Tag: کیماڑی

  • گوا سے کیماڑی تک: وہ لوگ جنہوں نے کراچی کی قوسِ قزح میں رنگ بھرا

    گوا سے کیماڑی تک: وہ لوگ جنہوں نے کراچی کی قوسِ قزح میں رنگ بھرا

    کسی بھی شہر کی روح اس کے کنکریٹ کے ڈھانچوں، بلند و بالا عمارتوں یا چوڑی سڑکوں میں نہیں، بلکہ ان انسانوں اور برادریوں کے دم قدم سے سانس لیتی ہے جو اپنے خون جگر سے اس کے کینوس پر تہذیب و تمدن کے رنگ بکھیرتے ہیں۔ آج کا کراچی، جو مسائل کے انبار اور کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہو چکا ہے، ماضی میں ایک ایسا کثیر الثقافتی اور کھلا شہر تھا جہاں دنیا بھر کے ہنر مند، مصلح اور امن پسند انسان کھنچے چلے آتے تھے۔

    انہی قدیم اور معزز برادریوں میں سے ایک ‘گوون کمیونٹی’ تھی، جس نے کراچی کو ایک پسماندہ ساحلی بستی سے اٹھا کر برصغیر کا سب سے صاف ستھرا، پڑھا لکھا اور متحرک جدید شہر بنانے میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کیا۔ یہ اس مہذب اور وضع دار برادری کی تاریخ، عروج اور پھر ہجرت کے اس المیے کی داستان ہے، جس کے تذکرے کے بغیر کراچی کی ادھوری تاریخ کا کوئی بھی ورق پلٹایا نہیں جا سکتا۔

    اس داستان کا آغاز انیسویں صدی کی پہلی ششماہی میں ہوتا ہے، جب لزبن، گوا اور کراچی کے مابین ایک غیر معمولی نوآبادیاتی تکون جنم لے رہی تھی۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ گوون برادری انگریزوں کی آمد کے بعد یہاں آباد ہوئی، لیکن تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ برطانوی قبضے (1839) سے قبل، یعنی کم و بیش چار سال پہلے 1835 ہی سے ہمیں کراچی میں گوون برادری کے ابتدائی نشانات ملتے ہیں، جب کچھ مہم جو اور تاجر بمبئی کے راستے اس تالپور دور کی ساحلی بستی میں قدم رکھ چکے تھے۔

    تاہم، 1850 کی دہائی کے دوران جب برطانوی راج نے سندھ کو فتح کر کے کراچی کو بمبئی پریزیڈنسی کے تحت ایک بین الاقوامی تجارتی اور فوجی مرکز بنانا شروع کیا، تو ان کی آمد میں باقاعدہ تیزی آئی۔

    انگریزوں کو ایک ایسی افرادی قوت کی ضرورت تھی جو انگریزی زبان سے واقف ہو، دفتری نظم و ضبط کو سمجھتی ہو اور وفادار ہو۔ دوسری طرف، پرتگالی نوآبادی گوا میں رومن کیتھولک عیسائیت قبول کرنے والی مقامی آبادی کے پاس مغربی رہن سہن اور انگریزی کی مہارت تو تھی، لیکن وہاں معاشی مواقع انتہائی محدود تھے۔

    چنانچہ گوا کے یہ ہنر مند عیسائی بحری جہازوں کے ذریعے کراچی آنا شروع ہوئے۔ انگریزوں کے لیے یہ برادری ایک بہترین انتخاب ثابت ہوئی اور وقت کے ساتھ ساتھ انہی لوگوں نے شہر کے دفتری، تعلیمی اور سماجی نظام کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیا۔ تقسیم ہند کے وقت 1947 میں کراچی میں ان کی تعداد پندرہ ہزار کے لگ بھگ تھی، جنہوں نے صدر، گارڈن اور پاکستان چوک جیسے مرکزی علاقوں کو اپنا مسکن بنایا۔

    گوون برادری کی سب سے بڑی خصوصیت ان کا تعلیمی نظام، صحت، موسیقی اور کھیلوں کے میدان میں غیر معمولی خدمات تھیں۔ ان کے ہاں شرح خواندگی سو فیصد تھی اور وہ تعلیم کو دنیا کی سب سے بڑی دولت سمجھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے قائم کردہ یا زیر انتظام چلنے والے مشنری اداروں نے قائد اعظم محمد علی جناح سمیت پاکستان کی کئی نسلوں کی کردار سازی کی۔

    سینٹ پیٹرکس ہائی اسکول اور کالج، جہاں کے پرنسپلز اور اساتذہ کی اکثریت گوون تھی، شہر میں علم کا سب سے بڑا گڑھ بن گیا۔ اسی طرح سینٹ جوزف کانوینٹ اسکول اور کالج، کانوینٹ آف جیزس اینڈ میری، سینٹ لارنس گرلز اسکول اور سینٹ پاؤلز انگلش ہائی اسکول جیسے اداروں نے نہ صرف علم بانٹا بلکہ ایک ایسا مہذب طبقہ پیدا کیا جس نے آگے چل کر ملک کے بینکوں، ریلوے اور سول سروسز میں اعلیٰ ترین انتظامی عہدے سنبھالے۔ ان اسکولوں میں گوون پادریوں اور راہباؤں، یعنی ننز، کے سخت مگر شفیق تعلیمی نظام نے شہر کے مخلوط ثقافتی ماحول کو ایک خاص جلا بخشی۔

    تعلیم کے ساتھ ساتھ گوون خواتین نے کراچی کے دفتری اور کاروباری ماحول میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ اس دور میں جب مقامی خاندانوں میں خواتین کا گھروں سے نکلنا معیوب سمجھا جاتا تھا، گوون برادری نے اپنی خواتین کو ملازمت کی مکمل آزادی اور حوصلہ افزائی دی۔ اپنی شاندار انگریزی، ٹائپنگ، شارٹ ہینڈ کی پیشہ ورانہ تربیت اور بین الاقوامی آداب کی بدولت یہ خواتین غیر ملکی سفارت خانوں، فضائی کمپنیوں، بینکوں اور بڑے کاروباری اداروں میں ایگزیکٹو سیکریٹری اور انتظامی معاون کے طور پر پہلی اور ناگزیر پسند بن گئیں۔

    ان کے دفتری رکھ رکھاؤ اور دیانت داری نے کراچی کے کاروباری ماحول کو ایک مغربی رنگ اور پیشہ ورانہ وقار عطا کیا۔

    کراچی میں اس دور کے طبی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو صحت اور طب کا شعبہ بھی اس برادری کے بغیر ادھورا نظر آتا ہے۔ 1948 میں سولجر بازار میں قائم ہونے والا ہولی فیملی ہسپتال کراچی کے معتبر ترین اداروں میں شمار ہوتا ہے، جسے چلانے اور مریضوں کی بے لوث دیکھ بھال میں گوون ڈاکٹروں اور نرسوں کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی مانند رہا۔

    ڈاکٹر میری بریگنزا اور ڈاکٹر ہیزل مسکیٹا جیسی نامور معالجین نے دہائیوں تک انسانیت کی خدمت کی۔ حکومت پاکستان سے 2002 میں قومی اعزاز پانے والے ڈاکٹر ہرمی نیگلڈ ڈراگو اور سینٹ لارنس چرچ کمپاؤنڈ میں غریبوں کا مفت علاج کرنے والی ڈاکٹر فلپا ڈراگو نے طب کو تجارت کے بجائے عبادت بنا دیا۔

    اس سے بھی بڑھ کر، گوون خواتین نے نرسنگ اور دائی گیری جیسے شعبوں کو اپنا کر انہیں ایک انتہائی معزز اور پیشہ ورانہ مقام دلایا، اور ہولی فیملی نرسنگ اسکول کے ذریعے ہزاروں مقامی خواتین کو اس مقدس پیشے کی جدید تربیت فراہم کی۔

    کراچی کو ‘روشنیوں کا شہر’ بنانے اور اس کی شاندار شبانہ زندگی، براہ راست موسیقی اور تفریحی کلبوں کی ثقافت کے اصل معمار بھی یہی گوون فنکار تھے۔ 1940 کی دہائی سے لے کر 1970 کی دہائی تک، صدر اور ایم اے جناح روڈ کے اطراف واقع میٹروپول ہوٹل، بیچ لگژری، پیلس ہوٹل اور تاج محل جیسے نائٹ کلبوں میں گوون بینڈز راج کرتے تھے۔ انہوں نے کراچی کے اشرافیہ اور عام شہریوں کو جاز، سوئنگ اور پاپ موسیقی سے متعارف کرایا۔

    ‘دی اِن کراوڈ’ جیسے مقبول جاز بینڈ کی قیادت کرنے والے نورمن ڈی سوزا، ‘دی ٹیلسمین’، ‘دی کینوٹس’ اور مایہ ناز سیکسوفون نواز ایلکس روڈریگز کی دھنیں سننے لوگ دور دور سے آتے تھے۔

    یہ فنکار صرف کلبوں تک محدود نہیں تھے بلکہ ماسٹر نیسٹر، فیلکس کارڈوزو اور کواڈروس برادرز جیسے موسیقاروں نے پاکستان ٹیلی وژن، ریڈیو پاکستان اور پاکستانی فلموں کی پس منظر موسیقی میں وائلن، پیانو اور ٹرمپٹ جیسے مغربی ساز شامل کر کے قومی موسیقی کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ بال روم رقص، والٹز اور مغربی طرز کے تھیٹر اور اوپیرا کی بنیاد رکھ کر انہوں نے شہر کو ایک ایسا کھلا، کثیر الثقافتی اور سیکولر ماحول دیا جہاں ہر نسل اور مذہب کا انسان سکون کا سانس لیتا تھا۔

    اگر ہم کراچی کی لائف لائن یعنی اس کی بندرگاہ کا ذکر کریں، تو برطانوی راج میں 1843 کے بعد کراچی پورٹ ٹرسٹ کا مادی ڈھانچہ تیار ہوا، تو اس ڈھانچے کو کامیابی سے چلانے کے پیچھے بھی گوون برادری کی ذہنی اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں کارفرما تھیں۔

    کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ہیڈ آفس کی تاریخی عمارت ہو یا کسٹمز ہاؤس، چیف کلرک، اکاؤنٹنٹس اور لاجسٹکس مینیجرز کے عہدوں پر گوون افسران اپنی دیانت داری اور برطانوی بیوروکریسی کو سمجھنے کی صلاحیت کی وجہ سے ناگزیر تھے۔ کیماڑی کی بستی، جو بندرگاہ کا دل ہے، وہاں گوون برادری کی ایک بڑی اور فعال آبادی مقیم تھی، جن کا اپنا سینٹ جیگوز چرچ اور سماجی کلب تھے۔ بحری انجینئرنگ سے لے کر بین الاقوامی مسافر بردار بحری جہازوں پر مغربی مسافروں کے لیے ضیافت اور مہمان نوازی کے امور تک، گوون برادری نے کراچی کو برصغیر کی اہم برآمدی بندرگاہ بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

    کھیلوں کے میدان میں بھی اس برادری نے پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کیا۔ جان پرمل، جو 1964 سے 1974 تک مسلسل پاکستان کے تیز ترین انسان رہے اور جنہوں نے 1972 کے میونخ اولمپکس میں ملک کی نمائندگی کی، اسی کراچی کے صدر کے گلی کوچوں کی پیداوار تھے۔ اس برادری نے پاکستان کو اولمپک سطح کے ہاکی کھلاڑی اور قومی ایتھلیٹس دیے۔

    نوجوانوں کو سماجی برائیوں سے دور رکھنے کے لیے انہوں نے اسپورٹس کلب قائم کیے اور صدر میں واقع تاریخی کراچی گوا ایسوسی ایشن ہال اور گوون جمخانہ کے تحت فٹ بال اور کرکٹ کے ایسے ٹورنامنٹس منعقد کرائے جن میں شہر بھر کے نوجوان بلا تفریق مذہب حصہ لیتے تھے۔

    گوون برادری کی سیاسی اور بلدیاتی خدمات بھی تاریخ کا ایک روشن باب ہیں۔ 1945 سے 1946 کے دوران اس برادری کے مایہ ناز رہنما مینول روزاریو مسکیٹا کراچی کے میئر منتخب ہوئے، اور ان کے دور میں کراچی کو برصغیر کا سب سے صاف ستھرا اور مثالی شہر قرار دیا گیا۔

    ان کا خاندانی کاروبار ‘مسکیٹا بیکری’ صدر کا ایک مشہور نشان تھا۔ اسی طرح برصغیر میں کوآپریٹو ہاؤسنگ کا پہلا کامیاب تجربہ کرنے والے سنسیناٹس فابین ڈی ابریو نے 1908 میں کراچی کی پہلی منصوبہ بند ہاؤسنگ سوسائٹی قائم کی، جسے ان کے نام پر ‘سنسیناٹس ٹاؤن’ کہا گیا اور جو آج گارڈن ایسٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کا مقصد متوسط طبقے کے ملازمین کو سستے، ہوا دار اور باغیچوں والے مکانات فراہم کرنا تھا۔ تعمیرات کے شعبے میں جیروم ڈی سلوا نے تقسیم کے بعد رہائشی بحران کو حل کرنے کے لیے اپنے مسلم شراکت دار کے ساتھ مل کر مشہور ‘حسین ڈی سلوا ٹاؤن’ بنایا، جبکہ سینٹ پیٹرکس سے تعلیم یافتہ فرینک ڈی سوزا برطانوی راج میں انڈین ریلوے بورڈ کے پہلے مقامی رکن بنے۔

    انہی شخصیات کی انتھک محنت کی وجہ سے برٹو روڈ، پیڈرو ڈی سوزا روڈ اور ڈی سلوا اسٹریٹ جیسے نام آج بھی کراچی کے نقشے پر ثبت ہیں۔

    ان کا طرز گفتگو اور لہجہ بھی ان کی ایک منفرد ثقافتی پہچان تھا۔ ان کی اصل مادری زبان کونکنی تھی، جس پر گوا کے 450 سالہ پرتگالی راج کی وجہ سے پرتگالی زبان کے گہرے اثرات تھے۔

    وہ اسے رومی رسم الخط میں لکھتے تھے، لیکن کراچی آنے کے بعد انگریزی ان کی پہلی اور بنیادی زبان بن گئی۔ ان کی انگریزی کا معیار برطانوی تلفظ کے بہت قریب ہوتا تھا، تاہم گفتگو کے دوران ان کا ایک مخصوص، میٹھا اور گائیکی جیسا اتار چڑھاؤ ہوتا تھا، جس میں پرتگالی اثرات کی وجہ سے ‘ٹی’ اور ‘ڈی’ کی آوازیں بہت نرمی سے ادا کی جاتی تھیں، اور فقروں کے درمیان پیار سے ‘مین’ یا ‘بابا’ کا تکیہ کلام استعمال ہوتا تھا۔

    کراچی کے ماحول میں ڈھلنے کے بعد انہوں نے اردو بھی سیکھی، اور ان کا مخصوص لہجے میں اردو بولنا سننے والوں کے کانوں میں رس گھولتا تھا۔

    مذہبی عقائد کے معاملے میں یہ برادری سو فیصد رومن کیتھولک عیسائی تھی اور گوا میں مقیم اپنے سرپرست بزرگ سینٹ فرانسس زیویئر سے گہری عقیدت رکھتی تھی۔ صدر کا شاندار سینٹ پیٹرکس کیتھیڈرل اور گارڈن ایسٹ کا منفرد مغلیہ طرز تعمیر کا شاہکار سینٹ لارنس چرچ ان کی مذہبی زندگی کے مرکز تھے۔

    اتوار کے روز کوٹ پینٹ اور روایتی گاؤن پہن کر سنڈے ماس میں شرکت کرنا، اور کرسمس یا ایسٹر پر روایتی گوون کیک اور مٹھائیاں، جیسے ببنکا اور ڈوڈول، بانٹنا ان کا معمول تھا۔ اپنے عقیدے میں پختہ ہونے کے باوجود وہ بین المذاہب رواداری کا اعلیٰ نمونہ تھے۔ ان کے سماجی مرکز کراچی گوا ایسوسی ایشن ہال، جو 1886 میں قائم ہوا، کا نقشہ کراچی کے مشہور یہودی ماہر تعمیرات موسیٰ سومیک نے تیار کیا۔

    اگست 1947 کے خونی فسادات کے وقت گوون برادری نے شہر میں مسلم اور ہندو برادریوں کے درمیان امن کا پل بننے کا کردار ادا کیا اور بھارت سے آنے والے لاکھوں مہاجرین کے لیے اپنے اسکولوں کے دروازے کھول کر ان کے لیے کیمپوں، خوراک اور طبی امداد کا انتظام کیا۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح خود اس برادری کی دیانت داری کے معترف تھے اور محترمہ فاطمہ جناح کے قریبی حلقے اور سماجی کاموں میں گوون خواتین ہمیشہ پیش پیش رہتی تھیں۔

    مگر افسوس، 1970 کی دہائی کے بعد کراچی کا یہ شاندار اور پرامن رنگ آہستہ آہستہ ماند پڑنے لگا۔ ملک کے بدلتے ہوئے سیاسی اور ثقافتی حالات، شبانہ زندگی اور تفریحی کلبوں پر پابندیوں نے ان کے روایتی طرز زندگی کو بری طرح متاثر کیا۔ رہی سہی کسر 1972 میں مشنری تعلیمی اداروں کو قومیانے کی پالیسی نے پوری کر دی، جس سے نہ صرف ان کا تعلیمی اثر و رسوخ ختم ہوا بلکہ ان کے روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ بھی چھن گیا۔

    بعد ازاں 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں کراچی کے ناگفتہ بہ حالات اور معاشی عدم استحکام کی وجہ سے اس برادری کی نوجوان نسل نے کینیڈا، خصوصاً ٹورنٹو، آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ کا رخ کر لیا، جہاں انہیں ان کی اعلیٰ تعلیم اور انگریزی دانی کی وجہ سے آسانی سے شہریت مل گئی۔

    اب یعنی 2026 میں، کسی دور میں پندرہ ہزار نفوس پر مشتمل یہ متحرک برادری کراچی میں سکڑ کر صرف چند سو خاندانوں یا اندازاً دو سے تین ہزار افراد تک محدود رہ گئی ہے۔ ان میں اب بڑی عمر کے بزرگوں کی اکثریت ہے جو گارڈن ایسٹ اور صدر کے اپنے آبائی، خستہ حال بنگلوں اور فلیٹوں میں ماضی کی یادوں کے سہارے زندگی گزار رہے ہیں۔ جو چند خاندان باقی ہیں، وہ اب بھی کاروباری شعبے اور تعلیمی اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔

    کراچی گوا ایسوسی ایشن ہال اور گوون جمخانہ اب بھی فعال ہیں، لیکن وہاں ماضی جیسی گہما گہمی اور جاز موسیقی کی دھنیں سنائی نہیں دیتیں، اور ان کلبوں کی بقا کے لیے اب دیگر برادریوں کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ چرچوں میں بھی اب دیگر مقامی عیسائی برادریاں زیادہ نظر آتی ہیں۔

    کراچی کی گوون برادری اب ہجرت کی دھند میں گم ہو چکی ہے، لیکن صدر کی پرانی عمارتیں، سڑکوں کے کتبے اور شہر کا تعلیمی و بلدیاتی ڈھانچہ آج بھی پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اس شہر کو مہذب، مصلح اور خوبصورت بنانے والے اصل معمار کون تھے۔ کراچی کی تاریخ ان کے تذکرے کے بغیر ہمیشہ نامکمل رہے گی۔