Tag: کرامت علی

  • پسے ہوئے طبقات کے حقوق اور جنوبی ایشیا میں امن کے قیام کے لیے زندگی وقف کرنے والے کرامت علی

    پسے ہوئے طبقات کے حقوق اور جنوبی ایشیا میں امن کے قیام کے لیے زندگی وقف کرنے والے کرامت علی

    کرامت علی صرف ایک ٹریڈ یونین رہنما نہیں بلکہ ایک استاد، محقق، ادارہ ساز، امن کے سفیر اور جنوبی ایشیا میں عوامی رابطوں اور علاقائی یکجہتی کے مضبوط علمبردار بھی تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے چھ دہائیوں سے زائد عرصے کو مزدوروں، کسانوں، خواتین، اقلیتوں اور دیگر محروم و پسے ہوئے طبقات کے حقوق کے لیے وقف کیے رکھا۔

    ان کی پوری زندگی سماجی انصاف، جمہوری اقدار اور انسانی وقار کے فروغ کی جدوجہد سے عبارت ہے۔

    پاکستان میں مزدور حقوق کی جدوجہد کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو چند ایسی شخصیات سامنے آتی ہیں جنہیں نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ ان نمایاں ناموں میں کرامت علی سرفہرست ہیں۔ 

    20 جون 2024 کو ان کے انتقال کے ساتھ پاکستان کی مزدور تحریک ایک ایسے غیر معمولی رہنما سے محروم ہوگئی جس نے نہ صرف مزدور سیاست کو نئی فکری جہتیں اور مضبوط نظریاتی بنیادیں فراہم کیں بلکہ تحقیق، تربیت، ادارہ سازی اور تنظیمی استحکام کے ذریعے اسے ایک پائیدار اور مؤثر تحریک میں ڈھالنے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔

    ان کی جدوجہد اور خدمات نے مزدور حقوق کے فروغ کو ایک نئی توانائی بخشی۔ آج، جب عاصمہ جہانگیر، آئی اے رحمان اور کرامت علی جیسے جری اور اصول پسند انسانی حقوق کے رہنما ہمارے درمیان موجود نہیں، ملک کو ایسے باوقار، صاحبِ بصیرت اور عوام دوست قائدین کی کمی پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ محسوس ہو رہی ہے۔

    کرامت علی کو 16 اکتوبر 2013 کو بھارتی شہر پٹیالہ میں 'دیدی نرملا دیش پانڈے میموریل ایوارڈ' بھارتی ریاست پنجاب کے صوبائی وزیر شری شرنجیت سنگھ ڈھلوں نے پیش کیا۔

    کرامت علی کی شخصیت کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ صرف احتجاج اور مزاحمت کو ہی جدوجہد کا ذریعہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ علم، مکالمے، تحقیق اور تنظیم سازی کو بھی سماجی تبدیلی کے لیے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مزدور تحریک کو محض احتجاجی سیاست تک محدود رکھنے کے بجائے اسے فکری اور تعلیمی بنیادوں پر استوار کرنے کی مسلسل کوشش کی۔

    یہ کہنا مشکل ہے کہ ملک یا خطے کا کون سا اہم عوامی، جمہوری یا سماجی مسئلہ تھا جس پر کرامت علی نے آواز بلند نہ کی ہو یا کسی نہ کسی شکل میں کردار ادا نہ کیا ہو۔

    کرامت علی مزدور حقوق سے لے کر انسانی حقوق، جمہوریت، وفاقیت، صوبائی خودمختاری، اقلیتوں کے تحفظ، خواتین کے حقوق اور امن کی تحریکوں تک، وہ ہر جگہ متحرک دکھائی دیتے تھے۔ یہاں تک کہ صوبائی خودمختیاری سے لے کر سندھ کے معاملات میں سندھی قوم کے کردار کو بڑھانے کے لیے ان کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔

    قیام پاکستان کے بعد وہ اپنے والدین کے ہمراہ ہجرت کرکے پاکستان آگئے۔ کچھ عرصہ سندھ کے ضلع دادو کے چھوٹے سے قصبے سیتا روڈ میں بھی رہے۔ کرامت علی نے بچپن ہی سے سندھ کے دیہی عوام، خصوصاً غریب اور محنت کش سندھی خاندانوں کی محرومیوں، غربت اور سماجی ناانصافیوں کو بہت قریب سے دیکھا۔ یہی مشاہدات بعد ازاں ان کی سیاسی اور سماجی سوچ کی بنیاد بنے۔

    انہوں نے اپنی پوری زندگی سندھ کے عوام، مزدوروں، کسانوں اور محروم طبقات کے حقوق کے لیے جدوجہد میں گزاری اور ایک زیادہ منصفانہ اور جمہوری معاشرے کے قیام کو اپنا نصب العین بنایا۔

    سندھ کے سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل پر ان کی گہری نظر تھی۔ اپنے قریبی ساتھی اور ممتاز دانشور بی ایم کٹی کے ساتھ ان کا لکھا ہوا ایک طویل مقالہ خاص اہمیت کا حامل ہے، جس میں انہوں نے سندھ کے عوام کے حقِ حکمرانی، وسائل پر اختیار، جمہوری شرکت اور وفاقی ڈھانچے میں صوبائی خودمختاری کے حوالے سے تفصیلی تجاویز پیش کیں۔

    کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود اس مقالے میں دی گئی متعدد سفارشات آج بھی اپنی معنویت برقرار رکھے ہوئے ہیں اور سندھ کے سیاسی و سماجی مسائل کے حل کے لیے قابلِ عمل رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔

    وہ جنوبی ایشیا میں امن اور عوامی رابطوں کے فروغ کے لیے قائم ہونے والی متعدد علاقائی تحریکوں اور پلیٹ فارمز کے بانی رہنماؤں میں شامل تھے۔ ان کا پختہ یقین تھا کہ جنوبی ایشیا کے عوام کے مشترکہ مسائل کا حل باہمی رابطوں، مکالمے اور تعاون میں پوشیدہ ہے۔

    1975 میں روپوشی کے دوران کرامت علی کی ملاقات معروف کتھک رقاصہ شیما کرمانی سے ہوئی۔ بعد میں دونوں رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔

    یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان ہی نہیں بلکہ بھارت، بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک کے سماجی کارکن، مزدور رہنما اور امن پسند حلقے ان کی کمی کو شدت سے محسوس کر رہے ہیں۔

    ملک میں ایوب خان کے مارشل لا کے دور کی طلبہ اور مزدور تحریکیں ہوں، یا ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں 1972 میں کراچی کے صنعتی مزدوروں کے خلاف ہونے والا پولیس آپریشن، بلوچستان میں منتخب جمہوری صوبائی حکومت کی برطرفی کے خلاف احتجاج ہو یا سابق فوجی آمر ضیا کے دور کی مزدور اور عوام دشمن پالیسیاں، کرامت علی ان تمام جدوجہدوں میں صفِ اول کے کارکنوں میں شمار ہوتے تھے۔

    وہ ہر اس تحریک کا حصہ بنے جس کا تعلق جمہوریت، انسانی حقوق اور محنت کش طبقے کے مفادات سے تھا۔ اپنی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کے باعث انہیں کئی مرتبہ گرفتاریوں اور جیل کی صعوبتوں کا بھی سامنا کرنا پڑا، لیکن یہ مشکلات ان کے عزم و استقلال کو متزلزل نہ کرسکیں۔

    ان کی بے چین اور حساس طبیعت انہیں خاموش تماشائی بن کر بیٹھنے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔ مزدوروں، کسانوں یا کسی بھی کمزور طبقے کے خلاف ہونے والی ہر ناانصافی پر وہ سراپا احتجاج بن جاتے تھے اور اپنی آواز بلند کرنا اپنا اخلاقی فرض سمجھتے تھے۔

    قدرتی آفات اور انسانی المیوں کے مواقع پر بھی کرامت علی ہمیشہ پیش پیش نظر آتے تھے۔ چاہے 2005 کا ہولناک زلزلہ ہو جس نے کشمیر اور خیبر پختونخوا کے وسیع علاقوں کو تباہی سے دوچار کر دیا، یا 2010 کا خطرناک سپر سیلاب جس نے لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا، کرامت علی نے متاثرین کی بحالی اور امدادی سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔

    وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ قدرتی آفات کا سب سے زیادہ بوجھ غریب اور محنت کش طبقے کو برداشت کرنا پڑتا ہے، اس لیے بحالی کی پالیسیوں میں سماجی انصاف کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔ اور پھر عالمی وبا کورونا (کرونا) یا کووڈ 19 کے دوران جب لاک ڈاؤن لگے تو انہوں نے مزدور حقوق کے عملی اقدام کیا اور بے روزگار ہوئے مزدوروں کو مالی امداد دلائی۔

    اسی طرح 11 ستمبر 2012 کو کراچی کے صنعتی علاقے سائیٹ بلدیہ ٹاؤن میں واقع علی انٹرپرائزز گارمنٹس فیکٹری میں لگنے والی ہولناک آگ، جس میں 250 سے زائد مزدور زندہ جل کر جاں بحق ہوگئے، نے انہیں شدید متاثر کیا۔ اس انسانی سانحے کے بعد انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے لیے انصاف، معاوضے اور محفوظ کام کے ماحول کی فراہمی کے مطالبات کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    ان کی کوششوں کا مقصد صرف متاثرین کے لیے مالی امداد حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ صنعتی اداروں میں حفاظتی قوانین کے نفاذ اور مزدوروں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا بھی تھا۔ کرامت علی کی ہی کاوش تھی کہ سندھ حکومت نے ہر سال 11 ستمبر کو صحت و سلامتی کا دن منانے کا فیصلہ کیا۔

    اس کے ساتھ ساتھ سندھ اسمبلی نے کاروباری اور صنعتی اداروں میں ہیلتھ اور سیفٹی کو یقینی بنانے کے لیے ایک نیا لیبر قانون متعارف کرایا جس کا نام ہے: سندھ آکیوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ ایکٹ 2017.

    آئینِ پاکستان میں اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی خودمختاری کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ اس ترمیم کے نتیجے میں کنکرنٹ لسٹ ختم کردی گئی اور متعدد وفاقی محکمے صوبوں کو منتقل ہوگئے۔ کرامت علی ان سماجی کارکنوں اور ماہرین میں شامل تھے جو سینیٹر رضا ربانی کی قیادت میں اس آئینی اصلاحات کے حقیقی اور مکمل نفاذ کے لیے مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔

    کرامت علی کا مؤقف تھا کہ صوبائی خودمختاری کا تصور اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک محنت، سماجی تحفظ اور کارکنوں کی فلاح سے متعلق تمام اختیارات اور ادارے بھی مکمل طور پر صوبوں کے حوالے نہ کر دیے جائیں۔

    ان کے نزدیک اس عمل کی سب سے بڑی خامی یہ تھی کہ ایمپلائیز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن(ای او بی آئی) کو وفاقی کنٹرول میں برقرار رکھا گیا۔ کرامت علی کا استدلال تھا کہ جب لیبر کے بیشتر معاملات صوبوں کو منتقل ہوچکے ہیں تو مزدوروں کی پنشن اور سماجی تحفظ سے متعلق ادارہ بھی صوبائی دائرہ اختیار میں آنا چاہیے۔

    انہوں نے اس مقصد کے لیے مسلسل آواز بلند کی، مضامین لکھے، سیمینار منعقد کیے اور پالیسی سازوں سے رابطے کیے۔ یہ وجہ ہے کہ سندھ اسمبلی نے دی سندھ ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس ایکٹ 2016 بھی پاس کرلیا، مگر وفاقی حکومت کی ہٹ دھرمی کے باعث ای او بی آئی سندھ میں نہیں بن سکا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ای او بی آئی کے پاس موجود اربوں روپے کے پنشن فنڈز اور اس سے جڑے انتظامی و سیاسی مفادات ہیں۔

    آج بھی یہ ادارہ وفاقی کنٹرول میں ہے، جسے کرامت علی صوبائی خودمختاری کے تصور میں ایک اہم ادھورا باب قرار دیتے تھے۔

    اسی طرح 18 ویں ترمیم کے نتیجے میں آرٹیکل 25-اے کے تحت تعلیم کو بنیادی حق کے طور تسلیم کیا گیا تھا۔ صوبہ سندھ میں اس پر عمل درآمد کے لیے انہوں نے دیگر سماجی تنظیموں سے مل کر سندھ ہائی کورٹ میں آئینی پٹیشن دائر کی جس کے نتیجے میں ہائی کورٹ کے حکم پر صوبائی حکومت نے لازمی تعلیم کا قانون ’سندھ میں  بچوں کے مفت اور لازمی تعلیم کے حق کا قانون، 2013 بنایا۔

    اس پر عمل درآمد کے لیے بھی انہوں نے سندھ ہائی کورٹ میں ایک اور پٹیشن دائر کی۔

    اسی طرح جب سندھ حکومت 2011 میں اس وقت کے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو ہٹایا تو پائلر سے کرامت علی، اورنگی پائلٹ پراجیکٹ ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (او پی پی۔آر ٹی آئی) سے عقیلہ اسماعیل، اربن ریسورس سینٹر (یو آر سی)، سابق سٹیزنز پولیس لائزان کمیٹی کے سربراہ ناظم ایچ حاجی اور مشہور سنگر شہزاد رائے کی زندگی ٹرسٹ نے سندھ میں پولیس اصلاحات کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی۔

    درخواست سینئر وکیل فیصل صدیقی کے ذریعے جمع کرائی گئی۔ درخواست گزاروں نے سندھ پولیس آرڈر 2002 کی بحالی اور 2011 کے قانون کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی۔ 28 دسمبر 2016 کو سندھ ہائی کورٹ نے اس وقت کے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کے تبادلے کے خلاف حکمِ امتناع جاری کیا۔

    درخواست میں مطالبہ کیا گیا کہ پولیس آرڈر 2002 پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور اس کی نگرانی کے لیے ایک آزاد کمیشن قائم کیا جائے۔ ہائی کورٹ کے اس حکم کی تعمیل میں سندھ حکومت نے 2019 میں پولیس آرڈر 2002 کے تحت صوبائی پبلک سیفٹی اینڈ پولیس کمپلینٹس کمیشن قائم کیا۔

     اس 12 رکنی کمیشن میں منتخب عوامی نمائندوں کے ساتھ سول سوسائٹی کے چھ آزاد اراکین بھی شامل تھے، جن میں کرامت علی ناظم حاجی، بیریسٹر حیا ایمان زاہد اور روبینہ بروہی نمایاں تھے۔

    کمیشن کا مقصد پولیس کی کارکردگی کی نگرانی، عوامی شکایات کا جائزہ لینا اور پولیسنگ کے نظام کو بہتر بنانا تھا۔ کرامت علی نے بطور رکن پولیس کے احتساب، شفافیت اور شہری حقوق کے تحفظ کے لیے فعال کردار ادا کیا اور کمیشن کو مؤثر بنانے کے لیے مسلسل آواز بلند کی۔

     مگر سندھ حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث کرامت علی اس کمیشن سے شدید مایوس تھے۔ مایوسی کا اظہار انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں بھی کیا۔

    کرامت علی کی زندگی اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ اصولی جدوجہد، فکری دیانت اور عوامی وابستگی کے ذریعے معاشرے میں دیرپا تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ وہ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے نہ صرف مزدور تحریک کی تاریخ رقم کی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے جدوجہد، استقامت اور سماجی ذمہ داری کی ایک روشن مثال بھی قائم کی۔

    ابتدائی زندگی اور شعور کی تشکیل

    کرامت علی 1945 میں ایک محنت کش اور متوسط طبقے کے گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ کا تعلق مشرقی پنجاب کے ضلع گورداسپور سے تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد ان کے والدین ہجرت کرکے ابتدائی طور پر لاہور میں آئے اور بعد ازاں ملتان منتقل ہوگیا، جہاں کرامت علی نے اپنی زندگی کے ابتدائی سال گزارے۔

    کرامت علی کی شخصیت میں مذہبی رواداری، برداشت اور تنوع کو قبول کرنے کی جو وصف نمایاں نظر آتی ہے، اس کی جڑیں ان کے خاندانی ماحول میں پیوست تھیں۔ ان کے والد کا تعلق شیعہ مکتبِ فکر سے تھا، جبکہ والدہ سنی مسلک سے تعلق رکھتی تھیں۔

    یہی وجہ تھی کہ انہوں نے بچپن ہی سے مختلف عقائد اور نظریات کے احترام، مذہبی ہم آہنگی اور انسانی مساوات کا سبق سیکھا، جو بعد میں ان کی سیاسی اور سماجی فکر کا اہم حصہ بن گیا۔

    ان کے والد محکمہ جنگلات میں ایک نچلے درجے کے سرکاری ملازم تھے۔ محدود آمدنی کے باعث خاندان کی معاشی حالت زیادہ مستحکم نہیں تھی۔ جب ان کے والد ریٹائر ہوئے تو گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے تقریباً پورے خاندان کو محنت مزدوری کرنا پڑی۔

    ملتان میں قیام کے دوران ان کی والدہ اور چاروں بہنوں نے ایک ٹیکسٹائل فیکٹری کے لیے ہوم بیسڈ ورکرز کے طور پر گھر میں ہی کام شروع کیا، جبکہ ان کے والد کالونی ٹیکسٹائل ملز میں غیر ہنرمند مزدور کی حیثیت سے ملازم ہوگئے۔

    گھر کے افراد کو محنت کرتے دیکھنا اور معاشی مشکلات کا براہِ راست مشاہدہ کرنا کرامت علی کے لیے ایک ایسی عملی درسگاہ ثابت ہوا جس نے انہیں محنت کش طبقے کے مسائل سے گہری وابستگی عطا کی۔

    اگرچہ خاندان کو معاشی مشکلات کا سامنا تھا، تاہم ان کے والد کی خواہش تھی کہ ان کا بڑا بیٹا تعلیم حاصل کرے اور بہتر مستقبل کی جانب قدم بڑھائے۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے کرامت علی کو کراچی بھیج دیا، جہاں ان کی بڑی بہن شادی کے بعد آباد تھیں۔ چنانچہ کرامت علی 1951 سے کراچی میں اپنی بہن کے ساتھ رہنے لگے۔

    انہوں نے دوسری جماعت سے ساتویں جماعت تک کی تعلیم کراچی میں حاصل کی۔ اس کے بعد وہ دوبارہ ملتان واپس چلے گئے اور اپنے والدین کے ساتھ رہائش اختیار کرلی۔

    ملتان واپسی کے بعد انہوں نے اپنی تعلیم جاری رکھی اور میٹرک مکمل کرنے کے بعد شہر کے معروف تعلیمی ادارے گورنمنٹ ایمرسن کالج میں داخلہ لیا۔ یہی وہ زمانہ تھا جب ملک جنرل ایوب خان کے سخت مارشل لا کے زیر اثر تھا۔ 1962 میں وہ انٹرمیڈیٹ کے دوسرے سال کے طالب علم تھے کہ طلبہ سیاست میں سرگرم ہوگئے۔ اس دور میں طلبہ یونینوں پر مختلف پابندیاں عائد تھیں اور سیاسی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی تھی۔

    تاہم صدارتی انتخابات کے بعد جنرل ایوب خان کو اپنے اقتدار کو جمہوری رنگ دینا پڑا، جس کے نتیجے میں کچھ عرصے کے لیے طلبہ یونینوں پر عائد پابندیوں میں نرمی کی گئی۔ یہی وہ موقع تھا جب ملک بھر میں طلبہ سیاست ایک بار پھر متحرک ہوئی اور کرامت علی بھی اس تحریک کا حصہ بن گئے۔

    اپنی خودنوشت ‘راہ گزر تو دیکھو’ میں کرامت علی لکھتے ہیں: ‘ان دنوں کراچی کے متعدد معروف طلبہ رہنماؤں کو شہر بدر کردیا گیا تھا۔ ان رہنماؤں میں علی مختار رضوی، معراج محمد خان، فتحیاب علی خان، نفیس صدیقی، جوہر حسین اور باقر عسکری جیسے نام شامل تھے۔’

    ابتدا میں یہ رہنما سکھر اور بعد ازاں بہاولپور چلے گئے، لیکن وہاں بھی انہیں قیام کی اجازت نہ مل سکی۔ جب یہ رہنما ملتان پہنچے تو مقامی طلبہ نے ان کے حق میں ایک بھرپور اور منظم تحریک چلائی۔ کرامت علی بھی اس تحریک میں پیش پیش تھے۔ طلبہ کے دباؤ اور مسلسل احتجاج کے نتیجے میں ضلعی انتظامیہ کو انہیں ملتان میں رہنے کی اجازت دینا پڑی۔ کچھ ہی عرصے بعد حکومت نے ان طلبہ رہنماؤں کی کراچی بدری کے احکامات واپس لے لیے اور وہ دوبارہ کراچی چلے گئے۔

    کرامت علی نے کالج کی تعلیم ادھوری چھوڑ دی اور ایک مرتبہ پھر کراچی منتقل ہوگئے، جہاں انہوں نے ایک فیکٹری میں اپرنٹس کے طور پر کام شروع کیا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جس نے ان کی زندگی کا رخ متعین کیا۔ فیکٹری میں کام کرتے ہوئے انہوں نے مزدوروں کے حالات، استحصال اور کام کے سخت ماحول کو قریب سے دیکھا۔ 1963 کی مزدور تحریک میں انہوں نے بھرپور حصہ لیا اور مزدور حقوق کے لیے ان کی عملی جدوجہد کا آغاز بھی اسی دور سے ہوا۔

    کراچی میں فیکٹری کی ملازمت کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ انہوں نے ایس ایم سائنس کالج سے پری میڈیکل میں انٹرمیڈیٹ پاس کی۔ اسی زمانے میں ان کا دوبارہ رابطہ ان طلبہ رہنماؤں سے ہوا جن سے ملتان میں تعلق قائم ہوا تھا۔ انہی رہنماؤں نے انہیں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (این ایس ایف) میں شامل ہونے کی ترغیب دی، جو اس دور کی سب سے متحرک ترقی پسند طلبہ تنظیم سمجھی جاتی تھی۔

    بعد ازاں انہوں نے کراچی کے جناح کالج میں بی ایس سی میں داخلہ لے لیا اور طلبہ سیاست میں مزید سرگرم ہوگئے۔

    1967 میں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے سالانہ کنونشن میں ذوالفقار علی بھٹو نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ یہ وہ دور تھا جب جنرل ایوب خان نے تاشقند معاہدے کے بعد بھٹو کو کابینہ سے الگ کردیا تھا اور بھٹو پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام کی تیاری کر رہے تھے۔

    کرامت علی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ان کے کئی قریبی ساتھی اور این ایس ایف کے رہنما بعد میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے، جن میں معراج محمد خان نمایاں تھے۔ تاہم انہوں نے اور کئی اور ساتھیوں نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کی۔ ان کے بقول اس وقت بھٹو بعض معاملات میں جماعتِ اسلامی کے ساتھ سیاسی قربت رکھتے تھے، جبکہ وہ اور ان کے ساتھی جماعتِ اسلامی کی سیاست کے سخت ناقد تھے۔

    اسی وجہ سے انہوں نے پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کے بجائے مولانا عبدالحمید بھاشانی کی نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کے ساتھ سیاسی وابستگی برقرار رکھی اور ترقی پسند و بائیں بازو کی سیاست کے راستے پر گامزن رہے۔

    یہی وہ سیاسی، سماجی اور فکری تجربات تھے جنہوں نے کرامت علی کی شخصیت کو تشکیل دیا اور انہیں آگے چل کر پاکستان کے نمایاں مزدور رہنماؤں، بائیں بازو کے سیاسی کارکنوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سماجی مفکرین کی صف میں لا کھڑا کیا۔

    طلبہ سیاست سے مزدور تحریک تک

    1960 اور 1970 کی دہائیاں پاکستان میں سیاسی بیداری، عوامی مزاحمت اور جمہوری جدوجہد کا دور تھیں۔ کرامت علی بھی انہی حالات میں سیاسی طور پر پروان چڑھے اور انہوں نے طلبہ سیاست کے تجربے اور نظریاتی تربیت کو مزدور تحریک میں منتقل کیا۔

    بی ایس سی کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے کراچی یونیورسٹی میں فلسفے کے شعبے میں داخلہ لیا، مگر  وہ اپنی تعلیم مکمل نہ کرسکے۔ ان کا رجحان مسلسل مزدور سیاست اور ٹریڈ یونین سرگرمیوں کی طرف بڑھتا جارہا تھا، یہاں تک کہ انہوں نے مزدور تحریک کو اپنی زندگی کا مستقل راستہ بنانے کا فیصلہ کرلیا۔

    اسی دوران ان کی شادی 1970 میں اپنی کالج کی ہم جماعت اصغری جیلانی سے ہوئی، جن سے ان کی دو بیٹیاں شازیہ اور سونیا ہیں۔ تاہم ان کی زندگی کا محور مسلسل سماجی اور سیاسی سرگرمیاں ہی رہیں۔ 1971 میں انہیں معروف مصور اور خطاط صادقین کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔

    وہ لاہور منتقل ہوگئے اور تقریباً ایک سال تک صادقین کے ساتھ لاہور میوزیم میں خطاطی اور فنونِ لطیفہ کے مختلف منصوبوں پر کام کرتے رہے۔ یہ دور ان کی فکری اور جمالیاتی تربیت میں بھی اہم ثابت ہوا۔

    دسمبر 1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور سقوطِ ڈھاکا کے سانحے نے پورے ملک کی طرح کرامت علی کو بھی گہرے طور پر متاثر کیا۔ اس کے بعد وہ کچھ عرصے کے لیے کراچی واپس آئے، جہاں ان کے دوستوں اور ساتھیوں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ مزدور تحریک میں کل وقتی طور پر شامل ہوجائیں۔

    کرامت علی پہلے ہی محنت کش طبقے کے مسائل سے گہری وابستگی رکھتے تھے، اس لیے انہوں نے یہ مشورہ قبول کرلیا۔

    اس فیصلے کے بعد وہ لاہور واپس گئے اور صادقین سے اپنی علیحدگی اور مزدور تحریک میں مکمل وقت دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ صادقین اس فیصلے سے خوش نہیں تھے اور انہیں افسوس بھی ہوا کہ ایک باصلاحیت نوجوان فنونِ لطیفہ کا میدان چھوڑ رہا ہے، لیکن کرامت علی کے ذہن و دل پر مزدور تحریک کا ایسا اثر تھا کہ وہ اپنی زندگی کو اسی جدوجہد کے لیے وقف کرنے کا فیصلہ کرچکے تھے۔

    چنانچہ وہ کراچی واپس آگئے اور متحدہ لیبر فیڈریشن (ایم ایل ایف) میں شمولیت اختیار کرکے باقاعدہ طور پر ٹریڈ یونین تحریک کا حصہ بن گئے۔

    1972 اور 1973 کے دوران مزدور تحریک اپنے عروج پر تھی۔ کراچی کے صنعتی علاقوں، خصوصاً سائٹ اور کورنگی انڈسٹریل ایریاز میں مزدوروں کی تنظیم سازی، ہڑتالوں اور احتجاجی تحریکوں کے نتیجے میں کشیدگی بڑھ گئی۔ ان تحریکوں کے دوران کئی مزدور کارکن جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔

    کرامت علی ان تمام سرگرمیوں میں صفِ اول کے کارکنوں میں شامل تھے اور اسی وجہ سے انہیں کئی مرتبہ گرفتار بھی کیا گیا۔

    1973 میں ایک مرتبہ پھر ان کے اور ان کے ساتھیوں کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری ہوئے۔ اس موقع پر کرامت علی اور ان کے ساتھی عثمان بلوچ نے فیصلہ کیا کہ وہ خود کو گرفتاری کے لیے پیش نہیں کریں گے اور زیرِ زمین رہ کر تحریک کو جاری رکھیں گے۔

    پولیس نے انہیں گرفتار کرنے کے لیے ان کے گھر پر چھاپہ مارا، لیکن جب وہ نہ ملے تو پولیس ان کے والد کو اپنے ساتھ لے گئی اور پیغام دیا کہ جب تک کرامت علی گرفتاری نہیں دیں گے، ان کے والد کو رہا نہیں کیا جائے گا۔

    کرامت علی بعد میں اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کرتے تھے کہ انہوں نے سائٹ ٹاؤن کے اس وقت کے ایس پی کو فون کرکے واضح کیا کہ وہ گرفتاری دینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

    انہوں نے پولیس کو متنبہ کیا کہ اگر ان کے والد کے ساتھ کوئی بدسلوکی کی گئی تو اس کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ پولیس نے ان کی والد سے بھی فون پر بات کرائی۔ کرامت علی نے اپنے والد کو بتایا کہ وہ گرفتاری نہیں دیں گے۔  البتہ وہ اس غیر قانونی حراست کے خلاف قانونی کارروائی بھی کریں گے۔ چند دن بعد پولیس نے ان کے والد کو رہا کردیا۔

    ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں اگرچہ مزدور تحریک کو نسبتاً زیادہ سیاسی آزادی حاصل تھی، لیکن جب مزدور تنظیمیں حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے لگیں تو ان کے خلاف کارروائیاں بھی شروع ہوگئیں۔ 1975 میں ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت کرامت علی اور ان کے متعدد ساتھیوں کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے۔ گرفتاری سے بچنے کے لیے انہوں نے کچھ عرصہ روپوشی اختیار کی۔

    اس دوران ان کی ملاقات معروف کلاسیکل کتھک ڈانسر اور پرفارمر، سماجی کارکن اور خواتین کے حقوق کی علمبردار شیما کرمانی سے ہوئی، جو بعد میں ان کی شریکِ حیات بنیں۔ شیما کرمانی نے اس مشکل دور میں انہیں مختلف مقامات پر قیام اور نقل و حرکت میں مدد فراہم کی۔

    کرامت علی بتایا کرتے تھے کہ چونکہ شیما ایک بااثر فوجی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور ان کے پاس اپنی گاڑی بھی تھی، اس لیے وہ نسبتاً آسانی سے ایک مقام سے دوسرے مقام تک سفر کرسکتے تھے اور گرفتاری سے بچنے میں کامیاب رہے۔

    اسی عرصے میں شیما کرمانی کے ایک بھائی، جو لندن میں مقیم تھے، کی مدد سے کرامت علی کچھ عرصے کے لیے پاکستان سے باہر چلے گئے۔ تاہم ان کی وابستگی اور دل چسپی کا مرکز پاکستان کی مزدور تحریک ہی رہی، اس لیے وہ جلد ہی واپس وطن آگئے۔

    پاکستان واپسی کے بعد انہیں دوبارہ گرفتاری اور قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے خاصا وقت جیل میں گزارا، جہاں ان کی ملاقات ملک کی مختلف سیاسی اور قوم پرست تحریکوں سے وابستہ رہنماؤں سے ہوئی۔ ان میں بلوچستان کے متعدد سیاسی کارکن اور رہنما بھی شامل تھے۔ جیل کی یہ زندگی ان کے سیاسی شعور اور قومی سوالات کے بارے میں فہم میں مزید گہرائی پیدا کرنے کا سبب بنی۔

    کرامت علی 1979 میں میر غوث بخش بزنجو کی سربراہی میں قائم نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) میں شامل ہوگئے۔ کراچی میں منعقد پارٹی کنوینشن میں ان کو پارٹی کا لیبر سیکریٹری بنایا گیا۔ انہوں نے میر غوث بخش بزنجو کے سیکریٹری بی ایم کٹی سے مل کر پارٹی کے لیے کام کیا۔ ان کی کٹی سے رفاقت تاعمر قائم رہی۔

    اسی دوران کرامت علی نے معروف مزدور رہنما نبی احمد کے ساتھ مل کر متحدہ لیبر فیڈریشن کو مضبوط اور منظم بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزدور تنظیم سازی، یونین سازی اور صنعتی کارکنوں کے حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔ یہی وہ دور تھا جس نے انہیں پاکستان کی مزدور تحریک کے نمایاں رہنماؤں میں شامل کردیا اور آگے چل کر ان کی پوری زندگی محنت کش طبقے کے حقوق، سماجی انصاف اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے وقف ہوگئی۔

    ہالینڈ میں تعلیم اور بین الاقوامی ٹریڈ یونینز سے روابط

     کرامت علی 1980 میں پہلی بار ہالینڈ گئے۔ وہاں ان کی ملاقات پروفیسر پیٹرواٹرمین سے ہوئے جو انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اسٹڈیز میں پڑھاتے تھے۔ ملاقات کے دوران انہوں نے کرامت علی کو بتایا کہ حال ہی میں انہوں نے لیبر اینڈ ڈیولپمنٹ پروگرام شروع کیا ہے۔

    انہوں نے کرامت علی کو اس ڈگری پروگرام میں داخلہ دینے کی پیش کش کی۔ کرامت علی نے کہا کہ وہ فوراً تعلیم جاری رکھنا نہیں چاہتے مگر وہ یہ ڈگری ضرور کرنا چاہیں گے۔

    پروفیسر پیٹرواٹرمین کی مدد سے ان کو اسکالر شپ اور فیلو شپ کے ساتھ ایڈمیشن بھی مل گیا۔ بعد میں انہوں نے 1984میں  15 ماہ کا ڈگری پروگرام مکمل کیا اور واپس پاکستان لوٹے۔

    ہالینڈ میں قیام کے دوران کرامت علی کی ملاقات وہاں کی فیکلٹی میمبر امرتا چھاچھی سے ہوئی، جو ایک انڈین شہری تھی۔ سکھ چھاچھی خاندان بٹوارے کے دوران انڈیا ہجرت کرکے چلا گیا تھا۔ ان کی یہ ملاقاتیں بہت جلد رشتہ ازدواج میں تبدیل ہوگئیں۔ امرتا اور کرامت علی کا بیٹا سوربھ علی انگلینڈ میں تعلیم مکمل کرکے آج کل الیکٹرکل انجنیئر ہیں۔

    تعلیم کے دوران ان کی ملاقات ایک اور ماہر پروفیسر ہینک تھامس سے ہوئی، جو پاکستان میں کئی مرتبہ جا چکے تھے۔ پروفیسر ہینک تھامس سیالکوٹ کے مرے کالج میں پڑھاتے بھی رہے تھے۔ انہوں نے پائلر کے قیام کے لیے کرامت علی کی کافی مدد کی۔

    پائلر کا قیام: ایک تاریخی اور دور رس اقدام

    متحدہ لیبر فیڈریشن کے ساتھ عملی کام کے تجربے نے کرامت علی کو اس نتیجے پر پہنچایا کہ پاکستان کی مزدور تحریک کو صرف احتجاجی سیاست سے آگے بڑھ کر تحقیق، تربیت اور فکری رہنمائی کے مستقل اداروں کی ضرورت ہے۔

    اسی سوچ کے تحت یکم مئی 1982 کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پائلر) کا قیام عمل میں آیا، جو بعد ازاں پاکستان میں مزدور حقوق، سماجی انصاف اور عوامی پالیسی کے حوالے سے ایک معتبر ادارے کی حیثیت اختیار کرگیا۔

    پائلر کے بانی ارکان میں کرامت علی کے علاوہ ڈاکٹر ذکی حسن، ڈاکٹر قیصر بنگالی، عمر اصغر خان، انیتا غلام علی، رئیس امروہوی، ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو، غازی صلاح الدین، پروفیسر کرار حسین، عثمان بلوچ اور دیگر ممتاز دانشور، ماہرین تعلیم، صحافی اور سماجی کارکن شامل تھے۔

    ابتدائی دنوں میں پائلر کا دفتر متحدہ لیبر فیڈریشن کے دفتر میں قائم کیا گیا، جبکہ اس کے اخراجات اور سرگرمیوں کے لیے بنیادی مالی معاونت مختلف ٹریڈ یونینوں کی جانب سے فراہم کی جاتی تھی۔

    یہ وہ دور تھا جب جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا نے ملک کی سیاسی، سماجی اور مزدور سرگرمیوں کو سخت پابندیوں میں جکڑ رکھا تھا۔ سیاسی جماعتیں دباؤ کا شکار تھیں، ٹریڈ یونینوں کی سرگرمیاں محدود کردی گئی تھیں اور مزدور تحریک تنظیمی کمزوریوں سے دوچار تھی۔

    ایسے ماحول میں کرامت علی اور ان کے ساتھیوں نے محسوس کیا کہ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے صرف احتجاجی تحریکیں کافی نہیں بلکہ ایک ایسے ادارے کی ضرورت ہے جو تحقیق، تربیت اور شعور کی بنیاد پر مزدور قیادت کو مضبوط بنا سکے۔

    پائلر نے قیام کے فوراً بعد مزدور قوانین، صنعتی تعلقات، جبری مشقت، خواتین مزدوروں کے مسائل، سماجی تحفظ، انسانی حقوق اور جمہوری عمل جیسے موضوعات پر تحقیق اور تربیتی سرگرمیوں کا آغاز کردیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ادارہ پاکستان میں مزدوروں کے حقوق سے متعلق علمی اور تحقیقی مواد کا ایک اہم مرکز بن گیا۔

    پائلر کی رپورٹس، مطالعات اور پالیسی تجاویز نے نہ صرف مزدور تنظیموں بلکہ حکومتی اداروں، جامعات اور بین الاقوامی تنظیموں کی بھی توجہ حاصل کی۔

    پائلر نے ملک بھر کے ٹریڈ یونین کارکنوں اور رہنماؤں کے لیے طویل المدتی تربیتی پروگراموں کا آغاز کیا۔ بعض کورسز تین ماہ تک جاری رہتے تھے، جن میں ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے مزدور رہنما شرکت کرتے تھے۔ ان پروگراموں میں جامعات، تحقیقی اداروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین بطور تربیت کار خدمات انجام دیتے تھے۔

    اس تربیتی پروگرام میں تنظیم سازی، اجتماعی سودے بازی، مذاکرات کی مہارت، تحقیقی طریقہ کار، میڈیا سے روابط، قیادت سازی، انسانی حقوق، جمہوری اقدار اور سماجی انصاف جیسے موضوعات شامل ہوتے تھے۔ ان پروگراموں سے ہزاروں مزدور کارکنوں نے استفادہ کیا اور بعد ازاں ملک کی مختلف صنعتوں اور شعبوں میں مؤثر قیادت کے طور پر ابھرے۔

    پائلر کی تاریخ میں سال 2000 ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جب ادارہ اپنے کرائے کے دفتر سے منتقل ہوکر کراچی کے علاقے گلشنِ معمار میں ایک مستقل اور وسیع سینٹر قائم ہوا۔ یہ عمارت معروف آرکیٹیکٹ اور سماجی مفکر عارف حسن کی نگرانی میں تعمیر ہوئی۔

    کرامت علی کا خواب تھا کہ پاکستان میں مزدور تحریک کا ایک ایسا مستقل مرکز قائم ہو جہاں تربیت، تحقیق، مکالمہ، ثقافتی سرگرمیاں اور عوامی مباحث ایک ہی چھت تلے فروغ پا سکیں۔ آج پائلر سینٹر نہ صرف مزدور کارکنوں بلکہ طلبہ، محققین، صحافیوں، سماجی کارکنوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے لیے ایک اہم علمی و فکری مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔

    علی انٹرپرائزز فیکٹری سانحہ اور انصاف کی جدوجہد

    11 ستمبر 2012 کو کراچی کے صنعتی علاقے سائٹ بلدیہ میں واقع علی انٹرپرائزز گارمنٹس فیکٹری میں لگنے والی ہولناک آگ نے پاکستان کی صنعتی تاریخ کے بدترین سانحات میں سے ایک کو جنم دیا۔ اس المناک حادثے میں 250 سے زائد مزدور جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔

    حادثے کے فوراً بعد کرامت علی اور پائلر کی ٹیم متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ انہوں نے نہ صرف حادثے کی وجوہات اور ذمہ داران کے تعین کے لیے آواز بلند کی بلکہ متاثرین کے لیے انصاف، معاوضے اور صنعتی اداروں میں حفاظتی قوانین کے مؤثر نفاذ کے مطالبات کو منظم انداز میں قومی اور بین الاقوامی سطح پر اٹھایا۔

    کرامت علی کا مؤقف تھا کہ محفوظ کام کا ماحول ہر مزدور کا بنیادی انسانی حق ہے اور اس حق سے محروم رکھنا ایک سنگین ناانصافی ہے۔

    اگرچہ اس جدوجہد میں متعدد مقامی اور بین الاقوامی ادارے شریک تھے، تاہم متاثرہ خاندانوں کی آواز کو مسلسل زندہ رکھنے اور انصاف کے مطالبے کو عالمی سطح تک پہنچانے میں پائلر کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔

    پائلر نے اپنی بین الاقوامی شراکت دار تنظیموں، بالخصوص کلین کلوتھ کمپین، کی مدد سے جرمنی کی معروف کمپنی کک ٹیکسٹیلین (KiK) سے رابطہ کیا، جو علی انٹرپرائزز سے تیار شدہ ملبوسات خریدتی تھی۔

    کرامت علی اور ان کے ساتھیوں نے مؤقف اختیار کیا کہ عالمی سپلائی چین سے فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے سپلائرز کی فیکٹریوں میں مزدوروں کی حفاظت اور بنیادی حقوق کو یقینی بنائیں۔

    بعد ازاں کک کے نمائندوں نے پاکستان کا دورہ کیا اور پائلر کے ساتھ تفصیلی مذاکرات ہوئے۔ کرامت علی نے مذاکرات کے دوران جرمن کمپنی پر زور دیا کہ وہ اس سانحے کی اخلاقی اور سماجی ذمہ داری قبول کرے اور متاثرہ خاندانوں اور زخمی مزدوروں کے لیے مالی معاونت فراہم کرے۔

    ان مذاکرات کے نتیجے میں کمپنی نے فوری امداد کے طور پر دس لاکھ امریکی ڈالر پائلر کو فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔

    تاہم، کرامت علی نے اس بات پر بھی اصرار کیا کہ یہ رقم براہِ راست ان کے ادارے کو نہ دی جائے بلکہ سندھ ہائی کورٹ کے ذریعے قائم کردہ معاوضہ کمیشن کے ذریعے شفاف انداز میں متاثرین تک پہنچائی جائے۔ ان کی تجویز کو قبول کیا گیا اور امدادی رقم سندھ ہائی کورٹ کے اکاؤنٹ میں منتقل کردی گئی۔

    جنوری 2013 میں سندھ ہائی کورٹ نے جسٹس (ر) رحمت حسین جعفری کی سربراہی میں معاوضہ کمیشن قائم کیا، جبکہ ایک سال کے بعد متاثرہ خاندانوں اور زخمی مزدوروں کے کوائف کی جانچ پڑتال کے بعد معاوضے کی تقسیم کا عمل باقاعدہ شروع ہوا۔

    اس فنڈ میں جرمن کمپنی کی جانب سے دیے گئے دس لاکھ امریکی ڈالر کے علاوہ فیکٹری مالکان سے وصول کیے گئے 6 کروڑ 18 لاکھ روپے اور مقامی مخیر حضرات کے 57 لاکھ روپے بھی شامل کیے گئے۔

    کمیشن نے 256 جاں بحق اور 55 زخمی مزدوروں کی تصدیق کے بعد قانونی تقاضے مکمل کیے اور مرحلہ وار معاوضے کی تقسیم کا عمل مکمل کیا، جس میں تقریباً ایک سال لگا۔

    کرامت علی کا مؤقف تھا کہ متاثرہ خاندانوں کو طویل المدتی مالی تحفظ فراہم کرنا بھی ضروری تھا۔ اسی مقصد کے تحت 2014 میں پائلر نے طویل المدتی معاوضے کی عالمی مہم کا آغاز کیا۔ ابتدا میں کک کمپنی مزید معاوضہ دینے کے لیے تیار نہیں تھی، لیکن کرامت علی اور ان کے بین الاقوامی ساتھیوں نے اس معاملے کو جرمن پارلیمنٹ، جرمن ٹریڈ یونینوں، بین الاقوامی محنت تنظیم (آئی ایل او) اور دیگر عالمی فورمز تک پہنچایا۔

    متاثرہ خاندانوں کے نمائندوں کے جرمنی کے دوروں کا انتظام کیا گیا، متعدد بین الاقوامی کانفرنسوں اور ملاقاتوں میں اس معاملے کو اٹھایا گیا، جبکہ یورپی یونین، جرمن پارلیمنٹ اور آئی ایل او کے وفود کو پاکستان لاکر زمینی حقائق سے آگاہ کیا گیا۔

    بالآخر جرمن حکومت اور آئی ایل او کی معاونت سے ایک تاریخی معاہدہ طے پایا۔سانحے کی چوتھی برسی کے موقع پر ہونے والے اس معاہدے کے تحت کک نے 51 لاکھ 50 ہزار امریکی ڈالر طویل المدتی معاوضے کے طور پر فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔

    یہ رقم متاثرہ خاندانوں کو تاحیات پنشن اسکیم کے ذریعے فراہم کی جارہی ہے۔ اس نظام کی نگرانی آئی ایل او کی سربراہی میں قائم ایک نگران کمیٹی کرتی ہے، جس میں پائلر اور دیگر مزدور تنظیموں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

    جنوبی ایشیا میں امن اور عوامی رابطوں کی جدوجہد

    کرامت علی کی جدوجہد کی حدود پاکستان تک محدود نہیں تھیں۔ وہ جنوبی ایشیا میں امن، جمہوریت، انسانی حقوق اور عوامی رابطوں کے فروغ کے سب سے سرگرم اور مؤثر علمبرداروں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کا یقین تھا کہ خطے کے عوام کو درپیش غربت، عدم مساوات، عسکریت پسندی اور جمہوری بحرانوں کا حل باہمی تعاون اور عوامی یکجہتی میں مضمر ہے۔

    اسی سوچ کے تحت وہ 1994 کو قائم شدہ پاکستان انڈیا پیپلز فورم فار پیس اینڈ ڈیموکریسی (PIPFPD)اور سائوتھ ایشیا الائنس فار پاورٹی رڈکشن (SAAPE) کے بانی رہنماؤں میں شامل ہوئے۔ ان کا ماننا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے عوام کے درمیان روابط، مکالمہ اور ثقافتی تبادلے بڑھائے بغیر خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا۔

    مئی 1998 کو جب انڈیا نے نیوکلیئر ٹیسٹ کیے تو اس کے جواب میں پاکستان نے بھی 28 مئی کو ایٹمی دھماکے کر ڈالے۔ ان دھماکوں کے امن تحریکوں نے زیادہ سرگرمی دکھائی اور دونوں ممالک میں کئی امن گروپ بننا شروع ہوئے۔ پاکستان میں سٹیزنس فار پیس اور پاکستان پیش کولیشن بنیں۔

    نیوکلیئر پھیلاؤ کے خلاف اگلے سال مارچ 1999 پاکستان انڈیا پیپلز فورم فار پیس اینڈ ڈیموکریسی نے کراچی میں تین روزہ امن کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں انڈیا سے بھی کئی مشہور شخصیات نے شرکت کی۔ ان میں پروفیسر رجنی کوٹھاری، دیدی نرملا دیش پانڈے اور اشیش نندی نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال سے بھی لوگوں نے شرکت کی۔

    وہ پیپلز سارک کے قیام اور اس کی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش رہے۔ یہ پلیٹ فارم سرکاری سطح کے سارک فورم کے متوازی عوامی سطح پر قائم کیا گیا تھا تاکہ جنوبی ایشیا کے عوامی مسائل، سماجی انصاف اور انسانی حقوق کے معاملات کو زیادہ مؤثر انداز میں اجاگر کیا جاسکے۔

    کرامت علی نے جنوبی ایشیا کے مزدوروں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے کے لیے ساؤتھ ایشیا لیبر فورم کے قیام اور استحکام میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

    وہ عالمی سماجی تحریکوں سے بھی گہرا تعلق رکھتے تھے اور ورلڈ سوشل فورم کی بین الاقوامی کونسل کے رکن کے طور پر سرگرم رہے۔

    2006 میں کراچی میں منعقد ہونے والے ورلڈ سوشل فورم کے بڑے منتظمین میں بھی ان کا شمار ہوتا تھا۔ اس تاریخی اجتماع میں دنیا بھر سے ہزاروں سماجی کارکنوں، مزدور تنظیموں، خواتین کی تحریکوں، دانشوروں اور امن پسند حلقوں نے شرکت کی۔ کرامت علی نے خصوصاً بھارت سے آنے والے سینکڑوں سماجی کارکنوں کی شرکت کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    کرامت علی آج ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی جدوجہد، ان کے قائم کردہ ادارے، ان کے تربیت یافتہ کارکن اور ان کے نظریات آج بھی زندہ ہیں۔ ان کا ورثہ نہ صرف پاکستان کی مزدور تحریک بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں سماجی انصاف، جمہوریت اور امن کے لیے جاری جدوجہد کا ایک روشن باب ہے۔