں ملایا جا رہا ہے؟ اور اس کا ہماری صحت پر کیا اثر پڑتا ہے؟

    پاکستان کے مختلف شہروں میں دودھ میں ملاوٹ کی کئی شکلیں سامنے آ چکی ہیں۔ سب سے عام ملاوٹ پانی ہے۔ مگر مسئلہ صرف پانی ملانے کا نہیں، بلکہ اکثر یہ پانی آلودہ یا غیر محفوظ ہوتا ہے۔ مقدار بڑھانے اور منافع میں اضافے کے لیے ملایا جانے والا یہ پانی جراثیم سے بھرا ہو سکتا ہے۔ ایسے دودھ کے استعمال سے اسہال، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس اے اور ای جیسی بیماریاں پھیل سکتی ہیں۔ بچے خاص طور پر زیادہ متاثر ہوتے ہیں، کیونکہ ان کا مدافعتی نظام ابھی مکمل طور پر مضبوط نہیں ہوتا۔

    پانی ملانے کے بعد دودھ کی اصلیت برقرار رکھنے کے لیے بعض اوقات ڈیٹرجنٹ یا صابن پاؤڈر شامل کیا جاتا ہے تاکہ جھاگ اور گاڑھا پن پیدا ہو۔ کراچی میں یہ طریقہ نسبتاً زیادہ رپورٹ ہوا ہے۔ صابن اور ڈیٹرجنٹ کا کیمیائی اثر معدے میں جلن، الٹی، السر اور آنتوں کو طویل مدت تک نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    یوریا بھی ایک ایسا کیمیکل ہے جس کا نام بارہا خبروں میں آیا۔ اسے دودھ کو زیادہ سفید اور بظاہر پروٹین سے بھرپور دکھانے کے لیے شامل کیا جاتا ہے۔ مگر یوریا کا انسانی جسم پر اثر خطرناک ہو سکتا ہے۔ گردوں کو نقصان، جگر پر دباؤ، اور بچوں و بزرگوں کے لیے اضافی خطرہ، یہ سب ممکنہ نتائج ہیں۔

    فارملین یا فارمل ڈیہائیڈ محلول ایک اور سنگین مسئلہ ہے۔ یہ وہ کیمیکل ہے جو عام طور پر لاشوں کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسے دودھ کو خراب ہونے سے بچانے اور اس کی شیلف لائف بڑھانے کے لیے ملایا جاتا ہے، حالانکہ یہ خوراک میں استعمال کے لیے ممنوع ہے۔ اس کے طویل استعمال سے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے اور نظامِ ہاضمہ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    ہائیڈروجن پر آکسائیڈ کا استعمال بھی رپورٹ ہوا ہے، جس کا مقصد خراب دودھ کو بظاہر تازہ دکھانا ہوتا ہے۔ مگر یہ کیمیکل اندرونی جلن، معدے میں خون بہنے اور آنتوں کے قدرتی بیکٹیریا کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    کاسٹک سوڈا، یا سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ، کھٹے دودھ کی تیزابیت کم کرنے اور فروخت کا وقت بڑھانے کے لیے ملایا جاتا ہے۔ یہ ایک تیز کیمیکل ہے جو گلے اور معدے میں کیمیائی جلنے کا سبب بن سکتا ہے۔ معمولی مقدار میں بھی اس کا استعمال خطرناک ہے۔

    بعض اوقات پانی ملے دودھ میں قدرتی چکنائی کا تاثر دینے کے لیے سبزیوں کا تیل، پام آئل یا جانوروں کی چکنائی شامل کی جاتی ہے۔ اس سے غذائیت کا توازن بگڑ جاتا ہے اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر جب چکنائی غیر معیاری ہو۔

    دودھ کو گاڑھا دکھانے کے لیے نشاستہ، چاول کا پاؤڈر یا آٹا بھی شامل کیا جاتا ہے۔ اس سے وقتی طور پر گاڑھا پن تو پیدا ہو جاتا ہے، مگر نظامِ ہاضمہ کے مسائل اور بچوں میں غذائی کمی جیسے اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔

    کراچی میں جسے عام طور پر ‘کیمیکل دودھ’ کہا جاتا ہے، وہ دراصل مختلف اجزا کا ایک مکسچر ہوتا ہے۔ پانی، ڈیٹرجنٹ، یوریا اور سبزیوں کی چکنائی ملا کر ایک ایسا مائع تیار کیا جاتا ہے جو بظاہر دودھ لگتا ہے، مگر حقیقت میں غذائی اعتبار سے خالی اور صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ اس کے طویل استعمال سے شدید غذائی کمی اور اندرونی اعضا کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    کراچی میں مسئلہ نسبتاً زیادہ کیوں رپورٹ ہوتا ہے؟

    اس کی کئی وجوہات ہیں۔ شہر میں روزانہ دودھ کی طلب بہت زیادہ ہے۔ دیہی سندھ اور پنجاب سے طویل فاصلے طے کر کے دودھ شہر تک پہنچتا ہے۔ کولڈ چین نظام کمزور ہے، جس سے دودھ کے خراب ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔ منظم ملاوٹ مافیا اور قیمتوں کا دباؤ بھی صورتحال کو پیچیدہ بناتے ہیں۔

    اہم حقیقت یہ ہے کہ دودھ میں ملاوٹ کسی ایک شہر تک محدود نہیں۔ یہ مسئلہ کراچی کے ساتھ ساتھ سندھ کے دیگر شہروں، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بھی رپورٹ ہوا ہے۔ کارروائیاں ضرور ہوتی ہیں، مگر مسئلہ نظامی نوعیت اختیار کر چکا ہے۔

    صارف کیا کر سکتا ہے؟ دودھ کو ابال کر استعمال کرنا بنیادی احتیاط ہے، مگر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ابالنے سے کیمیکل ختم نہیں ہوتے۔ اگر دودھ میں غیر معمولی جھاگ ہو، صابن جیسا یا کڑوا ذائقہ محسوس ہو، یا غیر فطری حد تک زیادہ سفیدی نظر آئے تو محتاط ہو جائیں۔ مشکوک دودھ کی اطلاع متعلقہ فوڈ اتھارٹی کو دی جا سکتی ہے۔ ممکن ہو تو مستند اور پیک شدہ دودھ استعمال کیا جائے۔

    دودھ صرف ایک مشروب نہیں، بلکہ بچوں کی نشوونما، بزرگوں کی صحت اور روزمرہ غذائیت کا بنیادی جزو ہے۔ جب اسی میں ملاوٹ ہو جائے تو مسئلہ صرف تجارت کا نہیں رہتا، یہ معاشرتی اور اخلاقی بحران بن جاتا ہے۔

    سوال یہ نہیں کہ چھاپے کب لگیں گے، سوال یہ ہے کہ نظام کب بدلے گا۔