Tag: کہانی

  • 27 جون: پنجاب کے مہاراجہ رنجیت سنگھ کی بازار حسن کی موراں سے محبت اور ان کی زندگی کی کہانی

    27 جون: پنجاب کے مہاراجہ رنجیت سنگھ کی بازار حسن کی موراں سے محبت اور ان کی زندگی کی کہانی

    پنجاب کی تاریخ میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کو ایک اہم حکمران سمجھا جاتا ہے۔ پنجابی مؤرخ انہیں راجا پورس کے بعد وہ حکمران قرار دیتے ہیں جس نے ایک وسیع پنجابی ریاست قائم کی۔ ان کی سلطنت مشرقی پنجاب سے افغانستان تک اور کشمیر سے سندھ کی سرحدوں تک پھیلی ہوئی تھی۔

    رنجیت سنگھ 13 نومبر 1780 میں گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مہا سنگھ اور والدہ راج کور تھیں۔ بچپن ہی میں والد کا انتقال ہوگیا۔ بعد میں چیچک کی بیماری کے باعث ان کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی اور وہ زندگی بھر ایک آنکھ سے محروم رہے۔

    صرف تیرہ سال کی عمر میں وہ پنجاب کے حکمران بنے۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد انہوں نے اپنی سلطنت کو وسعت دینے کے لیے مسلسل جنگیں لڑیں۔ ان کی فوجوں نے پنجاب، کشمیر اور خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں پر قبضہ کیا۔

    روایت کے مطابق انہوں نے سندھ پر حملے کی بھی تیاری کی، لیکن انگریزوں نے ثالثی کی۔ اس کے بعد سندھ کے ٹالپر حکمرانوں اور رنجیت سنگھ کے درمیان ایک معاہدہ ہوا، جس کے تحت سندھ کی جانب سے انہیں مالی ادائیگی کی جاتی رہی۔ مصنف اس ادائیگی کو ‘بھتہ’ قرار دیتے ہیں۔

    سال 2019 میں پنجاب حکومت نے رنجیت سنگھ کی برسی کے موقع پر لاہور کے شاہی قلعے کے مرکزی دروازے پر ان اور ان کے مشہور گھوڑے ‘لیلیٰ’ کا مجسمہ نصب کیا۔ مصنف کا کہنا ہے کہ اگر سندھ میں راجا داہر کی اسی طرح یادگار بنائی جاتی تو اس پر شدید ردعمل سامنے آتا۔

    رنجیت سنگھ نے ابتدا میں گوجرانوالہ کو اپنا دارالحکومت بنایا، لیکن بعد میں لاہور منتقل ہوگئے۔ مصنف کے مطابق لاہور پر قبضے کے دوران شہر میں لوٹ مار ہوئی اور مساجد سمیت کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ تاہم بہت سے پنجابی مؤرخ ان کے دور حکومت کو مضبوط اور منظم قرار دیتے ہیں۔

    تاریخ دانوں کے مطابق رنجیت سنگھ کی ساس سدا کور سیاسی معاملات میں ان کی اہم مشیر تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ انہی کے مشوروں نے رنجیت سنگھ کی حکومت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    رنجیت سنگھ کی کئی شادیاں ہوئیں۔ ان کی بیویوں میں مختلف خاندانوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والی خواتین شامل تھیں۔ وہ ہر ماہ حضرت مادھو لال حسینؒ کے مزار پر بھی حاضری دیتے تھے۔

    اسی دوران ان کی ملاقات ایک خوبصورت مسلمان رقاصہ اور طوائف موراں سے ہوئی، جس کا تعلق مانوالہ گاؤں سے تھا۔ موراں نہ صرف حسین تھیں بلکہ گھڑسواری میں بھی ماہر تھیں۔ وہ اپنی کمائی سے کنویں، مسافر خانے اور غریب لڑکیوں کی شادیوں کا انتظام بھی کرتی تھیں۔ پنجاب میں آج بھی ان کے نام سے ‘کنجری والا کنواں’ مشہور ہے۔

    رنجیت سنگھ موراں کی خوبصورتی اور شخصیت سے بہت متاثر ہوئے۔ دونوں کے درمیان تعلق قائم ہوا۔ ایک روایت کے مطابق ایک روز موراں نہر عبور کر کے رنجیت سنگھ سے ملنے جا رہی تھیں کہ ان کی جوتی پانی میں بہہ گئی۔ یہ واقعہ معلوم ہونے پر رنجیت سنگھ نے وہاں پل تعمیر کروا دیا۔ آج بھی واہگہ کے قریب یہ مقام ‘پل موراں’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    موراں کی وفات کے بعد رنجیت سنگھ نے ان کی قبر پر ایک خوبصورت مقبرہ بھی تعمیر کروایا۔

    رنجیت سنگھ کی زندگی جنگوں، فتوحات، گھوڑوں، شراب اور خوبصورت خواتین کے گرد گھومتی رہی۔ ان کی زندگی میں دو چیزیں بہت اہم سمجھی جاتی ہیں، ایک موراں اور دوسرا ان کا مشہور گھوڑا ‘لیلیٰ’۔

    تاریخی روایت کے مطابق پشاور کے ایک پٹھان سردار کے پاس ‘لیلیٰ’ نامی نہایت قیمتی گھوڑا تھا۔ رنجیت سنگھ نے اسے حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن انکار ہونے پر انہوں نے کئی مرتبہ پشاور پر حملے کیے۔ بالآخر شدید جنگوں اور تباہی کے بعد وہ یہ گھوڑا اپنے قبضے میں لے آئے۔ ان لڑائیوں میں ہزاروں افراد مارے گئے۔

    موراں سے شادی بھی رنجیت سنگھ کے لیے آسان نہ تھی۔ سکھ مذہبی رہنماؤں نے ایک مسلمان عورت سے شادی پر اعتراض کیا اور کہا کہ اگر وہ موراں کو محل میں لائیں گے تو انہیں سرعام کوڑوں کی سزا دی جائے گی۔

    روایت کے مطابق رنجیت سنگھ نے کہا کہ وہ سزا قبول کرنے کو تیار ہیں لیکن موراں کو نہیں چھوڑیں گے۔ آخرکار انہوں نے سزا برداشت کی اور موراں کو اپنی ملکہ کا درجہ دیا۔

    کہا جاتا ہے کہ شادی کے بعد ریاست کے بعض سرکاری معاملات میں ‘موراں سرکار’ کا نام استعمال ہونے لگا اور سرکاری مہروں پر بھی یہی الفاظ درج کیے جاتے تھے۔

    موراں نہایت ذہین، سخی اور دوراندیش خاتون سمجھی جاتی تھیں۔ انہوں نے لاہور میں ایک مسجد بھی تعمیر کروائی، جو آج ‘مسجد مائی موراں’ کے نام سے مشہور ہے۔

    وقت گزرنے کے ساتھ موراں نے دنیاوی زندگی سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ انہوں نے مذہبی زندگی اختیار کی، ملکہ کا خطاب واپس کیا اور رنجیت سنگھ سے الگ ہوگئیں۔ بعد میں انہوں نے اپنے روحانی استاد مولانا جان محمد کی درخواست پر عربی اور فارسی علوم کا ایک ادارہ بھی قائم کیا، جہاں طلبہ تعلیم حاصل کرتے تھے۔

    موراں ہمیشہ غریبوں کی مدد کرتی رہیں۔ ان کے دروازے ضرورت مندوں کے لیے کھلے رہتے تھے۔ بعد میں وہ لاہور چھوڑ کر پٹھان کوٹ منتقل ہوگئیں اور اپنی باقی زندگی عبادت اور خدمت خلق میں گزاری۔

    موراں کے بعد رنجیت سنگھ نے ایک اور مسلمان خاتون گل بانو سے شادی کی۔ ان کے نام پر لاہور میں ایک باغ بھی تعمیر کروایا گیا، جو آج بھی موجود ہے۔

    مہاراجہ رنجیت سنگھ نے تقریباً 39 سال تک سکھ سلطنت پر حکومت کی۔ ان کا انتقال 27 جون 1839 کو ہوا۔ ان کی وفات کے بعد ان کی قائم کردہ مضبوط سلطنت آہستہ آہستہ کمزور ہوتی گئی۔