Tag: کولیسٹرول

  • امریکا میں کولیسٹرول کم کرنے والی پہلی گولی منظور، دل کے مریضوں کے لیے نئی امید

    امریکا میں کولیسٹرول کم کرنے والی پہلی گولی منظور، دل کے مریضوں کے لیے نئی امید

    امریکا کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے دوا ساز کمپنی مرَک کی کولیسٹرول کم کرنے والی نئی گولی کی منظوری دے دی ہے۔ اس گولی کا برانڈ نام لِپ فینڈرا ( Lipfendra)ہے اور اسے Enlicitide بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی دوا ہے جو انجیکشن کے بجائے گولی کی شکل میں دستیاب ہوگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منظوری سے دل کی بیماریوں کے خطرے سے دوچار لاکھوں افراد کو علاج میں آسانی ملے گی۔

    دواساز کمپنی  Merckکے مطابق یہ دوا ایسے مریضوں کے لیے تیار کی گئی ہے جنہیں خون میں خراب کولیسٹرول یعنی ایل ڈی ایل کی مقدار زیادہ ہونے کی شکایت ہے۔ اس میں وہ افراد بھی شامل ہیں جن میں یہ بیماری موروثی طور پر پائی جاتی ہے۔ خون میں خراب کولیسٹرول کی زیادتی سے شریانوں میں چکنائی جمع ہونے لگتی ہے، جس سے دل کے دورے، فالج اور دیگر قلبی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں ہر چار بالغ افراد میں سے ایک کو خراب کولیسٹرول کی زیادتی کا سامنا ہے۔ اسی وجہ سے ماہرین اس نئی دوا کو ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

    لِپ فینڈرا ایسی پہلی گولی ہے جو پی سی ایس کے نائن نامی پروٹین کو روک کر کام کرتی ہے۔ اس پروٹین کی زیادہ مقدار خون میں خراب کولیسٹرول بڑھانے اور دل کی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔ اس سے پہلے اسی طریقہ کار پر کام کرنے والی تمام ادویات صرف انجیکشن کی صورت میں دستیاب تھیں۔

    مرک نے بتایا ہے کہ اس دوا کی قیمت امریکا میں روزانہ 10.50 ڈالر رکھی گئی ہے، جو ماہانہ تقریباً 315 ڈالر بنتی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ دوا آئندہ چند ہفتوں میں مریضوں کے لیے مارکیٹ میں دستیاب ہوگی۔

    کمپنی کے نائب صدر برائن فورڈ نے کہا کہ لِپ فینڈرا خاص طور پر ان مریضوں کو دی جائے گی جو پہلے ہی کولیسٹرول کم کرنے والی ادویات، جیسے اسٹیٹن، استعمال کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود مطلوبہ حد تک کولیسٹرول کم نہیں ہو رہا۔ ان کے مطابق اسٹیٹن استعمال کرنے والے تقریباً 70 فیصد مریض اب بھی علاج کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پاتے، اس لیے نئی دوا ان کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہے۔

    آر بی سی کیپیٹل مارکیٹس کے تجزیہ کار ٹرنگ ہوئین نے کہا کہ اس نئی دوا کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کے ساتھ الرجی یا شدید حساسیت سے متعلق کوئی خاص انتباہ موجود نہیں، جبکہ اسی نوعیت کے انجیکشن استعمال کرنے والی بعض ادویات میں ایسے خدشات پائے جاتے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دس برس سے انجیکشن کی صورت میں مؤثر ادویات دستیاب ہونے کے باوجود دل کی بیماری کے خطرے سے دوچار تقریباً 70 فیصد مریض مناسب علاج سے محروم ہیں۔ اس کی بڑی وجوہات انجیکشن لگوانے سے ہچکچاہٹ، علاج کی پیچیدہ منظوری کا نظام اور ماہر ڈاکٹروں تک محدود رسائی ہیں۔ ان کے مطابق گولی کی شکل میں دوا آنے سے علاج تک رسائی بہتر ہونے کی توقع ہے۔

    تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ لِپ فینڈرا کی فروخت سن 2034 تک سالانہ تقریباً 5 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جو اسے مرَک کی اہم ترین ادویات میں شامل کر دے گی۔

    ایف ڈی اے نے اس دوا کی منظوری دو بڑے طبی آزمائشی مطالعات کے نتائج کی بنیاد پر دی۔ ان مطالعات میں روزانہ ایک گولی استعمال کرنے والے مریضوں کے خون میں خراب کولیسٹرول کی سطح تقریباً 60 فیصد تک کم دیکھی گئی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ایک اور طویل مدتی تحقیق بھی جاری ہے، جس میں یہ جانچا جا رہا ہے کہ آیا یہ دوا دل کے دورے، فالج اور قلبی بیماریوں سے ہونے والی اموات میں بھی نمایاں کمی لاتی ہے یا نہیں۔

    اس وقت خراب کولیسٹرول کم کرنے کے لیے پی سی ایس کے نائن گروپ کی دیگر ادویات انجیکشن کی صورت میں دستیاب ہیں، جن میں مختلف عالمی دوا ساز کمپنیوں کی تیار کردہ دوائیں شامل ہیں۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ گولی کی شکل میں علاج آنے سے ایسے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے جو باقاعدگی سے کولیسٹرول کم کرنے والی دوا استعمال کریں گے، جس کے نتیجے میں دل کی بیماریوں سے بچاؤ میں بھی مدد مل سکتی ہے۔