جیو اکنامکس کا نیا عالمی منظرنامہ اور سرمائے کی منطق
بین الاقوامی تعلقات اور جیو اکنامکس کا یہ ایک بنیادی، عالمگیر اور مسلمہ اصول ہے کہ سرمائے کا اپنا کوئی مخصوص مذہب، عقیدہ، جذباتی وابستگی یا مستقل سیاسی دوستیاں نہیں ہوتیں۔ سرمایہ کسی جذباتی بیانیے یا دفاعی احسانات کے عوض کسی ملک کا رخ نہیں کرتا، بلکہ وہ صرف دو بنیادی شرائط کا تقاضا کرتا ہے: سیاسی و پالیسی استحکام اور فیصلہ سازی کی غیر معمولی رفتار۔
ستمبر 2026 کے آغاز میں کابل کے مرمریں ایوانوں سے آنے والی ایک پیش رفت نے نہ صرف جنوبی ایشیا کے معاشی مبصرین کو حیران کر دیا ہے بلکہ خطے کے جغرافیائی سیاسی توازن اور غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق جاری روایتی مفروضوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔
کابل میں طالبان انتظامیہ کے وزرا، نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر اور سابق امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد کی موجودگی میں سعودی عرب کے معروف توانائی ادارے ‘ڈیلٹا انرجی انٹرنیشنل‘ اور افغان وزارت معدنیات و پٹرولیم کے درمیان ایک تاریخی، 25 سالہ طویل المدت توانائی معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔
یہ معاہدہ مغربی افغانستان کے اضلاع ہرات اور بادغیس میں پھیلے ہوئے 23,000 مربع کلومیٹر کے وسیع ‘کشک و ترپل‘ تیل و گیس کے بیسن کی تلاش، کھدائی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے متعلق ہے۔ ابتدائی طور پر 20 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری سے شروع ہونے والا یہ منصوبہ طویل المیعاد بنیادوں پر 50 سے 60 ارب ڈالر کے ایک دیوہیکل توانائی نظام میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
اس معاہدے میں نہ صرف ہرات شہر اور صنعتی پارک کے لیے گیس کی فراہمی کا فزیبلٹی فریم ورک شامل ہے بلکہ ہرات سے قندھار کی سرحدی چوکی سپن بولدک تک 700 کلومیٹر طویل ‘سنٹ گیس، خوش حالی کی راہداری‘ گیس پائپ لائن کے 10 ارب ڈالر کے فریم ورک کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
یہ زبردست تزویراتی پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان، ایک ایٹمی ملک ہونے کے باوجود، جو دہائیوں سے سعودی عرب کے باقاعدہ دفاعی اور سیکیورٹی فریم ورک کا ضامن رہا ہے، آج بھی ریاض سے خطیر سرمایہ کاری کی محض ‘یقین دہانیوں‘، پریس ریلیزوں اور غیر حتمی مفاہمتی یادداشتوں کے حصار اور چکر میں قید ہے۔
یہ شدید تضاد اس تلخ اور ناقابل تردید حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ کسی ملک کا اپنا اندرونی انتظامی نظام، سیاسی عدم استحکام، سرخ فیتہ شاہی اور معاشی اصلاحات کی سست روی بیرونی سرمایہ کاری کو تیز رفتاری سے زمینی حقیقت میں بدلنے کی راہ میں خود سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔
کابل کا ماڈل: سخت ترین بین الاقوامی تنہائی میں تیز رفتار فیصلے
افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کو اس وقت بدترین عالمی سفارتی تنہائی، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی سخت ترین پابندیوں اور انسانی حقوق، بالخصوص خواتین کی تعلیم اور روزگار پر پابندیوں کے حوالے سے عالمی برادری کی جانب سے شدید ترین تنقید کا سامنا ہے۔
ماضی قریب میں امریکہ نے طالبان کی جانب سے لیتھیم اور تانبے کی کانوں میں امریکی کمپنیوں کو دعوت دینے کی پیشکش کو بھی سیاسی اور حقوقی وجوہات کی بنا پر یکسر مسترد کر دیا تھا۔

