Tag: کنٹرولڈ اسٹرائیک

  • ’کنٹرولڈ اسٹرائیک‘یا بے قابو نتائج؟ مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی جنگی بساط

    ’کنٹرولڈ اسٹرائیک‘یا بے قابو نتائج؟ مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی جنگی بساط

    تاریخ بتاتی ہے کہ جب طاقتور ممالک ’کنٹرولڈ اسٹرائیک‘ کہتے ہیں تو دنیا اکثر ’غیر کنٹرول نتائج‘ دیکھتی ہے۔ ایران اور اس کے اتحادیوں، شام، لبنان اور یمن، پر امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ ایران نے جواب میں اسرائیل کے اہم شہروں سمیت امریکہ کے اتحادی عرب ممالک، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور قطر میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کر کے صورتحال کو انتہائی سنگین بنا دیا ہے۔

    اس وقت حالات بہت تیزی سے بدل رہے ہیں۔ پہلے یہ معاملہ صرف دو ممالک تک محدود تھا، لیکن اب پورے عرب خطے میں جنگ کی فضا پیدا ہو چکی ہے۔ یہ کشیدگی اب صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہی۔ بلوچستان کے پنجگور میں بمباری اس بات کا اشارہ سمجھی جا رہی ہے کہ ایران اپنی ’دفاعی لائن‘ کو وسیع کر رہا ہے، جس سے پاکستان کی سلامتی کو نئے چیلنجز لاحق ہو سکتے ہیں۔ جبکہ افغان طالبان کے حوالے سے بھی دعوے سامنے آ رہے ہیں کہ علاقائی طاقتوں کی پشت پناہی سے پاکستان کے خلاف محاذ آرائی بڑھ رہی ہے۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ یہ تنازع دیگر ممالک تک بھی پھیل سکتا ہے۔

    جب بڑی طاقتیں جنگ کرتی ہیں تو حقیقی نقصانات کو چھپانے کے لیے ’انفارمیشن وارفیئر‘ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اصفہان اور نواتیم ایئربیس پر حملوں کا ذکر ظاہر کرتا ہے کہ یہ اب صرف ’پراکسی وار‘ نہیں بلکہ براہِ راست ایک ’وجودی خطرے‘ کی جنگ بنتی جا رہی ہے۔

    جنیوا میں جاری مذاکرات کے باوجود ان حملوں کو اسرائیل نے ’Lion’s Roar‘ اور امریکہ نے ’Epic Fury‘ کا نام دیا ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات ایران کا جوہری پروگرام، فوجی طاقت، خطے میں اثر و رسوخ اور سیکیورٹی خدشات ہیں۔ اسرائیل نے ایران کے اندر متعدد حساس مقامات کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ امریکہ نے لبنان، شام، عراق اور یمن میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے فوجی اور اسلحہ کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔

    اسرائیل نے ایران میں میزائل بنانے والے پلانٹس، فضائی دفاعی نظام S-300، اصفہان کے ایٹمی پروگرام اور فوجی صنعت، خوزستان اور ایلام کے سرحدی صوبوں، جہاں ایرانی فوجی مراکز اور تیل ریفائنریاں موجود ہیں، اور تہران کے قریب کرج میں موجود فوجی گوداموں پر میزائل حملے کیے ہیں۔ دوسری جانب ایران نے اسرائیلی شہر تل ابیب سمیت یروشلم کے قریب اہداف، نواتیم ایئربیس، جو نیگیو کے صحرا میں اسرائیل کے جدید F-35 طیاروں کا اڈہ ہے، پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ ایرانی میزائلوں نے تیل نوف ایئربیس کو بھی نشانہ بنایا۔

    ایران نے براہِ راست یا اپنے اتحادی گروہوں کے ذریعے مختلف ممالک میں کارروائیاں کی ہیں۔ ان میں عراق کے کرد علاقوں میں امریکی ایئربیس، پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر پنجگور، لبنان میں اسرائیلی ہوائی اڈے، شام میں امریکی حمایت یافتہ باغیوں کے ٹھکانے، اور یمن سے حوثی باغیوں کے ذریعے سعودی عرب میں موجود امریکی فوجی اڈے شامل ہیں۔

    واشنگٹن اور تہران نے مذاکرات کو مثبت قرار دیا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی سفارت کاری میں ایک پرانی روایت رہی ہے کہ مذاکرات کی میز پر برتری حاصل کرنے کے لیے میدانِ جنگ میں طاقت کا مظاہرہ کیا جائے۔ مقصد ایران اور اس کے اتحادیوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ اگر جنیوا میں معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ کے پاس ’پلان بی‘ یعنی فوجی طاقت موجود ہے۔

    حال ہی میں بعض دفاعی ویب سائٹس نے رپورٹ کیا کہ ایران نواز گروہوں نے کچھ ایسے حساس امریکی اثاثوں کو نشانہ بنایا جو امریکہ کے لیے ’ریڈ لائن‘ تھے۔ امریکہ کو خدشہ تھا کہ اگر فوری جواب نہ دیا گیا تو اس کی ’ڈیٹرنس‘ کمزور ہو جائے گی اور مخالف فریق مذاکرات میں اسے کمزور سمجھیں گے۔ اسرائیلی قیادت نے بھی پروپیگنڈا مہم تیز کی، یہاں تک کہ سابق اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان ایک مسلم اور ایٹمی ملک ہے اور ہمیں اس سے بڑا خطرہ ہے۔

    مبصرین کے مطابق امریکہ کو خدشہ تھا کہ جنیوا مذاکرات کے نتائج کا انتظار کرنے سے دیر ہو جائے گی اور خطے میں اس کے اتحادیوں کو بڑا نقصان پہنچ سکتا ہے، اس لیے اس نے ’پری ایمپٹو‘ حملے کر کے مخالف حکمت عملی کو توڑنے کی کوشش کی۔

    ایران کا مؤقف ہے کہ پہلے تمام پابندیاں ختم کی جائیں، اس کے بعد کسی نئے معاہدے پر بات ہو سکتی ہے۔ جبکہ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران پہلے اپنا میزائل پروگرام اور علاقائی مداخلت بند کرے۔ اس وقت جنیوا مذاکرات ’لائف سپورٹ‘ پر ہیں، یعنی وہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، مگر کسی بڑی پیش رفت کی امید کم ہو چکی ہے۔ امریکی حملے اس بات کا اشارہ ہیں کہ سفارت کاری کا وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔

    امریکہ چاہتا ہے کہ تیل اور گیس کی فراہمی، خصوصاً آبنائے ہرمز کے ذریعے، بلا تعطل جاری رہے۔ اسرائیل کی سلامتی امریکی خارجہ پالیسی کا ایک بنیادی حصہ ہے، اس لیے وہ خطے میں کسی ایسی قوت کو مضبوط نہیں ہونے دینا چاہتا جو اسرائیل کے لیے خطرہ بنے۔ امریکہ کو خدشہ ہے کہ ایران کے پاس بیلسٹک میزائلوں کے علاوہ ایٹم بم بنانے کی صلاحیت بھی موجود ہے، اس لیے وہ اسے روکنا چاہتا ہے۔

    یہ حالیہ حملہ کوئی محدود جھڑپ نہیں بلکہ ایک بڑے پیمانے کی کشیدگی کا آغاز ہے۔ اگر ایران اپنے اتحادی گروہوں کے ذریعے اس تصادم کو عرب ممالک تک وسیع کرتا ہے تو یہ مکمل مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز بند ہو گئی تو عالمی تیل بحران پیدا ہو جائے گا۔ کئی عرب اور اسلامی ممالک، جو امریکہ یا اسرائیل سے سفارتی تعلقات رکھتے ہیں، ایران کی حمایت یا مخالفت کے دباؤ میں آ سکتے ہیں۔

    روس، چین اور قطر سفارتی اور ثالثی کوششوں میں سرگرم ہیں تاکہ جنگ کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔ اگر ایران کسی غیر روایتی ہتھیار کا استعمال کرتا ہے یا امریکہ اور اسرائیل مزید تباہ کن حملے کرتے ہیں تو اس کے اثرات عالمی سیاسی اور فوجی اتحادوں پر پڑ سکتے ہیں۔

    تجزیوں کے مطابق جنگ ایک نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ حوثیوں نے بحیرہ احمر میں نئے حملے شروع کیے ہیں۔ امریکہ ’Maximum Pressure 2.0‘ پالیسی کے تحت ایران کی معیشت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ وہ مذاکرات پر مجبور ہو جائے۔

    عرب میڈیا کے مطابق ناروے سمیت کئی ممالک نے خطے سے اپنے فوجی واپس بلانا شروع کر دیے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ ایک بڑی جنگ کے امکانات دیکھ رہے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست جنگ چھڑ گئی تو تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو گا، جس سے عالمی سطح پر مہنگائی کا طوفان آ سکتا ہے۔

    کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین اور قطر ایرانی جوابی حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ ان ممالک نے اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی کی سخت مذمت کی ہے۔ سعودی عرب نے بھی خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال عالمی امن کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ روس نے اسے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے، جبکہ چین نے تحمل کا مشورہ دیا اور امریکی اقدام پر ناراضی ظاہر کی ہے۔

    یورپی ممالک نے اپنے عملے کے انخلا کے ہنگامی منصوبے شروع کر دیے ہیں۔ بیشتر یورپی ممالک نے جنیوا مذاکرات کی ناکامی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اسے ’میجر کامبیٹ آپریشن‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقصد ایران کو ایٹمی ہتھیاروں سے روکنا اور وہاں کے عوام کو آزادی دلانا ہے۔ ایران نے اسے ’اعلانِ جنگ‘ قرار دیا ہے اور اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی اڈوں پر میزائلوں کی پہلی لہر فائر کر دی ہے۔

    عراق، اردن، متحدہ عرب امارات اور قطر نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں، جس سے عالمی سفر اور تجارت متاثر ہوئی ہے۔ عمان کے وزیر خارجہ، جو مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہے تھے، نے کہا کہ امریکہ نے جلد بازی میں مذاکراتی عمل کو تباہ کر دیا ہے۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق یہ صورتحال تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ شام، لبنان، یمن اور عراق بیک وقت جنگ کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں، جس سے لاکھوں افراد بے گھر ہو سکتے ہیں۔ بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ 2026 میں سیاسی کشیدگی کے ساتھ ساتھ پانی کی قلت، خصوصاً دریائے دجلہ اور فرات کے مسئلے پر، بھی ممالک کو آمنے سامنے لا سکتی ہے۔

    چین اور روس ایران کے قریب ہو رہے ہیں جبکہ امریکہ اپنے عرب اتحادیوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔ یہ صورتحال دنیا کو دو بلاکس میں تقسیم کر سکتی ہے۔ عالمی میڈیا اس وقت ’انتظار کرو اور دیکھو‘ کی پالیسی پر ہے۔

    مجموعی طور پر دنیا اس وقت صرف دو ممالک کی جنگ نہیں بلکہ ایک ’نئے عالمی نظام‘ کی تشکیل کے تکلیف دہ مرحلے سے گزر رہی ہے۔ جہاں امریکہ اپنی ’Epic Fury‘ کے ذریعے اپنی بالادستی بچانے کی کوشش کر رہا ہے، وہیں ایران ’اعلانِ جنگ‘ کے ذریعے پورے خطے کو ایک نامعلوم تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔

    اسرائیل کا پاکستان سے متعلق بیان اور افغانستان کے محاذ پر کشیدگی ظاہر کرتی ہے کہ یہ شطرنج کی وہ بازی ہے جس کے مہرے پورے ایشیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اگر جنیوا مذاکرات ’لائف سپورٹ‘ سے بھی ہٹ گئے تو دنیا کو ممکنہ عالمی تصادم سے بچانا شاید کسی کے بس میں نہ رہے۔ آبنائے ہرمز سے لے کر پنجگور کے پہاڑوں تک بارود کی بو اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ امن کا راستہ پہلے سے کہیں زیادہ دور ہو چکا ہے۔