جدید کراچی کے کلفٹن بلاک فور میں واقع جہانگیر کوٹھاری پریڈ کے عین نیچے، زمین کی تہوں میں ایک ایسا تاریخی اور تعمیراتی معجزہ چھپا ہے جو اس شہر کی کثیر الثقافتی بحری روح کا عکاس ہے۔ یہ ‘شری رتنیشور مہادیو مندر’ ہے، ایک ایسا قدیم غار نما مندر جو اپنے اندر کم از کم 150 سے 300 سال کی تاریخ سمیٹے ہوئے ہے۔
جس طرح قیام پاکستان کے بعد کراچی کے عام مسلمانوں کا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ کلفٹن کی پہاڑی پر موجود حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کا مزار شہر کو بحری طوفانوں سے بچاتا ہے، بالکل اسی طرح تقسیم ہند سے قبل کراچی کے قدیم ملاحوں اور ہندو برادری کا یہ ماننا تھا کہ اس زیر زمین غار میں موجود ‘بھگوان شیو کی تیسری آنکھ’ بحیرہ عرب کی بپھری ہوئی لہروں کو قابو میں رکھتی ہے اور شہر کو کسی بھی بڑی سمندری آفت سے محفوظ رکھتی ہے۔
تاریخی شواہد کے مطابق، یہ مندر شروع میں کوئی باقاعدہ عمارت نہیں تھا، بلکہ کلفٹن کی پہاڑی کے نیچے ساحل سمندر پر واقع ایک قدرتی غار تھا۔ روایات بتاتی ہیں کہ قدیم دور میں یہاں ایک تارک دنیا یوگی آ کر مقیم ہوئے، جنہوں نے اس غار کی تنہائی میں طویل چلہ کاٹا اور مراقبہ کیا۔
اسی چلہ کشی کے دوران غار کے اندر میٹھے پانی کا ایک قدرتی چشمہ دریافت ہوا، جو ساحل سمندر کے بالکل قریب ہونے کے باوجود حیرت انگیز طور پر بالکل میٹھا اور لذیذ تھا۔ اس بظاہر ناممکن مظہر فطرت کو قدرت کا کرشمہ مانا گیا اور اس جگہ کو بھگوان شیو مہادیو سے منسوب کر کے باقاعدہ پوجا کا مرکز بنا دیا گیا۔
یہ مندر سندھ کی روایتی بین المذاہب ہم آہنگی کا ایک درخشاں نمونہ رہا ہے۔ برطانوی راج سے بھی پہلے، جب سندھ پر تالپور فرماں رواوں کی حکومت تھی، تو اس مندر کی بڑی اہمیت تھی۔ اس دور میں غار کے اندر مورتیاں نہیں تھیں، بلکہ صرف ایک قدرتی ‘شیو لنگم’ اور ایک بڑا چراغ روشن رہتا تھا۔ تاریخی دستاویزات گواہ ہیں کہ تالپور حکمران اس دیے کو مستقل روشن رکھنے کے لیے ہر ماہ ساڑھے سات سیر (تقریباً ۷ کلو) سرسوں کا تیل سرکاری خرچ پر بطور عطیہ بھیجا کرتے تھے۔
سندھی روایات کے مطابق، سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک جی نے بھی اپنے جوگ کے دوران اس غار میں قیام کیا اور عبادت کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ تقسیم سے پہلے شیو راتری کے میلے میں ہندووں کے ساتھ ساتھ سکھ برادری بھی بڑی تعداد میں یہاں جمع ہوتی تھی۔

ایک تعمیراتی عجوبہ: چھ زیر زمین منزلیں
تعمیر کے لحاظ سے یہ مندر کراچی کا ایک منفرد عجوبہ ہے۔ جہانگیر کوٹھاری پریڈ کے پاس بنے دروازے سے داخل ہوتے ہی سیڑھیاں زمین کے نیچے اترتی چلی جاتی ہیں۔ یہ مندر کل چھ زیر زمین تہوں پر مشتمل ہے۔ اس کے چوتھے زیر زمین لیول پر سنگ مرمر کا ایک خوبصورت اور وسیع صحن بنایا گیا ہے۔ مختلف سطحوں پر بنے جھروکوں اور چٹانی دیواروں میں ہندو دیوی دیوتاوں کی مورتیاں نصب ہیں۔
لوک روایات کے مطابق، اس کی پانچویں منزل پر ایک خفیہ سرنگ بھی موجود تھی جو کلفٹن کے ہی تاریخی موہٹہ پیلس تک جاتی تھی۔ سب سے نچلی سطح پر وہ تاریخی میٹھے پانی کا چشمہ آج بھی بہتا ہے، جس کے پانی کو زائرین انتہائی مقدس مانتے ہیں اور مذہبی رسومات (اشنان اور پوجا) کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
مہا شیو راتری: ماضی اور حال کا سحر انگیز میلہ
ہر سال فروری یا مارچ (ہندو کیلنڈر کے مطابق پھاگن کے مہینے) میں یہاں ‘مہا شیو راتری’ کا سب سے بڑا تہوار منایا جاتا ہے۔ 1920 اور 1930 کی دہائیوں کی پرانی تصاویر اور دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں سمندر کی لہریں سیدھی اس غار اور لیڈی لائیڈ پیئر کی دیواروں سے ٹکراتی تھیں۔
شیو راتری پر ہزاروں خواتین خوبصورت ساڑھیاں پہن کر، اپنے سہاگ کی لمبی عمر کی دعاوں کے ساتھ، پوجا کی تھالیوں میں دیے روشن کر کے صبح صادق ننگے پاوں کلفٹن کی ریت پر چلتی تھیں اور ان دیوں کو لہروں کے سپرد کر کے ‘آرتی’ اتارتی تھیں۔
رات بھر یہاں ‘جاگرن’ (شب بیداری) ہوتا ہے، جہاں ہر تین گھنٹے بعد شیو لنگم کو دودھ، دہی، شہد اور چندن سے غسل دیا جاتا ہے۔ ماضی میں کراچی کے امیر ہندو تاجر اس رات کے لیے خصوصی طور پر ہندوستان سے ‘گنگا جل’ منگوایا کرتے تھے۔ مقامی سندھیوں میں یہ عقیدہ آج بھی راسخ ہے کہ شیو راتری کے ان تین دنوں میں کراچی میں ہلکی بونداباندی لازمی ہوتی ہے، جو قدرت کی طرف سے آشیرباد کا اشارہ ہے۔
مندر کو لاحق خطرات، عدالتی تحفظ اور موجودہ حالت
وقت کے ساتھ ساتھ کلفٹن کے ساحل پر مٹی کے پھیلاو کی وجہ سے سمندر اب مندر سے کافی دور ہو چکا ہے، اور ماضی کی سادہ مٹیالی غار اب سنگ مرمر اور جدید روشنیوں سے آراستہ ہو چکی ہے۔ تاہم، 2014 میں جب کلفٹن ٹریفک پراجیکٹ کے تحت یہاں فلائی اوور اور انڈر پاسز کی کھدائی شروع ہوئی، تو بھاری مشینری کے ارتعاش سے اس قدیم غار کی دیواروں میں خطرناک دراڑیں آ گئیں۔
اس نازک موقع پر پاکستان ہندو پنچائت نے سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ عدالت عظمی کے سخت احکامات کے بعد تعمیراتی کمپنی نے مندر کے ڈھانچے کی سائنسی بنیادوں پر مرمت اور بحالی کی، جس کے بعد آج یہ تاریخی ورثہ مکمل طور پر محفوظ اور فعال ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ آج بھی ہر سال شیو راتری پر پاکستان بھر اور خصوصاً اندرون سندھ سے 25 ہزار سے زائد یاتری اس زیر زمین غار میں اکٹھے ہوتے ہیں۔ شری رتنیشور مہادیو مندر صرف ایک مقتدر مذہبی مقام نہیں ہے، بلکہ یہ کراچی کی اس روادار اور کثیر الثقافتی سمندری تاریخ کی زندہ علامت ہے، جہاں لہروں کا شور، مندر کی گھنٹیاں اور پاس کے عبداللہ شاہ کے مزار کی قوالیاں مل کر اس ساحلی شہر کے امن کی دعا کرتی ہیں۔

