مشرقی فرانس میں جرمنی کی سرحد کے قریب واقع کولمار ان یورپی شہروں میں شمار ہوتا ہے جنہیں دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی قدیم کہانی اچانک حقیقت بن گئی ہو۔ رنگ برنگے لکڑی کے گھر، پتھروں سے بنی تنگ گلیاں، کھڑکیوں سے جھانکتے پھول، نہروں پر جھکے چھوٹے پل اور خاموش فضائیں اس شہر کو جدید دنیا سے الگ ایک منفرد شناخت دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کولمار کو فرانس کے خوبصورت ترین تاریخی شہروں میں شمار کیا جاتا ہے اور ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں سیاح صرف اس کی فضا کو محسوس کرنے یہاں پہنچتے ہیں۔
کولمار فرانس کے علاقے الساس میں واقع ہے، جو صدیوں تک فرانس اور جرمنی کے درمیان ثقافتی اور سیاسی کشمکش کا مرکز رہا۔ یہی تاریخی پس منظر اس شہر کی سب سے دلچسپ پہچان سمجھا جاتا ہے۔ یہاں کی عمارتوں، زبان، خوراک، تہواروں اور روزمرہ زندگی میں فرانسیسی اور جرمن تہذیب کا امتزاج واضح دکھائی دیتا ہے۔ بعض مقامات پر جرمن طرز تعمیر نمایاں ہے جبکہ کھانے اور کیفے فرانسیسی ثقافت کی جھلک پیش کرتے ہیں۔ ماہرین تاریخ کے مطابق الساس کا علاقہ کئی بار فرانس اور جرمنی کے درمیان منتقل ہوتا رہا، جس کی وجہ سے یہاں کی شناخت منفرد انداز میں تشکیل پائی۔
کولمار کا پرانا تاریخی مرکز آج بھی بڑی حد تک محفوظ ہے۔ شہر کے کئی گھر پندرھویں اور سولہویں صدی کے طرز تعمیر کے مطابق موجود ہیں۔ ان لکڑی کے گھروں پر رنگین نقش و نگار اور ڈھلوان چھتیں اس دور کی یورپی شہری زندگی کی یاد دلاتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان عمارتوں میں سے کئی آج بھی رہائش، دکانوں یا ریستورانوں کے طور پر استعمال ہورہی ہیں۔ بعض مؤرخین کے مطابق کولمار ان چند یورپی شہروں میں شامل ہے جہاں قرونِ وسطیٰ کا شہری منظر نسبتاً اصل حالت میں باقی رہا۔
کم لوگ جانتے ہیں کہ کولمار کو فرانس کے خشک ترین شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ یورپ کے سرسبز علاقوں میں واقع ہے، لیکن اس کے اردگرد موجود ووسج پہاڑی سلسلہ بارشوں کو بڑی حد تک روک دیتا ہے۔ اسی نسبتاً خشک موسم کی وجہ سے یہ علاقہ انگور کی کاشت کے لیے انتہائی موزوں سمجھا جاتا ہے۔ کولمار فرانس کی مشہور ‘الساس وائن روٹ’ کا اہم حصہ ہے، جہاں صدیوں سے سفید انگور کی مختلف اقسام اگائی جاتی ہیں۔ مقامی معیشت میں آج بھی وائن سازی کا اہم کردار موجود ہے۔
شہر کا سب سے مشہور حصہ ‘لٹل وینس’ یعنی ‘چھوٹا وینس’ کہلاتا ہے۔ یہ علاقہ نہروں، پلوں اور رنگین گھروں کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے۔ ماضی میں یہی نہریں مقامی تاجروں اور ماہی گیروں کے لیے سامان کی نقل و حمل کا اہم ذریعہ تھیں۔ آج ان نہروں میں چلنے والی چھوٹی کشتیاں سیاحوں کو شہر کے تاریخی حصوں کی سیر کراتی ہیں۔ شام کے وقت جب روشنیوں کا عکس پانی پر پڑتا ہے تو پورا علاقہ کسی فلمی منظر کی طرح محسوس ہوتا ہے۔
کولمار صرف خوبصورتی کا شہر نہیں بلکہ یورپی تاریخ کا بھی اہم حصہ رہا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران الساس کا علاقہ شدید لڑائیوں کا مرکز بنا، تاہم حیرت انگیز طور پر کولمار کا تاریخی مرکز بڑی حد تک تباہی سے بچ گیا۔ اسی وجہ سے آج بھی یہاں کئی عمارتیں اپنی اصل شکل کے قریب موجود ہیں۔ جنگ کے بعد فرانس نے اس شہر کے تاریخی حسن کو محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے، جس کی وجہ سے یہ مقام یورپ کے محفوظ ترین تاریخی شہروں میں شمار ہونے لگا۔
ایک کم معروف حقیقت یہ بھی ہے کہ دنیا کے مشہور مجسمے ‘اسٹیچو آف لبرٹی’ کے خالق فریڈرک آگست بارتھولدی کا تعلق بھی کولمار سے تھا۔ ان کی پیدائش اسی شہر میں ہوئی تھی اور آج بھی یہاں ان کے نام کا میوزیم موجود ہے۔ اس میوزیم میں ان کے خاکے، مجسمے اور ذاتی نوادرات محفوظ کیے گئے ہیں۔ کولمار میں بارتھولدی کے مجسمے اور یادگاریں اس بات کی یاد دلاتی ہیں کہ یہ خاموش شہر عالمی فن اور تاریخ سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔
کولمار کی ایک اور خاص بات اس کے موسمی تہوار ہیں۔ سردیوں میں یہاں لگنے والی کرسمس مارکیٹس پورے یورپ میں مشہور سمجھی جاتی ہیں۔ تاریخی گلیاں روشنیوں، لکڑی کے اسٹالز، روایتی کھانوں اور موسیقی سے بھر جاتی ہیں۔ بہت سے سیاح صرف دسمبر کے مہینے میں اس شہر کی کرسمس فضا دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ بعض سفری رسائل نے کولمار کو یورپ کے خوبصورت ترین کرسمس شہروں میں شامل کیا ہے۔
اگرچہ جدید یورپ تیزی سے بدل رہا ہے، مگر کولمار آج بھی اپنی پرانی شناخت کو محفوظ رکھنے میں کامیاب دکھائی دیتا ہے۔ یہاں کی خاموش گلیاں، تاریخی عمارتیں اور نہروں پر جھکتی روشنی انسان کو ایسا احساس دلاتی ہیں جیسے وقت کہیں سست پڑگیا ہو۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہاں آنے والے بہت سے لوگ اسے صرف ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ ماضی کی زندہ جھلک قرار دیتے ہیں۔
ساگا ڈیجیٹل آپ کو دنیا کے اُن شہروں کی کہانیاں دکھاتا ہے جہاں تاریخ، ثقافت اور انسانی زندگی آج بھی سانس لیتی ہے۔ دنیا بھر سے منفرد اور دلچسپ کہانیاں، صرف ساگا ڈیجیٹل پر۔

