Tag: کارپوریٹ

  • زاویہ: کارپوریٹ فاشزم یا شہریوں کا حق ملکیت

    زاویہ: کارپوریٹ فاشزم یا شہریوں کا حق ملکیت

    پاکستان اس وقت معاشی بدحالی اور سیاسی عدم استحکام کے ایسے شدید بحرانوں کی زد میں ہے جہاں ریاست کا شیرازہ بکھرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

    ایک ایسے کٹھن وقت میں جب عام شہری بجلی کے بھاری بلوں، کمر توڑ مہنگائی اور سکیورٹی کی دگرگوں صورتحال سے بقا کی جنگ لڑ رہا ہے، وفاقی حکومت کی جانب سے پس پردہ ایک ایسے قانون کی تیاری کی جا رہی ہے جو نجی اور تجارتی کمپنیوں کو عام شہریوں کی ذاتی جائیدادوں پر زبردستی قبضہ کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

    ٹیلی کام کمپنیوں کو پانچ جی انٹرنیٹ کے پردے میں اور ‘رائٹ آف وے’ کے مبہم نام پر شہریوں کی مرضی کے بغیر ان کے مکانات، چھتوں یا زمینوں پر موبائل ٹاورز اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ نصب کرنے کی یہ کھلی چھوٹ ایک ایسے وفاقی بل کی شکل میں سامنے آئی ہے جس پر ہمارے بزرگوں کا وہ مشہور دیسی محاورہ بالکل صادق آتا ہے کہ

    ‘ایسا سونا ہی نہیں چاہیے جو کان ہی کاٹ ڈالے’

    ایک قانون کے طالب علم کی حیثیت سے اگر اس مجوزہ بل کا آئینی جائزہ لیا جائے تو یہ قانون اساسی کی روح پر براہ راست اور ایک مہلک حملہ محسوس ہوتا ہے۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 24 ہر شہری کو اپنی ذاتی جائیداد اور زمین رکھنے کا بنیادی حق دیتا ہے اور واضح الفاظ میں کہتا ہے کہ کسی بھی شخص کو اس کی ملکیت سے محروم نہیں کیا جائے گا۔

    اگر ریاست کسی بڑے عوامی مفاد جیسے سڑک، ہسپتال، ڈیم یا ملکی دفاع کے لیے کوئی زمین حاصل بھی کرتی ہے تو قانون حصول اراضی کے تحت مالک کو مارکیٹ ریٹ کے مطابق معاوضہ دینا اور اسے اعتماد میں لینا لازمی ہوتا ہے۔

    لیکن یہاں ریاست کا بھیس بدل کر معاملہ بالکل مختلف اور تشویشناک حد تک بھیانک ہے۔ یہ کوئی قومی دفاع یا جنگی ہنگامی صورتحال کا معاملہ نہیں کہ ریاست کسی فرد کی زمین وقتی طور پر اپنے قبضے میں لے لے۔ یہ خالصتاً ایک تجارتی اور کاروباری معاملہ ہے جس کی آڑ میں بین الاقوامی اور مقامی نجی ٹیلی کام کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے عوام کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

    یہ کمپنیاں عوامی فلاح کے ادارے نہیں بلکہ سالانہ اربوں روپے کا منافع کما کر اپنے حصص داروں کو منتقل کرنے والے تجارتی ادارے ہیں۔ ریاست کی طاقت کا استعمال کرکے ان نجی کارپوریٹ اداروں کو شہریوں کے گھروں اور املاک پر تصرف کا حق دینا آئینی اختیارات کا بدترین ناجائز استعمال اور کارپوریٹ فاشزم کی واضح مثال ہے۔

    مزید برآں یہ قانون آئین کے آرٹیکل 14 کی بھی کھلی نفی ہے جو ہر شہری کو گھر کی خلوت، رازداری اور چادر و چار دیواری کی حرمت کی آئینی ضمانت دیتا ہے۔ کسی غیر متعلقہ تجارتی کمپنی کے عملے کا زبردستی کسی کے نجی مکان میں داخل ہونا اور وہاں ایسی ہائی فریکوئنسی تنصیبات لگانا جن کی شعاعیں انسانی صحت، خصوصاً معصوم بچوں اور بزرگوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں، شہریوں کو ان کے اپنے ہی گھروں میں غیر محفوظ بنا دے گا۔

    حکومت کو یہ غلط فہمی اپنے ذہن سے فوراً نکال دینی چاہیے کہ عوام خاموشی سے اپنے بنیادی حقوق کا یہ قتل عام دیکھتے رہیں گے۔ پاکستان کے روایتی معاشرے میں زمین اور گھر صرف ایک مادی جائیداد یا اینٹ گارے کا ڈھیر نہیں بلکہ عزت، ناموس اور غیرت کی علامت ہیں۔

    اگر ایسی کوئی غیر آئینی قانون سازی زبردستی نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو عوام اپنی ذاتی جائیداد اور نجی خلوت گاہوں کو بچانے کے لیے اس کارپوریٹ یلغار کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں گے، جس سے ملک میں سول نافرمانی اور امن و امان کا ایک نیا اور پیچیدہ بحران جنم لے سکتا ہے۔

    ‘جب ریاستیں اپنے ہی شہریوں کے بنیادی حقوق کو سرمائے کی بھینٹ چڑھا دیتی ہیں تو قانون کی حکمرانی کا جنازہ نکل جاتا ہے’

    قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان کو اب یہ سمجھنا ہوگا کہ کارپوریٹ شعبے کو عام عوام پر فوقیت دینے کا یہ کھیل ملکی سالمیت کے لیے بارود کا ڈھیر ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر آج ٹیلی کام کمپنیوں کو یہ ماورائے آئین حق دے دیا گیا تو کل بااثر لینڈ مافیا، ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے مالکان اور نجی بجلی کمپنیاں بھی اسی قسم کی قانون سازی کا مطالبہ کریں گی۔

    وقت کا تقاضا ہے کہ پارلیمنٹ اس متنازع بل کو فوری طور پر مسترد کرے اور کمپنیوں کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ زبردستی کے بجائے باہمی رضامندی اور مارکیٹ کرایے کے مسلمہ اصول پر عمل کریں۔

    اگر ایوان بالا اور ایوان زیریں اس کارپوریٹ یلغار کو روکنے میں ناکام رہے تو پھر اعلیٰ عدلیہ پر یہ آئینی ذمہ داری عائد ہوگی کہ وہ عدالتی نظرثانی کے اختیار کے تحت اس قانون سازی کو آئین کی کسوٹی پر پرکھے اور اگر یہ آئین سے متصادم ہو تو اسے کالعدم قرار دے۔ پارلیمنٹ کو یاد رکھنا چاہیے کہ عوام نے انہیں ایوانوں میں قانون سازی کے لیے بھیجا ہے، اپنے حقوق کا سودا کرنے کے لیے نہیں۔