Tag: ژوب

  • ژوب: قلعہ سنڈیمن سے منسوب شیر جان کاکڑ کی داستان، جو لوک ادب کا حصہ بن گئی

    ژوب: قلعہ سنڈیمن سے منسوب شیر جان کاکڑ کی داستان، جو لوک ادب کا حصہ بن گئی

    اسی وقت جب پورا برصغیر سیاسی ہلچل کے طوفان میں تھا، آزادی کی تحریکیں زور پکڑ رہی تھیں، برطانوی راج اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے ہر ممکن طاقت استعمال کر رہا تھا، اور دوسری جنگِ عظیم نے عالمی سیاست اور معیشت کو ہلا کر رکھ دیا تھا،بلوچستان کے پہاڑی خطے میں ایک اور خاموش مگر گہری تاریخ لکھی جا رہی تھی۔

    یہ وہ دور تھا جب طاقت کا مرکز صرف دہلی یا کلکتہ نہیں تھا، بلکہ سرحدی اور پہاڑی علاقے بھی اس بڑے نوآبادیاتی نظام کے اہم ستون تھے۔ انہی ستونوں میں ایک نام فورٹ سنڈیمن (موجودہ ژوب) بھی تھا،جہاں پہاڑوں کے درمیان ایک قلعہ صرف عمارت نہیں بلکہ پورے علاقے پر نظر رکھنے کا ایک نظام تھا۔

    فورٹ سنڈیمن (رابرٹ سنڈیمن کا قلعہ)

    اس وقت فورٹ سنڈیمن ایک اہم برطانوی فوجی اور انتظامی مرکز تھا۔ انیسویں صدی میں برطانوی افسر رابرٹ سنڈیمن کی نگرانی میں یہاں پہاڑی پر ایک مضبوط قلعہ تعمیر کیا گیا تھا، جہاں تقریباً بیس ہزار فوجی ہر وقت تیار رہتے تھے۔ اس قلعے کے ساتھ ملحق اپو زی بازار اس پورے نظام کی معاشی شہ رگ تھا، جہاں روزانہ ہزاروں افراد اپنی روزی روٹی کے لیے سرگرم رہتے تھے، جبکہ مقامی آبادی چند سو نفوس پر مشتمل تھی۔ یہ علاقہ کوئٹہ سے ریل کی ایک تنگ پٹری کے ذریعے منسلک تھا۔

    موجودہ ژوب میں، بلند پہاڑیوں اور گھنے درختوں کے درمیان، ایک کشتی نما پہاڑی پر قائم کمشنر آفس موجود ہے۔ یہ جگہ اپنی بلندی کی وجہ سے پورے علاقے پر یوں نظر رکھتی ہے جیسے زمین خود کسی نگرانی میں ہو۔

    اسی عمارت کے اندر ایک چھوٹا سا میوزیم ہے۔ باہر سے خاموش، مگر اندر داخل ہوتے ہی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وقت نے اپنی رفتار روک دی ہو۔

    میوزیم میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے ایک پشتون نوجوان کا مجسمہ سامنے آتا ہے۔ روایتی شلوار قمیص، کمر پر بندھی مضبوط بیلٹ، سر پر بھاری پشتون پگڑی، اور ہاتھوں میں ایک لمبی بندوق،جو سامنے کی طرف اس طرح تن ہے جیسے لمحہ وہیں جم گیا ہو۔

    بندوق کی نلی سیدھی آگے کی طرف ہے، جیسے وقت کو چیر رہی ہو۔ سامنے کرسی پر بیٹھا برطانوی نوآبادیاتی انتظامیہ کا اعلیٰ افسر میجر ہنفرے آسٹن بارنز (میجر برنس) اپنے دفتر میں تھری پیس سوٹ، بلیک کوٹ اور ٹائی میں پورے سرکاری وقار کے ساتھ بیٹھا دکھائی دیتا ہے۔

    مگر اس پورے رسمی منظر میں ایک چیز سب کچھ بدل دیتی ہے،ان کے سینے پر گولی کا نشان اور سفید شرٹ پر پھیلا ہوا سرخ داغ۔

    اسی ہال میں ایک اور پشتون نوجوان کا مجسمہ بھی ہے جو دوڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جیسے وہ کسی ایسے لمحے میں پھنس گیا ہو جو ابھی مکمل نہیں ہوا۔

    میجر برنس کے سامنے رکھی لکڑی کی میز صرف ایک میز نہیں بلکہ ایک پورا دور اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ اس پر باریک پھولوں کے نقوش سے مزین کنگھی موجود ہے، اسی نفاست سے تراشی گئی لکڑی کے فریم میں جڑی ایک آئینہ نما سطح ہے جس کے سامنے والی طرف سے عکس صاف نظر آتا ہے جبکہ پشت پر باریک پھولوں کی کاریگری کندہ ہے۔

    میز پر برطانوی دور کے بیجز اپنی سلطنتی نقش و نگار کے ساتھ رکھے ہیں، ایک طرف شطرنج کا سیٹ ہے جس کے کچھ مہرے بکھرے ہوئے ہیں، جیسے کھیل درمیان میں رک گیا ہو۔ پرانا ٹیلیفون، لیمپ اور میجر برنس کے خاندان کی سیاہ و سفید تصاویر اس پورے منظر کو ایک خاموش گواہی میں بدل دیتی ہیں۔ یہ سب اشیا خاموش ہیں، مگر ان کی خاموشی بولتی ہے۔

    میجر برنس کو کیوں قتل کیا گیا؟

    یہ سوال ایک سادہ واقعے سے زیادہ ایک پورے دور کی پیچیدہ حقیقت کو سامنے لاتا ہے۔ 4 اکتوبر 1940 کو پیش آنے والے اس واقعے کے بارے میں مختلف روایات موجود ہیں۔ ایک روایت کے مطابق شیرجان کاکڑ کی ملازمت سے برطرفی اور واجب الادا تنخواہ کا مسئلہ بنیادی تنازع تھا، جو وقت کے ساتھ تلخی میں بدل گیا اور بالآخر ایک تصادم کی صورت اختیار کر گیا۔

    ڈاکٹر برکت شاہ کاکڑ کے مطابق یہ واقعہ صرف ایک ذاتی جھگڑا نہیں بلکہ اس نوآبادیاتی نظام کی ساختی خامیوں کا نتیجہ تھا، جہاں پولیٹیکل ایجنٹ کے نظام میں فیصلے اوپر سے نازل ہوتے تھے اور مقامی شکایات اکثر سننے کے بجائے دباؤ میں بدل جاتی تھیں۔ ان کے بقول ایسے نظام میں ایک چھوٹا سا مسئلہ بھی اجتماعی مزاحمت اور بڑے تاریخی واقعات میں بدل سکتا ہے، اور یہی کیفیت اس واقعے میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

    میجر ہنفرے آسٹن بارنز اور شیرجان کاکڑ۔

    ‘شیرجان کاکڑ کا تعلق جوگیزی، کاکڑ قبیلے سے تھا۔ ان کے بارے میں پشتو لوک ادب میں بہت سی نظمیں اور ٹپے بھی ملتے ہیں۔ اس وقت ان کا میجر برنس کے ساتھ کوئی مالی یا انتظامی تنازع تھا۔ وہ اس معاملے کے لیے یہاں آئے تھے، لیکن بعد میں یہ معاملہ فائرنگ تک جا پہنچا جس میں میجر برنس ہلاک ہوئے۔ بعد ازاں شیرجان کو گرفتار کیا گیا اور انہیں سزا بھی دی گئی۔’

    میجر ہنفرے آسٹن بارنز برطانوی نوآبادیاتی دور کے ایک اعلیٰ افسر تھے جو مختلف علاقوں میں انتظامی ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔ وہ وزیرستان اور بعد ازاں فورٹ سنڈیمن میں پولیٹیکل ایجنٹ کے طور پر تعینات رہے، جہاں وہ مقامی سیاسی و انتظامی معاملات پر براہ راست اثر رکھتے تھے۔

    جب کہ شیرجان کاکڑ ژوب کے رود جوگیزی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی نوجوان تھے جن کا نام اس واقعے کے بعد لوک روایت اور تاریخ میں ایک علامت بن گیا۔ مختلف روایات انہیں کبھی ایک ملازم اور کبھی ایک مزاحمتی کردار کے طور پر پیش کرتی ہیں، جن کے گرد یہ پورا تاریخی بیانیہ تشکیل پایا۔

    چار اکتوبر 1940

    اسی روز فورٹ سنڈیمن میں ایک واقعہ پیش آتا ہے جس نے بعد میں اس خطے کی تاریخ اور لوک روایت میں مستقل جگہ بنا لی۔ شیرجان کاکڑ نے پولیٹیکل ایجنٹ میجر برنس کو ان کے گھر میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا، اور اس واقعے کے دوران مزید ہلاکتیں بھی ہوئیں۔

    فائرنگ کے بعد وہ پہاڑی سے اتر کر فرار ہو گئے۔

    اس واقعے کے بعد وہ گرفتار ہوئے، مقدمہ چلا، اور 8 دسمبر 1940 کو انہیں مچھ جیل میں سزائے موت دی گئی۔ روایت کے مطابق آخری لمحے میں انہوں نے سگریٹ سلگانے کی خواہش ظاہر کی۔

    جس پر آٓج بھی پشتو کا یہ ٹپہ مشہور ہے۔

    چه پانسي ته ئې خېژاوه شېرجان سګرېت ولګاوو

    ترجمہ: جب شیرجان کو پھانسی دی جا رہی تھی تو انہوں نے سگریٹ سلگایا، جو ان کے حوصلے اور بے خوفی کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

    ستا پانسي پرمچ ولاړه زه دې لار ګورم شېرجانه

    ترجمہ: تمہیں مچھ جیل میں پھانسی دی جائے گی، اور میں یہاں تمہارے راستے کا انتظار کر رہی ہوں۔

    ان پشتو اشعار سے واضح ہوتا ہے کہ شیرجان کاکڑ کا کردار صرف ایک تاریخی شخصیت نہیں رہا بلکہ پشتو لوک ادب میں وہ مزاحمت، غیرت، دکھ اور اجتماعی شناخت کی علامت بن گئے ہیں۔ ان نظموں میں واقعہ کو مختلف زاویوں سے بیان کیا گیا ہے،کہیں تنہائی کا دکھ، کہیں بہادری کی تعریف، اور کہیں نظام کے خلاف ایک علامتی احتجاج۔

    یوں یہ واقعہ وقت کے ساتھ صرف ایک تاریخی حادثہ نہیں رہا بلکہ ایک ایسا بیانیہ بن گیا جس میں تاریخ، لوک روایت اور اجتماعی یادداشت ایک دوسرے میں ضم ہو کر ایک مسلسل کہانی کی صورت اختیار کر گئے۔

    اور یہی سلسلہ صرف شیرجان کاکڑ تک محدود نہیں رہتا۔ پشتو ادب، تاریخ اور لوک کہانیوں میں آج بھی ہمیں ایسی بے شمار مثالیں ملتی ہیں،مردوں اور عورتوں کی، جن کے نام وقت کے ساتھ مختلف صورتوں میں محفوظ ہو گئے ہیں۔ ہر کردار کے پس پردہ ایک مضبوط، گہری اور زندہ کہانی چھپی ہوتی ہے، جو صرف ماضی نہیں بلکہ آج کی یادداشت کا بھی حصہ بنی رہتی ہے۔