کراچی کے پوش علاقے کلفٹن میں ایک ایسی جگہ بھی ہے جہاں کبھی درخت نہیں بلکہ کچرا تھا۔ جہاں زمین برسوں تک ڈمپنگ گراؤنڈ بنی رہی، وہاں آج ایک گھنا شہری جنگل موجود ہے۔ لیکن اس جنگل کی کہانی صرف درخت لگانے کی نہیں، بلکہ ایک شہری کے خواب، کے ایم سی کی زمین اور ایک ایسے تجربے کی داستان ہے جس نے کراچی میں شہری جنگلات کے تصور کو نئی شناخت دی۔
کلفٹن بلاک فائیو میں نہر خیام کے قریب پلاٹ ایس ٹی تھرٹین پر قائم یہ اربن فاریسٹ جنوری 2016 میں ایک پائلٹ منصوبے کے طور پر شروع ہوا۔ اس منصوبے کا تصور شاہزاد قریشی نے پیش کیا، جو 2015 کی کراچی ہیٹ ویو کے بعد شہر میں مقامی درختوں پر مشتمل شہری جنگل بنانے کے خیال کی طرف متوجہ ہوئے۔
یہ منصوبہ میاواکی طریقے پر بنایا گیا، جس میں مختلف مقامی انواع کے پودے قریب قریب اور مختلف تہوں میں لگائے جاتے ہیں، تاکہ ایک قدرتی جنگل جیسا ماحولیاتی نظام تشکیل پاسکے۔ مقصد صرف زیادہ سے زیادہ درخت لگانا نہیں تھا، بلکہ ایسی جگہ بنانا تھا جہاں مختلف اقسام کے پودے اور جاندار ایک دوسرے کے ساتھ ایک قدرتی نظام کا حصہ بن سکیں۔
اس منصوبے میں پرندوں، تتلیوں، شہد کی مکھیوں، مینڈکوں اور دوسرے جانداروں کے لیے بھی سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ باورچی خانے سے نکلنے والے پھلوں اور سبزیوں کے چھلکوں سے کمپوسٹ تیار کرنے کا انتظام کیا گیا، سبزیاں اور پھل دار درخت اگائے گئے اور ایک چھوٹا تالاب بھی بنایا گیا۔
اس منصوبے میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کا کردار بھی بنیادی تھا۔ کے ایم سی نے سرکاری زمین پر قائم اس جگہ کو پانچ سال کے لیے شاہزاد قریشی کو اپنانے اور شہری جنگل میں تبدیل کرنے کی اجازت دی۔
پانچ سالہ مدت مکمل ہونے کے بعد شاہزاد قریشی نے مئی 2023 میں اربن فاریسٹ کے انتظام کی ذمہ داری کے ایم سی کو واپس کردی۔
اور پھر اس شہری جنگل کے سفر میں ایک نیا مرحلہ شروع ہوا۔
2025 میں بلدیہ عظمیٰ کراچی نے اس شہری جنگل کی دوبارہ دیکھ بھال اور بحالی کا کام شروع کیا۔ درختوں اور پودوں کی کٹائی، راستوں کی صفائی اور مجموعی بحالی پر توجہ دی گئی، تاکہ اس جگہ کو دوبارہ فعال اور سرسبز بنایا جاسکے۔
کلفٹن کا یہ شہری جنگل اس بات کی مثال ہے کہ کراچی جیسے گرم اور گنجان شہر میں ایک محدود شہری جگہ کو بھی قدرتی ماحول میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ جگہ ہمیں ایک اور اہم سبق بھی دیتی ہے۔
جنگل صرف درخت لگانے سے نہیں بنتا۔ اسے پانی، دیکھ بھال، تحفظ اور مستقل انتظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک شہری جنگل کی کامیابی کا اصل امتحان یہ ہے کہ اسے لگانے کے بعد آنے والی نسلوں تک کس طرح زندہ رکھا جاتا ہے۔
کلفٹن کا یہ جنگل آج بھی کراچی کے لیے ایک سوال ہے: کیا ہم صرف نئے درخت لگائیں گے، یا موجودہ درختوں کو بھی محفوظ رکھیں گے؟
یہ ہے ساگا ڈیجیٹل، جہاں ہم پاکستان کی چھپی ہوئی ماحولیاتی کہانیاں آپ تک پہنچاتے ہیں۔



