آغا خان یونیورسٹی نے پاکستان میں اپنی 38ویں کانووکیشن کے موقع پر 18 ڈگری پروگرامز سے تعلق رکھنے والے 461 طلبہ کو اسناد سے نوازا۔ اسی موقع پر پرنسس زہرہ آغا خان کو باضابطہ طور پر یونیورسٹی کی پہلی پرو چانسلر مقرر کیا گیا۔
پرو چانسلر کی حیثیت سے پرنسس زہرہ آغا خان آغا خان یونیورسٹی میں معیارِ زندگی کو بہتر بنانے سے متعلق ادارہ جاتی کوششوں کی رہنمائی کریں گی۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق یہ تقرری تعلیمی، تحقیقی اور سماجی اثر کے اہداف کو مزید مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
اپنے پیغام میں آغا خان یونیورسٹی کے چانسلر ہز ہائنس آغا خان نے کہا کہ آغا خان یونیورسٹی اور اس کے فارغ التحصیل طلبہ پر ایک غیر معمولی ذمہ داری اور ایک غیر معمولی موقع عائد ہوتا ہے کہ وہ علم کو تخلیق کریں، اسے پھیلائیں اور انسانی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے بروئے کار لائیں۔
اس سال انسٹی ٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ کے بیچلر آف ایجوکیشن پروگرام کے پہلے بیچ کی گریجویشن بھی مکمل ہوئی۔ یونیورسٹی کے مطابق یہ پروگرام تعلیمی نظریات اور عملی تربیت کا جامع امتزاج فراہم کرتا ہے، جو طلبہ کو مختلف تعلیمی ماحول میں مؤثر تدریس کے لیے تیار کرتا ہے۔
آغا خان یونیورسٹی کی پرو چانسلر پرنسس زہرہ آغا خان نے کہا کہ یونیورسٹی کی جغرافیائی توسیع کے باعث آغا خان یونیورسٹی کی موجودگی اب پہلے سے کہیں زیادہ شہروں اور دیہاتوں تک پھیل چکی ہے۔ ان کے مطابق کراچی سے مٹیاری تک اور لاہور سے گلگت تک صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین، اساتذہ اور محققین عوامی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔
یونیورسٹی نے بتایا کہ رسائی اور معیارِ اعلیٰ کے عزم کے تحت وہ پاکستان کو درپیش اہم ترقیاتی چیلنجز سے نمٹنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ رواں سال فارغ التحصیل ہونے والوں میں تقریباً 70 فیصد خواتین شامل ہیں، جسے صنفی فرق کم کرنے کی عملی مثال قرار دیا گیا ہے۔
اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے طالب علم محمد طٰہٰ نسیم نے اساتذہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہیں اعلیٰ ترین معیار تک پہنچنے کی ترغیب دی گئی اور یہ سکھایا گیا کہ ہمدردی کے بغیر عمدگی بے معنی ہے۔
یونیورسٹی کے مطابق اس کے فارغ التحصیل طلبہ ملک میں صحت کے شعبے میں افرادی قوت کی کمی پوری کرنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں نرسوں کا تناسب آبادی کے لحاظ سے ہر 10 ہزار افراد پر 5.2 ہے، آغا خان یونیورسٹی کے سابق طلبہ اب تقریباً 80 نرسنگ اور مڈوائفری اسکولوں میں قیادتی عہدوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
سنہ 2025 میں آغا خان یونیورسٹی نے تحقیق کے لیے 100 ملین امریکی ڈالر سے زائد کی فنڈنگ حاصل کی۔ یونیورسٹی کے 27 فیکلٹی اراکین کو ایک عالمی تحقیقی مطالعے میں دنیا کے سرفہرست دو فیصد سائنس دانوں میں شامل کیا گیا۔
آغا خان یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر سلیمان شہاب الدین نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان ہمہ گیر اور وسیع النظر سوچ رکھتے ہیں، مختلف مذاہب اور نقطہ نظر کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ منقسم معاشرہ مشترکہ چیلنجز کا مؤثر حل پیش نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل آگاہی نوجوانوں کے لیے خلل نہیں بلکہ ایک موقع بن چکی ہے۔
یونیورسٹی نے بتایا کہ محدود مالی وسائل رکھنے والے باصلاحیت طلبہ کے لیے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ گزشتہ تعلیمی سال کے دوران پاکستان میں تمام کلاسز اور پروگرامز کے 72 فیصد طلبہ کو مالی امداد دی گئی۔

