Tag: کلسٹر

  • کلسٹر اور فاسفورس بم: جنگی حکمتِ عملی یا انسانی المیہ

    کلسٹر اور فاسفورس بم: جنگی حکمتِ عملی یا انسانی المیہ

    جنگ کے حالات میں پروپیگنڈا، نفسیاتی جنگ اور معلومات بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے جنگی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں میزائل صرف فوجی ٹھکانوں پر نہیں بلکہ سیاسی بیانات پر بھی برس رہے ہیں۔ اسرائیل نے جاری جنگ میں مبینہ طور پر کلسٹر بموں سے ایران اور لبنان پر حملے شروع کیے ہیں، جبکہ پروپیگنڈا جنگ کے تحت یہی الزامات ایران پر بھی لگائے جا رہے ہیں۔

    اصل میں کلسٹر بم وہ ہتھیار ہوتے ہیں جو ہوا میں پھٹ کر ایک بڑے علاقے میں بارودی ٹکڑے پھیلا دیتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار درست نشانے کے لیے نہیں بلکہ تباہی کے دائرے کو بڑھانے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ اگر یہ شہری علاقوں میں استعمال ہوں تو نتیجہ صرف فوجی نقصان نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ بن جاتا ہے۔

    اسرائیل گزشتہ دو سالوں سے فلسطین میں کلسٹر بم استعمال کر رہا ہے، جس میں 70 ہزار افراد شہید ہو چکے ہیں۔ یہی نہیں، اسرائیل نے گزشتہ سال حزب اللہ کے خلاف لڑائی میں لبنان کی شہری آبادی پر بھی ان کا استعمال کیا ہے۔

    کلسٹر امیونیشن عالمی سطح پر متنازع ہتھیاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ کئی ممالک نے ان پر پابندی کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں کیونکہ ان کے ’اَن پھٹے‘ ٹکڑے برسوں تک بے گناہ لوگوں کے لیے موت کا جال بنے رہتے ہیں۔

    سوال یہ نہیں کہ یہ ہتھیار موجود ہیں یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ ان کا استعمال کہاں اور کیسے ہو رہا ہے؟ کیا واقعی شہری علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے یا فوجی اہداف کے دعوے کے تحت ایک وسیع جنگی حکمت عملی چل رہی ہے؟ بین الاقوامی انسانی قانون واضح طور پر کہتا ہے کہ فوجی اور شہری اہداف میں فرق رکھنا لازمی ہے۔

    اگر کوئی حملہ ایسا ہو جس میں شہری نقصان فوجی فائدے سے زیادہ ہو تو اسے ’غیر متناسب‘ قرار دیا جاتا ہے۔ اس لیے اب بحث کا مرکز ہتھیار نہیں بلکہ نیت، حکمت عملی اور نتائج ہیں۔

    بموں کے اثرات صرف موجودہ نسل تک محدود نہیں رہتے بلکہ اگلی نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں۔ بمباری والے علاقوں میں پیدا ہونے والے بچے ذہنی کمزوری یا جسمانی معذوری (مثلاً ہاتھ پاؤں کا نہ ہونا) کے ساتھ پیدا ہو سکتے ہیں۔ ریڈیشن شعاعوں کی وجہ سے مردوں اور عورتوں میں افزائشِ نسل کی صلاحیت بھی ختم ہو سکتی ہے۔

    خطرناک بموں کے اثرات صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی بھی ہوتے ہیں۔پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر یعنی دھماکوں کا خوف اور اپنوں کو کھونے کا صدمہ انسان کو مستقل ذہنی مریض بنا سکتا ہے۔ کیمیائی بموں کے حملوں سے جلد جل جانا، اندھا پن اور اعصابی فالج ہو سکتا ہے،

    جبکہ حیاتیاتی بموں سے شدید انفیکشن پھیلتے ہیں۔ جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی میں ایٹمی حملوں کے اثرات آج بھی کچھ خاندانوں کی جینیاتی صحت میں نظر آتے ہیں۔

    کلسٹر اور وائٹ فاسفورس بم جنگی تاریخ کے خطرناک ترین ہتھیاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ وائٹ فاسفورس ایک ایسا کیمیائی مادہ ہے جو ہوا کے رابطے میں آتے ہی جلنا شروع کر دیتا ہے اور تب تک نہیں بجھتا جب تک آکسیجن ختم نہ ہو جائے۔ یہ مادہ جلد کو جلا کر براہِ راست ہڈیوں تک پہنچ جاتا ہے۔

    اس کے زخم عام آگ سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ یہ جسم کے اندر بھی جلتا رہتا ہے۔ اگر فاسفورس جسم میں جذب ہو جائے تو یہ گردوں، جگر اور دل کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے جس سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ اس سے نکلنے والا سفید دھواں سانس کے ذریعے اندر جا کر پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتا ہے جسے Pulmonary Edema کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص طویل وقت تک اس کے اثر میں رہے تو اس کے جبڑے کی ہڈی گلنا شروع ہو جاتی ہے۔

    کلسٹر بم ایک بڑا بم ہوتا ہے جس میں سے سینکڑوں چھوٹے بم (Sub-munitions) نکلتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کئی چھوٹے بم دھماکے کے وقت نہیں پھٹتے۔ یہ اَن پھٹے بم زمین پر پڑے رہتے ہیں اور برسوں بعد جب کوئی بچہ یا کسان انہیں چھوتا ہے تو وہ پھٹ جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں ہاتھ پاؤں کا کٹ جانا یا اندھا پن عام بات ہے۔ ان بموں سے نکلنے والی دھاتیں زمین اور پانی میں مل کر بیماریاں پیدا کرتی ہیں۔ عالمی سطح پر ان کے استعمال پر پابندی ہے اور دنیا کے اکثر ممالک نے اس معاہدے پر دستخط کیے ہیں، مگر اسرائیل اور ایران نے اس چارٹر پر دستخط نہیں کیے۔

    ایٹمی یا کیمیائی ہتھیاروں کا دھماکہ نہ صرف فوری جانی نقصان کرتا ہے بلکہ ان کی شعاعیں نسلوں تک بیماریاں پھیلاتی ہیں۔ ایٹمی دھماکہ انسان کے جینیاتی ڈھانچے (DNA) کو تباہ کر دیتا ہے۔ Acute Radiation Syndrome ایک فوری بیماری ہے جس میں مریض کو شدید دست، الٹیاں اور سر درد ہوتا ہے۔ شعاعیں ہڈیوں کے اندر خون بنانے والے خلیات کو ختم کر دیتی ہیں جس سے خون کی شدید کمی ہو جاتی ہے۔ بچ جانے والے افراد میں برسوں بعد کینسر، خاص طور پر بلڈ کینسر اور تھائیرائڈ کینسر کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

    ایسے ہتھیاروں کے اثرات سے بچنے کے لیے طبی امداد کے طریقے بہت مخصوص ہوتے ہیں۔ فاسفورس کی آگ بجھانے کا واحد طریقہ اسے آکسیجن سے دور کرنا ہے۔ متاثرہ حصے کو فوراً پانی میں ڈبو دیں یا اس پر بہت زیادہ پانی ڈالیں۔ فاسفورس کے ذرات کو ہاتھ کے بجائے چمٹی سے نکالیں اور زخم کو اس طرح ڈھانپیں کہ ہوا اندر نہ جا سکے۔

    کلسٹر بم سے زخمی ہونے والے افراد کا خون روکنے کے لیے مضبوط پٹی باندھنی چاہیے تاکہ مریض صدمے(شاک) میں نہ جائے۔ جسم میں رہ جانے والے چھوٹے ٹکڑوں کو صرف ماہر سرجن ہی نکال سکتے ہیں۔ انفیکشن سے بچنے کے لیے ٹیٹنس کا انجکشن لازمی ہے۔ ماہرین کے مطابق فاسفورس کے زخم پر تیل یا کریم ہرگز نہیں لگانی چاہیے۔

    جنگ جب ٹیکنالوجی کی بلندیوں تک پہنچتی ہے تب بھی اس کے ٹکڑے انسانوں کے جسموں اور گھروں پر ہی گرتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کلسٹر میزائل کس نے بنایا؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا انسانیت اب بھی جنگی حکمت عملیوں سے بڑھ کر کوئی قدر رکھتی ہے؟

    اگر جنگ کا میدان شہری آبادیوں کی چھتوں تک پہنچ جائے تو فتح اور شکست کے اعداد و شمار بے معنی ہو جاتے ہیں، کیونکہ حقیقی ہار ہمیشہ انسانیت کی ہوتی ہے۔

    تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں ختم ہو جاتی ہیں مگر ان کے بارودی ٹکڑے نسلوں تک زخموں کی صورت میں باقی رہتے ہیں۔ اگر ریاستیں انسانی جانوں کو "ضمنی نقصان” (Collateral Damage) سمجھنے لگیں تو بین الاقوامی قانون صرف کاغذوں تک محدود رہ جائے گا، اور جب قانون خاموش ہو جاتا ہے تو انسانیت ہی سب سے بڑی شہید بنتی ہے۔