کراچی کا صدر ٹاؤن اپنے اندر نوآبادیاتی دور، مذہبی تنوع اور شہری ارتقا کی کئی پرتیں سمیٹے ہوئے ہے، مگر انہی پرتوں میں کچھ مقامات ایسے بھی ہیں جو آہستہ آہستہ نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ پریڈی تھانے سے اردو بازار کی سمت جاتے ہوئے رتن تلاؤ اسٹریٹ ایک مختصر مگر تاریخی گزرگاہ ہے، جس کی لمبائی تقریباً 250 فٹ ہے اور جو پریڈی اسٹریٹ اور ایم اے جناح روڈ کو آپس میں ملاتی ہے۔ اسی گلی کے سامنے پریڈی اسٹریٹ پر ایک قدیم ہندو مت کا مندر رام چندر مندر موجود ہے، جو آج سیمنٹ کی دیواروں میں گھرا ہوا ہے اور اپنی اصل شناخت کھو چکا ہے۔
تاریخی حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس علاقے کا پرانا نام ‘رام تلاؤ’ تھا۔ برطانوی دور کے نقشوں اور شہری ریکارڈز میں اس مقام پر ایک تالاب کا ذکر ملتا ہے، جو ہندو برادری کے لیے مذہبی اور سماجی اہمیت رکھتا تھا۔ تقسیم ہند سے قبل کراچی میں ہندو آبادی خاصی بڑی تھی، اور شہر کے مختلف علاقوں میں چھوٹے بڑے مندروں اور دھرم شالاؤں کا جال بچھا ہوا تھا۔ رتن تلاؤ بھی انہی مذہبی و سماجی مراکز میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
ایک مذہبی تنظیم کی جانب سے مندر کے اطراف میں دیوار تعمیر کراکے عقب میں ایک بڑا دروازہ نصب کرکے اس پر کچھ آیات درج کردی ہیں۔
اس تاریخی مندر کی طرزِ تعمیر، خاص طور پر پتھروں سے بنا گنبد، کراچی کے دیگر ہندو مندروں سے مشابہت رکھتا ہے، جیسے ایم اے جناح روڈ پر واقع سوامی نارائن مندر، جو 19ویں صدی میں تعمیر ہوا تھا اور آج بھی فعال ہے
ایک کم معروف حقیقت یہ ہے کہ کراچی کے قدیم شہری نقشوں میں ‘تلاؤ’ یعنی تالابوں کا تصور عام تھا، جو نہ صرف پانی ذخیرہ کرنے بلکہ مذہبی رسومات کے لیے بھی استعمال ہوتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ شہری توسیع، زمین کی قیمتوں میں اضافہ اور آبادی کے دباؤ نے ان تالابوں کو ختم کر دیا، اور ان کی جگہ عمارتیں کھڑی ہو گئیں۔ رتن تلاؤ کا یہ مندر بھی اسی تبدیلی کی ایک خاموش مثال ہے، جو اب ایک دیوار کے پیچھے چھپ کر رہ گیا ہے۔
مقامی افراد کے مطابق تقریباً تین دہائیاں قبل تک یہاں ایک چوکیدار موجود تھا، جو اس مقام کی دیکھ بھال کرتا تھا، مگر اس کے بعد یہ جگہ مکمل طور پر غیر فعال ہو گئی۔ آج یہ ڈھانچہ نہ صرف اپنی شناخت بلکہ اپنی تاریخی اہمیت کے اعتراف کا بھی منتظر ہے۔
اگر آپ اس مندر کے متعلق مزید معلومات رکھتے ہیں تو براہِ کرم ساگا ڈیجیٹل کو آگاہ کریں

