Tag: کھائی

  • زندگی، ایک کھائی سے دوسری کھائی تک

    زندگی، ایک کھائی سے دوسری کھائی تک

    میں نے ابتدائی پرائمری تعلیم جس اسکول سے لی، اس اسکول کا نام تھا گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول کھائی۔ کھائی میرے گاؤں کا نام ہے۔ میں بچپن میں کئی سالوں تک سوچتا رہا کہ میرے گاؤں کا نام کھائی کیوں ہے؟

    کھائی سے مراد زمین میں کھدا ہوا گہرا گڑھا، خندق یا قلعے کے گرد حفاظتی گڑھا ہوتا ہے۔ نہ تو میرے گاؤں میں کوئی قلعہ ہے جس کے گرد حفاظتی گڑھا ہو، نہ کوئی خندق کھدی ہوئی ہے۔ پھر بھی ایسا نام کیوں؟ اب کھائی بھی کوئی نام ہے؟

    اس وقت میں اخبار میں پڑھتا کہ پشاور کے قریب تیز رفتار گاڑی الٹ کر کھائی میں گر گئی، گلگت کے قریب ٹرک کھائی میں گر گیا، میں سوچتا تھا اتنا دور الٹنے والی گاڑیاں ہمارے گاؤں میں کیسے گریں؟ اور اگر گریں تو کہاں گریں؟

    کئی سالوں تک یہ معمہ حل نہ ہوا۔ ہمارے اسکول کے قریب بڑے گڑھے ضرور تھے، جنہیں گاؤں والے بھڈے پکارتے تھے، جن میں یا تو گاؤں کے سیوریج کا پانی بھرا ہوتا تھا یا پھر بارشوں کا پانی کئی مہینوں تک بھرا رہتا تھا، جس کے باعث گاؤں میں مچھر بھنبھاتے رہتے۔

    کئی سال تک جب گاؤں کے نام کی گتھی نہ سلجھی تو مجھے لگا شاید ان گڑھوں کے باعث گاؤں کا یہ نام پڑا، کھائی۔

    میرے گاؤں میں کئی دانا بزرگ تھے، مگر ان دان بزرگوں کو بھی گاؤں کے نام کے پیچھے راز کا معلوم نہیں تھا۔

    اس وقت ہمارے گاؤں میں اخبار کا واحد ہاکر ہمارے پڑوسی منٹھار سولنگی تھے، جنہیں ہم چاچا منٹھار کے نام سے پکارتے تھے۔ وضع قطع رکھنے والی سنجیدہ شخصیت تھے، مگر مزاح بھی بلا کا رکھتے تھے۔

    اس وقت کئی اخبارات گاؤں میں روزانہ آتے، مگر انگریزی اخبار ڈان کی صرف ایک ہی کاپی آتی تھی جو ہمارے اسکول کے ہیڈ ماسٹر سائیں غلام محمد پنہور کے لیے آتی تھی۔ ہمارے کئی اساتذہ سائیں غلام محمد پنہور کی انگریزی زبان پر مہارت سے مرعوب تھے۔ سائیں غلام محمد پنہور کے بیٹے امداد پنہور میرے پہلی جماعت سے دسویں تک کلاس فیلو رہے۔

    چھٹی جماعت میں امداد کو ان کے والد نے ڈبل چین والی سائیکل دلائی، سائیکل کے باعث نہ صرف ہمارے کلاس فیلو بلکہ ہماری کرکٹ ٹیم کے تمام کھلاڑی مرید بن گئے تھے۔ ہر وقت ان کی آؤ بھگت کرتے تاکہ امداد انہیں اپنی سائیکل کا ایک چکر لگانے دے۔

    چاچا منٹھار سولنگی کے پاس آنے والے اخبارات میں جنگ کی کاپیاں گاؤں کے ڈاکٹروں کے لیے ہوتی تھیں۔ چاچا منٹھار مجھے بتاتے تھے کہ جنگ اخبار ڈاکٹر سعید احمد، ڈاکٹر رانو مل، ڈاکٹر اشرف کے علاوہ ہمارے علاقے کے بڑے آبادگار رئیس حاجی عبدالقادر خان مری اور شہر کے کاروباری سیٹھ وادھو مل بھی باقاعدگی سے خریدتے تھے۔

    پیر پاگارا کی حر جماعت کے سندھی اخبار مہران کی کاپیاں خریدنے والوں کی اکثریت پیر پاگارا کی حر جماعت کے مریدوں کی ہوتی تھی۔ حر جماعت کے رہنما حاجی ابراہیم ہنگورجو مہران اخبار کے مینیجنگ ایڈیٹر تھے، جو بعد میں ٹیکنوکریٹ کی نشست پر سینیٹر بھی بنے۔

    انہوں نے میٹنگ کرکے حر جماعت کے مریدوں کو پابند کیا تھا کہ وہ ہر حال میں مہران اخبار خریدیں اور اخبار کی قیمت ایڈوانس میں ادا کی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ عبرت اور ہلال پاکستان اخبارات بھی آتے تھے۔ اس وقت تک کاوش اخبار کا اجرا نہیں ہوا تھا۔

    اس وقت گاؤں کے لوگ اخبارات کو ایسے پڑھتے تھے جیسے کسی امتحان کی تیاری کر رہے ہوں۔ اس وقت کوئی لڑکی پسند کی شادی کرتی تو اخبار میں اشتہار دیا جاتا جس کا عنوان ہوتا تھا ‘دھیان طلب’ یعنی قابل توجہ۔ اس اشتہار میں اس لڑکی کا بیان چھپتا تھا، جس کا متن مجھے آج بھی یاد ہے کہ ‘میں عاقل، بالغ، اپنی مرضی سے گھر سے تین کپڑوں میں نکل کر فلاں بندے کے ساتھ رضا خوشی سے شادی کر لی، مجھے تحفظ دیا جائے’ ساتھ میں ان کی ایک بلیک اینڈ وائٹ تصویر بھی لگی ہوتی تھی۔

    اس وقت میرے گاؤں کے لوگ پورا اخبار بقول شخصے چاٹ کر آخر میں ‘دھیان طلب’ بھی پڑھنا نہیں چھوڑتے تھے۔

    ہمارا گاؤں ایک چھوٹا سا ٹاؤن تھا، آبادی کم تھی، سب لوگ ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ تقریباً ہر گاؤں کے رہائشی کا ایک نِک نیم بھی ہوتا تھا، جیسے جیپر موٹا۔

    جیسے سندھ کے ہر گاؤں میں ایک شخص ایسا ہوتا ہے جسے کچھ لوگ پاگل اور کچھ لوگ ‘ایجنسیوں کا بندہ’ سمجھتے ہیں، ویسے ہی ہمارے گاؤں میں اکبر تھا۔ وہ کسی بھی دیوار پر ہاتھ اونچے کرکے ایسے زور لگاتا جیسے دیوار کو گرا رہا ہو۔ ہر وقت کسی ان دیکھے فرد سے محو گفتگو رہتا۔ گاؤں کے مسائل کے ساتھ ملک کو درپیش مسائل کا حل کاغذ پر لکھ کر چیف آف دی آرمی اسٹاف کو بذریعہ پاکستان پوسٹ بھیجتا۔ جب کبھی اکبر سے بات کریں تو جواب آتا ملک کا ستیا ناس کر دیا ہے، آج میں اپنے موکلوں کو بھیجتا ہوں، سب ٹھیک کر دیں گے۔

    ہماری پوسٹ آفس کا پوسٹل کوڈ مجھے آج بھی یاد ہے، 69061۔

    کھائی پوسٹ آفس کے پوسٹ ماسٹر تھے سائیں خادم حسین رونجھو، جو پرائمری اسکول کے ہیڈ ماسٹر بھی تھے۔ خادم حسین رونجھو کے بیٹے نور احمد، جسے سب لوگ کارو کے نام سے جانتے تھے، میرے پہلی جماعت سے کلاس فیلو تھے۔

    پوسٹ آفس گاؤں کے واحد قصائی کی دکان والی گلی میں تھا، جو اوپر سے ڈھکی ہوتی تھی، اس میں ایک کمرے پر مشتمل تھا۔ جہاں میں اور نور احمد اکثر بیٹھا کرتے تھے۔

    ایک دن میں نے دیکھا ایک بڑے بورے میں وہ تمام مراسلے، جو اکبر نے گاؤں کے مسائل اور ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے آرمی چیف کو لکھے تھے، بھرے پڑے تھے۔ نزدیکی شہر پتھورو سے ہمارے گاؤں کی ڈاک لانے والے سے جب میں نے پوچھا یہ خط لے کیوں نہیں جاتے تو انہوں نے کہا کہاں لے جائیں؟، اکبر تو بادشاہ آدمی ہے، ہر روز مراسلہ لکھ کر ڈبے میں ڈال دیتا ہے۔ آرمی چیف کو اکبر کے مراسلے پڑھنے کا وقت کہاں ہوگا، اس لیے انہیں اس بورے میں ڈال دیتا ہوں۔

    اس وقت کھائی میں کوئی 60 یا 70 دکانیں ہوتی تھیں۔ گاہکوں کی اکثریت آس پاس کے دیہات سے آتے تھے۔ شام کو جیسے ہی دیہات کے لوگ چلے جاتے، بازار بند ہو جاتا تھا۔ لوگ بی بی سی سیر بین سن کر اس پر تبصرہ کرکے 10 بجے سو جاتے تھے۔

    چاچا منٹھار سولنگی کا اخباری اسٹال شہر کے مرکزی چوراہے کے ایک کونے پر واقع آچر خاصخیلی کی لکڑی کی بنی بڑی سائز کیبن، جو ایک مکمل دکان تھا، کے برابر میں کچھ سال ایک پھٹے پر لگا ہوا تھا۔ بعد میں آچر خاصخیلی سے وہ کیبن چاچا منٹھار نے لے لی تھی اور وہاں اخبار کا اسٹال شروع کر دیا تھا۔

    اس وقت آس پاس کے گاؤں سے شاہوکار زمیندار بوسکی کا جوڑا، سر پر پگڑی، ہاتھوں پر تیز رنگ کی لال مہندی اور گلے میں سونے کی بھاری زنجیر پہن کر سجے سجائے خوبصورت گھوڑے پر چڑھ کر ہمارے شہر آتے تھے، مگر شہر میں داخل ہونے سے قبل گھوڑے سے اتر کر باگ ڈور پکڑ کر شہر میں داخل ہوتے تھے۔ اس وقت شہر میں گھوڑوں کے لیے دو بڑے اصطبل تھے۔ جب بھی زمیندار اصطبل کے قریب آتا تو سائس دوڑ کر باگ ڈور پکڑتا اور جا کر گھوڑے کو کھونٹی سے باندھ دیتا۔

    جب تک گھوڑے کا مالک شہر سے خریداری کرتا، تب تک سائس گھوڑے کو کھرہرہ کرتا، بڑھے ناخن اتارتا اور اگر ضرورت ہو تو لوہے کی نال بھی لگاتا۔ سائس سجے سجائے گھوڑے کی زین پوش اتار کر کھرہرہ لگانے کے دوران گھوڑا خوشی سے آوازیں نکالتا تھا۔ مجھے یہ سب دیکھنا بہت پسند تھا۔ میں کئی گھنٹے اصطبل میں بیٹھ کر انتظار کرتا کہ کب نیا گھوڑا آئے اور کب سائس کھرہرہ لگائے۔

    میں اصطبل میں گھوڑا تماشا دیکھنے کے بعد سیدھا چاچا منٹھار کی اخبار اسٹال کا رخ کرتا، جہاں مجھے سب اخبارات مفت میں پڑھنے کو ملتیں۔ ایک دن میں اخبار پڑھتے پڑھتے چاچا منٹھار سے پوچھا کہ ہمارے گاؤں کا نام کھائی کیوں ہے؟ چاچا منٹھار تھوڑا مسکراتے ہوئے بولے، جیسے امیر لوگوں کے نام بھی امیر ہوتے ہیں، جیسے الحاج مشتاق علی خان مری، جب کہ غریب کا نام بھی مشتاق ہوتا ہے، مگر لوگ اسے مُستو استاد کے نام سے پکارتے ہیں، ویسے ہی امیروں کے شہروں اور گاؤں کا نام امیر اور غریبوں کے شہر اور گاؤں کا نام غریب ہوتا ہے۔

    چاچا منٹھار نے مزید سمجھاتے ہوئے کہا کہ ہم سب اس گاؤں کے رہنے والے غریب ہیں، تو ہمیں مزید پستی میں دھکیلنے کے لیے انہوں نے گاؤں کا نام ہی کھائی رکھ دیا تاکہ ہم سب اس غربت سے نہ نکل سکیں۔

    میں نے چاچا منٹھار سے پوچھا اگر کوئی اس گاؤں سے نکل جائے تو پھر وہ کہاں جائے گا؟ چاچا منٹھار نے تھوڑا سوچا پھر بولے: ‘کھائی سے کبھی کوئی نہیں نکل سکتا، اس کھائی سے نکل بھی گیا تو دوسری کھائی میں جائے گا، ایک تعلیمی ادارے سے دوسرے تعلیمی ادارے اور ایک نوکری سے دوسری نوکری کا مطلب ایک کھائی سے دوسری کھائی جانا ہے۔ زندگی کا نام ایک کھائی سے نکل کر دوسری کھائی جانا ہے۔’