Tag: کرپٹو

  • دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو چوری، بائنانس سے 6.3 ارب ڈالر کی ڈیجیٹل کرنسی چوری، تین ارب ڈالر منجمد

    دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو چوری، بائنانس سے 6.3 ارب ڈالر کی ڈیجیٹل کرنسی چوری، تین ارب ڈالر منجمد

    دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس سے تقریباً 6 ارب 30 کروڑ ڈالر مالیت کی ڈیجیٹل کرنسی چوری ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ 

    اسے کرپٹو کرنسی کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری قرار دیا جا رہا ہے۔ واقعے کے بعد ڈیجیٹل کرنسی کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی ہوئی ہے، جبکہ بائنانس اور دیگر کرپٹو کمپنیوں نے چوری ہونے والی رقم کا سراغ لگانے اور اسے محفوظ بنانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ٹیتھر، سرکل اور ٹرمپ کا حمایت یافتہ لبرٹی سمیت مختلف کرپٹو کمپنیوں نے چوری سے متعلق تقریباً 3 ارب ڈالر مالیت کی ڈیجیٹل کرنسی منجمد کر دی ہے۔ ان میں ٹیتھر نے تقریباً ایک ارب 57 کروڑ ڈالر جبکہ سرکل نے 80 کروڑ ڈالر سے زیادہ مالیت کی کرپٹو کرنسی منجمد کی ہے۔ اس کے علاوہ ریپل نے بھی تقریباً 20 کروڑ ڈالر کی رقم منجمد کرنے کی کارروائی کی ہے۔

    بائنانس نے کہا ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے اور صارفین کی رقم محفوظ ہے۔ کمپنی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ہیکنگ کے نتیجے میں ہونے والے تمام نقصانات وہ خود برداشت کرے گی۔ کمپنی کے مطابق چوری ہونے والی رقم کا ایک بڑا حصہ تلاش کر لیا گیا ہے اور متعلقہ اداروں کے تعاون سے اسے مزید منتقل ہونے سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    روئٹرز کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کو پیش آیا اور تقریباً 20 منٹ کے دوران بڑی مقدار میں ڈیجیٹل کرنسی بائنانس کے ڈیجیٹل والٹس سے نکال کر ہیکرز کے زیر استعمال والٹس میں منتقل کی گئی۔ امریکی کرپٹو تجزیاتی اداروں ٹی آر ایم لیبز اور چین اینالیسس نے اس حملے کے پیچھے شمالی کوریا کے ہیکرز کے ملوث ہونے کا قوی امکان ظاہر کیا ہے۔

    تحقیقات کرنے والے امریکی اداروں کا کہنا ہے کہ حملے کے طریقہ کار میں شمالی کوریا سے منسوب سابقہ سائبر حملوں سے مماثلت پائی جاتی ہے۔ ٹی آر ایم لیبز کے مطابق حملہ آوروں نے بائنانس کے ایسے ڈیجیٹل والٹس کو استعمال کیا جن کے ذریعے بڑی مقدار میں رقم ہیکرز کے کنٹرول والے والٹس میں منتقل کی گئی۔ تاہم بائنانس کی تحقیقات میں ابھی تک کسی مخصوص فرد یا گروہ کو ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا۔

    بائنانس کے شریک بانی چانگ پینگ ژاؤ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ بظاہر یہ سائبر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ اب کمپنی کے انتظامی امور نہیں چلاتے، لیکن انہیں توقع ہے کہ صارفین کے تمام نقصانات پورے کیے جائیں گے۔

    بائنانس کے شریک سربراہ رچرڈ ٹینگ نے بھی صارفین کو یقین دلایا کہ ان کی رقم محفوظ ہے اور کمپنی تمام نقصانات کی ادائیگی کرے گی۔ کمپنی نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملے کا آغاز اس وقت ہوا جب اس کے ایک انجینئر کا لیپ ٹاپ ہیک کیا گیا۔ اس کے ذریعے حملہ آوروں کو کمپنی کے ایک نظام تک رسائی حاصل ہوئی اور انہوں نے غیر مجاز طریقے سے رقم نکال لی۔

    بائنانس کی سکیورٹی ٹیم اب اس بات کا پتا لگا رہی ہے کہ ہیکرز نے انجینئر کے کمپیوٹر تک کیسے رسائی حاصل کی اور کس طریقے سے ڈیجیٹل والٹس سے رقم منتقل کی۔ سابقہ تحقیقات کے مطابق حملہ آوروں نے کم از کم دو ڈیجیٹل والٹس کی خفیہ معلومات تک رسائی حاصل کی ہو سکتی ہے۔

    تین ارب ڈالر کی رقم منجمد

    روئٹرز کے مطابق ٹیتر نے تقریباً ایک ارب 57 کروڑ ڈالر مالیت کی رقم منجمد کی ہے، جبکہ سرکل نے 80 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی کرپٹو کرنسی کو مزید منتقل ہونے سے روک دیا ہے۔ کرپٹو کمپنی ورلڈ لبرٹی فنانشل نے بھی اپنے مالیاتی شراکت دار بِٹ گو کے ساتھ مل کر رقم منجمد کرنے کی کارروائی کی۔

    بائنانس کی شریک بانی یی ہی کے مطابق تقریباً 2 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مالیت کی مستحکم ڈیجیٹل کرنسی اور ورلڈ لبرٹی کے تقریباً 20 لاکھ ڈالر مالیت کے ٹوکن بھی منجمد کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کرپٹو کمپنی ریپل نے تقریباً 20 کروڑ ڈالر کی رقم منجمد کی۔

    بائنانس نے بتایا کہ اب تک تقریباً تین ارب ڈالر کی چوری شدہ رقم کا سراغ لگا کر اسے منجمد کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ تاہم باقی تین ارب 30 کروڑ ڈالر کے بارے میں واضح معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔ کمپنی نے کہا ہے کہ وہ اگلے 48 گھنٹوں میں رقم نکلوانے کی سہولت دوبارہ شروع کرنے کی توقع رکھتی ہے۔

    کرپٹو کرنسی کی قیمتوں میں کمی

    اس بڑے سائبر حملے کی خبر سامنے آنے کے بعد عالمی مارکیٹ میں کرپٹو کرنسی کی قیمتیں گر گئیں۔ بٹ کوائن کی قیمت کم ہو کر 76 ہزار 368 ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ چھ ہفتوں کی کم ترین سطح تھی۔ اسی طرح ایتھر کی قیمت میں تین فیصد سے زیادہ کمی ہوئی اور یہ 2 ہزار 178 ڈالر تک آ گئی۔

    بائنانس سے منسلک ڈیجیٹل کرنسی بی این بی کی قیمت بھی تقریباً پانچ فیصد کم ہو کر 709 ڈالر 70 سینٹ رہ گئی۔ امریکی کرپٹو ایکسچینج کوائن بیس کے حصص میں تقریباً 4.8 فیصد جبکہ بٹ کوائن میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنی اسٹریٹیجی کے حصص میں تقریباً چھ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے بھی عالمی کرپٹو مارکیٹ کو بلند شرح سود اور سرمایہ کاری میں کمی جیسے مسائل کا سامنا تھا۔ ہانگ کانگ کی کمپنی ہیش کی گروپ کے سینئر محقق ٹم سن کے مطابق اس واقعے کے بعد سرمایہ کار مرکزی کرپٹو ایکسچینج میں اپنی رقم رکھنے کے خطرات پر دوبارہ غور کر سکتے ہیں۔

    روئٹرز کے مطابق بائنانس دنیا کا سب سے بڑا کرپٹو کرنسی ایکسچینج ہے، جس کے دنیا بھر میں 33 کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ صارفین ہیں۔ کمپنی کی 2025 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق اس کے پاس صارفین کے تقریباً 162 ارب 80 کروڑ ڈالر کے ڈیجیٹل اثاثے محفوظ تھے۔

    کمپنی نے سائبر حملوں سے صارفین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک ارب ڈالر کا خصوصی فنڈ بھی قائم کر رکھا ہے۔ یہ فنڈ مکمل طور پر بٹ کوائن پر مشتمل ہے۔ تاہم موجودہ حملے میں چوری ہونے والی رقم اس خصوصی فنڈ سے بھی چھ گنا سے زیادہ ہے۔

    ماہرین کے مطابق یہ واقعہ کرپٹو کرنسی کی صنعت کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ گزشتہ سال تقریباً 150 سائبر حملوں میں 2 ارب 90 کروڑ ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی چوری ہوئی تھی۔ رواں سال ستمبر میں کرپٹو ایکسچینج بِٹ گیٹ نے بھی اپنے نظام سے تقریباً 35 کروڑ ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی چوری ہونے کی اطلاع دی تھی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ بائنانس جیسے بڑے ادارے سے اتنی بڑی رقم کی چوری نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ ڈیجیٹل کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے اثاثے کس حد تک محفوظ ہیں اور بڑے کرپٹو ایکسچینج سائبر حملوں سے نمٹنے کے لیے کتنے مؤثر حفاظتی انتظامات رکھتے ہیں۔

  • ٹرمپ نے 2025 میں کرپٹو کاروبار سے 1.4 ارب ڈالر سے زائد آمدنی ظاہر کر دی

    ٹرمپ نے 2025 میں کرپٹو کاروبار سے 1.4 ارب ڈالر سے زائد آمدنی ظاہر کر دی

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تازہ مالیاتی گوشواروں میں انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے 2025 کے دوران اپنی خاندانی کرپٹو کرنسی سے متعلق کاروباری سرگرمیوں سے 1.4 ارب ڈالر سے زائد آمدنی حاصل کی۔ اس طرح ڈیجیٹل اثاثے اب ان کی ذاتی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ بن کر سامنے آئے ہیں۔

    امریکی دفتر برائے سرکاری اخلاقیات میں جمع کرائے گئے سالانہ مالیاتی گوشواروں کے مطابق ٹرمپ کی کمپنیوں کو ‘ورلڈ لبرٹی فنانشل’ نامی کرپٹو منصوبے سے تقریباً 80 کروڑ ڈالر کی آمدنی ہوئی۔ یہ منصوبہ ٹرمپ اور ان کے بیٹوں نے مشترکہ طور پر شروع کیا تھا۔

    دستاویزات کے مطابق اس آمدنی میں 52 کروڑ ڈالر سے زائد کرپٹو ٹوکنز کی فروخت سے حاصل ہوئے، جبکہ 25 کروڑ ڈالر سے زیادہ اس منصوبے میں کاروباری حصص فروخت کرنے سے حاصل کیے گئے۔ اس کے علاوہ ٹرمپ نے اپنے نام سے منسوب ‘میم کوائن’ کی فروخت سے مزید 63 کروڑ 50 لاکھ ڈالر آمدنی ظاہر کی ہے۔

    مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ٹرمپ کی دولت کے ذرائع میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور اب ان کی زیادہ تر آمدنی کرپٹو کرنسی سے وابستہ منصوبوں سے آ رہی ہے۔

    ایک سال قبل جمع کرائے گئے مالیاتی گوشواروں میں ٹرمپ نے ورلڈ لبرٹی فنانشل سے صرف پانچ کروڑ 73 لاکھ 50 ہزار ڈالر آمدنی ظاہر کی تھی، تاہم ایک ہی سال میں یہ رقم کئی گنا بڑھ کر تقریباً 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی۔

    بین الاقوامی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس غیر معمولی اضافے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کرپٹو کاروبار ٹرمپ خاندان کے لیے انتہائی منافع بخش ثابت ہوا ہے۔

    رائٹرز کے تخمینے کے مطابق 2025 میں ٹرمپ کے دوبارہ وائٹ ہاؤس پہنچنے کے بعد سے ان کے خاندان نے کرپٹو منصوبوں سے مجموعی طور پر کم از کم 2.3 ارب ڈالر کمائے ہیں۔

    یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے کرپٹو صنعت کے حق میں متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان میں اس شعبے کے لیے نئے ضابطے متعارف کرانے، اسٹیبل کوائنز سے متعلق قانون سازی کو آگے بڑھانے اور وفاقی اداروں کی سخت نگرانی میں نرمی جیسے فیصلے شامل ہیں۔

    ٹرمپ کے ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر کی کاروباری دلچسپیوں اور حکومتی پالیسیوں کے درمیان مفادات کے ٹکراؤ کا خدشہ موجود ہے۔ ان کے مطابق جب کوئی صدر ایسے شعبے سے براہ راست مالی فائدہ اٹھا رہا ہو جس کے بارے میں حکومتی فیصلے بھی اسی کی انتظامیہ کر رہی ہو تو شفافیت اور غیر جانبداری پر سوالات اٹھنا فطری بات ہے۔

    سابق سرکاری اخلاقیات کے ماہرین نے بھی اس صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی قوانین میں مزید اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں صدور کے ذاتی مالی مفادات اور سرکاری اختیارات کے درمیان واضح حد بندی کی جا سکے۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ان تمام خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنی مالی معلومات قانون کے مطابق مکمل طور پر ظاہر کی ہیں اور تمام کاروباری سرگرمیاں قانونی دائرے میں ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر کی جانب سے شفافیت کے تمام تقاضے پورے کیے گئے ہیں اور مفادات کے ٹکراؤ کا کوئی معاملہ موجود نہیں۔

    اگرچہ کرپٹو کرنسی ٹرمپ کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکی ہے، تاہم ان کے روایتی کاروبار بھی بدستور منافع دے رہے ہیں۔ مالیاتی گوشواروں کے مطابق ان کے گالف ریزورٹس اور دیگر تفریحی مراکز کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

    ان کاروباروں سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدنی 50 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 15 فیصد زیادہ ہے۔

    اس کے برعکس ٹرمپ کے رئیل اسٹیٹ کاروبار میں آمدنی کی رفتار نسبتاً سست رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی کاروباری سلطنت کا مرکز اب روایتی جائیداد سے ہٹ کر تیزی سے ڈیجیٹل اثاثوں اور کرپٹو مارکیٹ کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے مالیاتی گوشوارے اس بات کی واضح مثال ہیں کہ کرپٹو کرنسی کی صنعت نے صرف چند برسوں میں عالمی سرمایہ کاری کے منظرنامے کو کس قدر تبدیل کر دیا ہے۔

    ان کے مطابق دنیا بھر میں ڈیجیٹل اثاثوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے سیاسی اور کاروباری شخصیات کے لیے بھی نئی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کیے ہیں، تاہم اس کے ساتھ شفافیت، احتساب اور مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق بحث بھی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔