Tag: کارگو طیارہ

  • کارگو طیارہ حادثہ:  نوجوان پائلٹ فیصل جتوئی کی زندگی کا سفر المناک فضائی موت

    کارگو طیارہ حادثہ:  نوجوان پائلٹ فیصل جتوئی کی زندگی کا سفر المناک فضائی موت

    فضائی حادثے میں جاں بحق پائلٹ فیصل جتوئی پاکستان کے نوجوان کمرشل پائلٹوں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے اپنی مختصر مگر کامیاب پیشہ ورانہ زندگی ہوابازی کے شعبے کے لیے وقف کر دی تھی۔

    7 جولائی 2026 کو شارجہ سے کراچی آنے والا کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737-400 کارگو طیارہ بحیرہ عرب میں گر کر تباہ ہوگیا۔ اس افسوسناک حادثے میں طیارے میں سوار فیصل جتوئی سمیت پانچوں عملے کے ارکان جاں بحق ہوگئے۔ حادثے نے نہ صرف متاثرہ خاندانوں کو غمزدہ کیا بلکہ پاکستان کی ہوابازی کی صنعت کو بھی ایک بڑا نقصان پہنچایا۔ حکام نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    فیصل جتوئی کی پیدائش 1996 کے قریب تعلقہ مورو کے گاؤں ٹوڑھا شریف کے قریب واقع نواں جتوئی میں کیپٹن ناظم الدین جتوئی کے گھر ہوئی۔ ان کے والد بھی جہاز کے کپتان تھے، اسی لیے فیصل کو بچپن ہی سے ہوابازی سے دلچسپی تھی۔

    انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں سے حاصل کی، جبکہ اعلیٰ ثانوی تعلیم کراچی سے مکمل کی۔ بعد ازاں بحریہ یونیورسٹی سے بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ پائلٹ بننے کے لیے انہوں نے کراچی اور ترکی کے شہر استنبول میں پیشہ ورانہ تربیت حاصل کی۔

    تربیت مکمل کرنے کے بعد فیصل جتوئی نے سرینا ایئرلائن میں شمولیت اختیار کی، جہاں وہ فرسٹ آفیسر کے طور پر مسافر طیارے اڑاتے رہے۔ اس دوران انہوں نے مشرق وسطیٰ کے مختلف فضائی راستوں پر پروازیں کیں۔ سرینا ایئرلائن بند ہونے کے بعد جنوری 2026 میں انہوں نے کے ٹو کارگو (K2 Cargo) میں فرسٹ آفیسر کے طور پر کام شروع کیا۔

    کے ٹو ایئرویز پاکستان کی ایک نجی کارگو ایئرلائن ہے، جس کا مرکزی دفتر کراچی میں واقع ہے۔ کمپنی کا قیام 2018 میں عمل میں آیا اور اس نے 2024 کے آخر میں باقاعدہ فضائی کارگو آپریشن شروع کیے۔ اس کا مقصد پاکستان اور بیرون ملک کے درمیان فضائی مال برداری کی سہولت فراہم کرنا ہے۔

    کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر طارق مجید راجہ ہیں، جنہوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانی ہونے کے ناطے اس ایئرلائن کی بنیاد رکھی۔ ابتدائی مرحلے میں کمپنی کے بیڑے میں ایک بوئنگ 737-400 مال بردار طیارہ شامل تھا، جس کے ذریعے ملکی اور بین الاقوامی کارگو پروازیں چلائی جا رہی تھیں۔

    حادثے والے دن پائلٹ فیصل جتوئی کے ٹو ایئرویز کی بوئنگ 737-400 کارگو پرواز KTA1732 میں فرسٹ آفیسر کی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔ یہ طیارہ متحدہ عرب امارات کے شہر شارجہ سے کراچی آ رہا تھا کہ دوران پرواز اسے نیویگیشن سے متعلق سنگین فنی خرابی پیش آئی۔ اس کے بعد طیارہ اورماڑہ بندرگاہ سے 53 ناٹیکل میل جنوب میں بحیرہ عرب میں گر کر تباہ ہوگیا۔ اس افسوسناک حادثے میں طیارے میں سوار پانچوں عملے کے ارکان جاں بحق ہوگئے۔

    فیصل جتوئی کی شادی 2022 میں سندھ کے تاجر امداد بلوچ کی پوتی اور سماجی رہنما غلام بنی بہرانی کی صاحبزادی سے ہوئی تھی۔ ان کے پسماندگان میں اہلیہ اور دو سالہ ایک بیٹا شامل ہیں۔

    ان کا خاندان تعلیم اور پیشہ ورانہ خدمات کے حوالے سے بھی نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ان کے والد جہاز کے کپتان رہے، بڑے بھائی ڈاکٹر نوید جتوئی کراچی میں ڈاکٹر ہیں، جبکہ دوسرے بڑے بھائی کینیڈا میں ہوابازی سے متعلق ایک کمپنی میں انجینئر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی ایک بہن امریکہ میں مقیم ہیں۔

    فیصل جتوئی کی اچانک وفات نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پاکستان کے ہوابازی کے شعبے کے لیے بھی ایک بڑا نقصان ہے۔